جسٹس فائز عیسیٰ کی درخواست میں سب سے اہم نقطہ کیا ہے؟

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف کرپشن ریفرنس سے متعلق عدالت عالیہ کے فیصلے پر اضافی نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی نظر ثانی کی درخواست کی عدالتی کارروائی کو ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے کی استدعا کی ہے (تصویر: سپریم کورٹ)

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف کرپشن ریفرنس سے متعلق عدالت عالیہ کے فیصلے پر جمعے کو اضافی نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔

جسٹس عیسیٰ نے نظرثانی کی درخواست میں دعویٰ کیا کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان کو بتایا تھا کہ صدارتی ریفرنس کا مقصد انہیں جج کی حیثیت سے استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے ایسا انہیں سپریم کورٹ کی عمارت کے سبزہ زار میں چہل قدمی کے دوران ذاتی طور پر بتایا۔

سپریم کورٹ کے جج نے اپنی نظر ثانی کی درخواست کی عدالتی کارروائی کو ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے کی استدعا بھی کی۔ انہوں نے نظر ثانی کی درخواست 10 رکنی بینچ کے ذریعے سنے جانے کی درخواست کرتے ہوئے اس میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰی آفریدی کو شامل کرنے کی استدعا بھی کی۔

نظر ثانی درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ سرکاری عہدے داروں نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف پراپیگنڈہ کیا، انہیں اور ان کی اہلیہ کو ایف بی آر کی رپورٹ فراہم نہیں کی گئی اور وہ رپورٹ میڈیا کو لیک کی گئی۔

جسٹس عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کے بعض پیرا گرافوں پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے انہیں واپس لیے جانے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ فیصلے کے نتیجے میں عدلیہ کی آزادی کو ایگزیکٹو کے ہاتھ میں دے دیا گیا اور ایسا کرنا آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے کئی عہدے داروں کی بیرون ملک جائیدادوں کا ذکر کیا گیا اور اس سلسلے میں سید ذوالفقار عباس بخاری، شہزاد اکبر، یار محمد رند، ندیم بابر، عاصم سلیم باجوہ، شہباز گل، فیصل واوڈا اور عثمان ڈار کے نام شامل ہیں۔ انہوں نے بعض حکومتی عہدے داروں کی بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیلات درج کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ افراد کے بیرون ملک جائیدادوں کا ٹیکس ریٹرنز میں معلومات موجود نہیں۔

ادھر سپریم کورٹ نے جسٹس عیسی کی اضافی نظر ثانی کی درخواست کی سماعت پیر، آٹھ دسمبر کے لیے مقرر کر لی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ درخواست کی سماعت کرے گا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے چھ رکنی بینچ تشکیل دے کر جسٹس عیسیٰ کی 10 رکنی بینچ کے سامنے شنوائی کی استدعا قبول نہیں کی۔

ماہرین کی رائے

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر وکیل عمران شفیق نے کہا کہ جسٹس عیسیٰ کی درخواست میں سب سے اہم نقطہ 10، سات اور تین ججوں کے فیصلوں میں تضادات کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نظر ثانی درخواست کو اسی نقطے کی روشنی میں دیکھے گی۔ ’اسی نقطے کے باعث جسٹس عیسیٰ نے درخواست کی سماعت کے لیے 10 رکنی بنچ تشکیل دیے جانے کی استدعا کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس آصف سعید کھوسہ سے متعلق انکشاف کے بارے میں عمران شفیق کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس اس گفتگو کا کچھ ذکر اپنے ایک فیصلے میں پہلے ہی کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس عیسیٰ نے نظرثانی درخواست میں گفتگو کے جس حصے کا ذکر کیا وہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ جسٹس عیسیٰ نے یہ گفتگو پہلے عدالت کو کیوں نہیں بتائی اور اب کیوں بتا رہے ہیں؟ ’ان سوالات کے باعث دو ججوں کے درمیان گفتگو کے اس مخصوص حصے کا انکشاف غیر اہم ہو کر رہ گیا ہے اور اس سے مقدمے کے میرٹ پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔‘

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل عارف چوہدری اس حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ انکشاف ہے، تاہم ان کے خیال میں اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

جسٹس عیسیٰ کی مقدمے کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست سے متعلق عمران شفیق کا کہنا تھا کہ ’ایسا ساری دنیا میں ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی ہونا چاہیے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور سپریم کورٹ اس سلسلے میں جسٹس عزیز صدیقی کی ایک درخواست منظور بھی کر چکی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان