پشاور کا صحافی سات سو روپے یومیہ دیہاڑی پر مجبور

یہ کہانی ہے پشاور کے مقامی صحافی اور کورٹ رپورٹر شاکر اللہ کی جنہوں نے 90 کی دہائی میں صحافت کو بطور پیشہ اپنایا۔

ہم آمنے سامنے ایک ہی ڈیسک پر بیٹھا کرتے تھے۔ مجھے جب کبھی عدالت کی کسی خبر کی اصطلاح کی سمجھ نہیں آتی تھی تو میں ان سے رجوع کرتا۔ تقریباً تین دہائیوں تک صحافت کے شعبے سے منسلک رہے لیکن ڈھائی سال پہلے بغیر کسی وجہ کے اچانک نوکری سے برطرف کر دیئے گئے۔ اب ان کے گھر کا حال یہ ہے کہ نوبت فاقوں تک آ پہنچی ہے۔ کنبے کے آٹھ افراد  کا پیٹ پالنے کے لیے وہ مجبوراً سات سو روپے یومیہ دیہاڑی پر سخت محنت مزدوری کرتے ہیں۔

یہ کہانی ہے پشاور کے مقامی صحافی اور کورٹ رپورٹر شاکر اللہ کی جنہوں نے 90 کی دہائی میں صحافت کو بطور پیشہ اپنایا۔

  47 سالہ شاکر اللہ کو بچپن سے صحافت کا شوق تھا۔ وہ اس دور میں صحافت کے پیشے سے منسلک ہوئے جب پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا دور دورہ تھا اور ان دنوں پشاور سے چند ہی مقامی اخبارات شائع ہوتے تھے۔

انہوں نے اردو کے ایک رسالے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پھر مختلف قومی اور مقامی اخبارات میں بطور رپورٹر کام کیا۔

شاکر اللہ کئی سال تک پشاور کے سب سے بڑے اور مشہور اخبار روزنامہ مشرق سے بھی بطور کورٹ رپورٹر منسلک رہے۔

تاہم جب ان کی نوکری ختم ہوئی تو اس وقت وہ پشاور کے ایک اور مقامی روزنامہ اخبار خیبر کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

شاکر اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی اہلیہ کی طبعیت خراب تھی وہ انہیں ہسپتال لے کر گئے تھے جب انہیں دفتر سے فون پر نوکری سے برطرفی کی اطلاع دی گئی۔

’مجھے دفتر سے کال آئی  کہ مجھے ادارے سے نکال دیا گیا، میں نے کہا کہ میں تو ہسپتال میں ہوں میری بیوی بیمار ہے، جواب ملا کہ جو بھی ہے لیکن اب اپ کی نوکری نہیں رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک سال تک وہ مسلسل نوکری ڈھونڈنے کے لیے مختلف دفاتر کے چکر کاٹتے رہے لیکن کہیں کوئی موقع نہ ملا لہذا مجبوراً مزدوری شروع کر دی۔

’ پہلے میں مکانات کی تعمیر میں استعمال ہونے والا سریہ سیدھا کرنے کا کام کرتا تھا کیونکہ اس میں دیہاڑی اچھی تھی، روزانہ ہزار، 12 سو روپے کما لیا کرتا تھا لیکن وہ کام بہت سخت تھا  اور اوپر سے پشاور کی شدیدگرمی، چونکہ میں بیمار بھی ہوں لہذا وہ کام چھوڑنا پڑا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاکر اللہ کچھ عرصے سے ذیابطیس اور بلند فشار خون ( بلڈ پریشر) کے مرض میں مبتلا رہے ہیں  جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں بھی زیر علاج رہے۔

انہوں نے کہا کہ بیماری کی وجہ سے وہ ہفتے میں تین یا چار دن دیہاڑی کا کام کرتے ہیں، اس کے علاوہ دوست احباب بھی کبھی کبھی مدد کرتے ہیں جس سے گزارہ چل رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں دیہاڑی کا کام ملنا مشکل ہوتا ہے جبکہ کرونا کی وجہ سے بھی لوگوں نے تعمیرات بند کر دی ہیں جو ایک اور مسئلہ ہے۔

شاکر اللہ کے سات بچے ہیں جس میں چھ بیٹیاں اور سب سے چھوٹا ایک بیٹا شامل ہے۔

ان کی تین بڑی بیٹیاں ساتویں اور چھٹی جماعت میں زیر تعلیم تھیں لیکن والد کا کوئی مستقل روزگار نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سکول کی فیس ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا لہذا تینوں اب سکول چھوڑ چکی ہیں۔

شاکر اللہ کے مطابق وہ گذشتہ 30 سال سے اس شعبے میں ہیں اور اس دوران کئی مرتبہ بے روزگار ہوئے لیکن تین چار دن کے بعد ہی انہیں کسی دوسرے اخبار میں کام مل جایا کرتا تھا لیکن اتنے سخت حالات کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جو آج کل میڈیا اور صحافیوں کو درپیش ہیں۔

 ’دفتر کا ماحول کبھی کبھی یاد آتا ہے جب ہم بیٹھ کر خبریں بنایا کرتے تھے، اب بھی میں رات کو گھر میں بیٹھ کر درخواستیں لکھتا رہتا ہوں، کبھی اپنی یاداشتیں لکھتا ہوں، لکھنے کا اپنا شوق اس طرح پورا کرتا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی