اس مہینے وہ نظارے دیکھیں جو ہم نے صدیوں سے نہیں دیکھے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ مشتری اور زحل کے ساتھ ساتھ  شاید ہم ہمیشہ سے فلکی راز رہنے والے بیت الحم ستارے کو بھی دکھ سکیں۔

21 دسمبر کی اہم تاریخ کو آپ جنوب مغربی افق پر کسی رکاوٹ کے بغیر صاف آسمانوں میں سب سے قیمتی چیز کو دیکھ سکیں گے (تصویر: بشکریہ  رسل کرو مین)

ناسا کی جاری کردہ مشتری اور زحل کی تصاویر تو یقینی ہوں گی لیکن اس بار آپ بیت الحم ستارے کی تصویر بھی دیکھ سکیں گے۔

اس ماہ ہم ایسے نظارے دیکھیں گے جو ہم نے صدیوں سے نہیں دیکھے اور جو شاید ہمیشہ سے فلکی راز رہنے والے بیت الحم ستارے کو بھی ظاہر کر دے، جسے کرسمس سٹار بھی کہا جاتا ہے۔

اس سے بھی اچھی بات یہ ہو گی آپ کو یہ دیکھنے کے لیے دور بین کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بس 21 دسمبر کی اہم تاریخ کو آپ جنوب مغربی افق پر کسی رکاوٹ کے بغیر صاف آسمانوں میں سب سے قیمتی چیز کو دیکھ سکیں گے۔

کئی ماہ سے شام کے وقت خوبصورت سیارہ مشتری جنوب مغربی افق پر لہراتا نظر آتا ہے جبکہ اس کا ساتھی زحل اس کی بائیں جانب ہوتا ہے اور یہ دونوں دو آنکھوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ اس دسمبر خلائی دنیاؤں پر نظر رکھیں اور آپ کو مشتری زحل کے اوپر جھکتا دکھائی دے گا۔

21 دسمبر کی شام کو یہ دونوں ستارے تقریباً متوازی ہوں گے۔ پہلی نظر میں آپ کو لگے گا کہ یہ دونوں یکجا ہو کر ایک چمکدار ستارے میں تبدیل ہو چکے ہیں لیکن دوربین کی مدد سے غور سے دیکھیں گے تو زحل آپ کو مشتری کے چاند کے پانچویں حصے کے برابر جھکتا نظر آئے گا۔ زندگی میں پہلی بار ٹیلی سکوپ حاصل کرنے کی کوشش کریں اور مشتری اور اس کے چار چاند دیکھیں اور ان کے ساتھ اسی منظر میں زحل کے دمکتے دائروں کو ملاحظہ کریں۔

جب میں کہتا ہوں کہ 'زندگی میں ایک بار' تو یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ آخری بار جب یہ سیارے اتنے قریب تھے تو یہ جولائی 1623 کی بات ہے۔ اس وقت تو مشتری اور زحل افق پر کافی نیچے تھے، تو اس وقت کے کسی ماہر نجوم کو انہیں دیکھنے کے لیے جدید ٹیلی سکوپ کا استعمال کرنا پڑتا۔

مشتری اور زحل کے ایک دوسرے کے اوپر واضح نظارے کے لیے ہمیں سال 1226 میں واپس جانا ہو گا۔ اس وقت صبح کے اوقات میں یہ سیارے رواں ماہ سے بھی سے زیادہ قریب ہوں گے اور بالکل ایسے دکھتے ہوں گے جیسے یہ آپس میں مدغم ہو چکے ہیں۔ افسوس کے ساتھ ہمارے پاس 1226 یا 1623 کے شاندار ملاپ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں آغاز میں بیت الحم ستارے کے راز کے حل میں الجھ گیا، یہ بہت زبردست ہوتا، اگر میں یہ انکشاف کر سکتا کہ مشتری اور زحل ایک دوسرے میں ضم ہو گئے ہیں اور ایسا نظارہ بائبل کی جادوئی پیش گوئیوں کے مطابق ہوتا۔

لیکن افسوس کہ اس وقت یہ دونوں سیارے اتنے قریب نہ آ سکے۔ گو کہ سات قبل از مسیح میں مشتری اور زحل نے ایک غیر معمولی عمل میں حصہ لیا۔ وہ پاس آئے اور پھر دور ہو گئے اور ایسا تین بار ہوا۔ گو کہ اپنے قریب ترین فاصلے میں بھی یہ دونوں سیارے ایک دوسرے سے چاند کے مکمل قطر سے دو گنا دور تھے۔

یہ تین بار کا ملاپ دیکھنے کے لیے ایک شاندار نظارہ ہوتا لیکن جادوئی نظر سے یہ بہت خطرناک ہوتا۔ ان کے ناموں کا درست ترین مطلب 'عقل مند حضرات' کے قریب ترین نہ ہوتا جیسے کہ 'ماہر علم نجوم' ہے۔ (ماجی کا لفظ جادو اور جادو گر کی بنیاد ہے۔)

مشتری سیاروں کا بادشاہ تھا اور زحل تقدیر کا سیارہ تھا، جبکہ ان دونوں کا سنگم حوت کے عقب میں ہوا تھا جسے یہودیوں کے لیے ایک جھرمٹ قرار دیا جاتا ہے۔ تو یہ واقعہ یہودیوں کے نئے بادشاہ کی پیدائش کی نشاندہی اور ایک نئے دور کا آغاز تھا اور جادو اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا۔

بیت الحم ستارے کے بارے میں پائے جانے والے بہت سے مفروضوں میں سے یہ ایک ہے۔ کئی میں دمدار ستارے کا ذکر ہے، کچھ اسے شہاب ثاقب کی بارش یا کوئی ٹوٹا ہوا ستارہ قرار دیتے ہیں۔ کئی برسوں تک جاری رہنے والی تحقیق کے بعد مجھے تسلیم کرنا ہو گا کہ میں ان میں سے کسی کو قابل یقین نہیں سمجھتا۔

 لیکن آپ کرسمس سے چار دن پہلے آسمان کو غور سے دیکھیں۔ آپ کو شاید ان دونوں سیاروں کا رقص نظر آئے گا یا دور صحرا میں تنہا موجود بیت الحم ستارہ۔

کیا ہو رہا ہے؟

مشتری اور زحل کے سنگم کے حوالے سے پائے جانے والے جوش سے دور ایک اور سیارہ شام کے وقت ہمارے آسمان کو چمکا رہا ہے۔ شام کے وقت مریخ افق کی جنوبی سمت سرخی مائل روشنی کے ساتھ چمک رہا ہے۔

سرخ سیارے کی بائیں جانب آپ چمکتے ستاروں کا ایک اور جھرمٹ دیکھیں گے۔ سات ستاروں کا یہ جھرمٹ سات بہنیں کہلاتا ہے لیکن تیز نظر رکھنے والے افراد ان کے قریب ہی درجن بھر اور ستارے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ستاروں کے بارے میں پرانے گوشواروں کے مطابق یہ سات ستارے سیارے ثور کے کاندھے پر موجود ہیں۔ اس کے سر کے گرد مزید ستاروں کا جھرمٹ موجود ہے جسے ہائیڈیس کہتے ہیں، جن کے درمیان غصیلے بیل کی آنکھ جیسا نارنجی ستارہ الدیبران موجود ہے۔

اس کے نیچے بائیں جانب اوریون اب شام کے وقت میں جگمگا رہا ہے۔ گریٹ ہنٹر بیلٹ کے تین چمکتے ستارے جبکہ سرخ ستارہ بیٹل گویز اس کے کاندھے کی سمت ہے جبکہ نیلگوں رنگ کا ریگل اس کی عقبی سمت موجود ہے۔

ایک بار پھر بائیں جانب کاسٹر اور پولکس ہیں جو کہ برج جوزا کے جڑواں ستارے ہیں۔ دسمبرکی 13 یا 14 تاریخ کی رات کو ہم ان کے قریبی مقام سے شہاب ثاقب کی برسات دیکھیں گے۔ جوزا کے یہ ستارے ایک سیارچے پائیتھون کی گرد سے خارج ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے ماحول کو متاثر کرنے تک جلتے رہتے ہیں۔

یہ ایک ایسی رات ہو گی جس کے لیے سردی کو برداشت کرنا بھی مناسب رہے گا۔ جوزا کے ستاروں سے شہاب ثاقب کی برسات ایک شاندار نظارہ ہو گا اور اس دوران ہر منٹ کے بعد ان میں سے کئی آسمان کو روشن کریں گے۔

آپ کو 14 دسمبر کو مکمل سورج گرہن دیکھنے کے بعد سب سے بڑا فلکی واقعہ دیکھنے کے لیے سفر کرنا ہو گا۔ یہ صرف انٹارکٹک کے جزیرے سے دیکھا جا سکے گا جو کہ جنوبی سمندر کی دوسری جانب ہے لیکن جنوبی امریکہ میں بھی جزوی گرہن دیکھا جا سکے گا۔

گھر واپس آتے ہیں اگر آپ صبح سے پہلے اٹھ جاتے ہیں تو زہرہ جنوب مشرق میں صبح ساڑھے پانچ بجے ایک چمکدار ستارے کے طور پر موجود ہو گا۔

ڈائری:

تین دسمبر: چاند کاسٹر اور پولکس کے قریب

چھ دسمبر: چاند ریگولوس کے قریب

آٹھ دسمبر: بارہ بجکر 36 منٹ، چاند کا ایک چوتھائی حصہ

12 دسمبر: صبح کے وقت چاند زہرہ کے قریب

13/14 دسمبر: جوزا کے ستاروں سے شہاب ثاقب کی بارش

14 دسمبر: سہہ پہر چار بجکر 16 منٹ: نیا چاند مکمل سورج گرہن

14 دسمبر: چاند مشتری اور زحل کے قریب

21 دسمبر: دوپہر گیارہ بجکر 41 منٹ: چاند کا پہلا حصہ، سرما کا چھوٹا دن، مشتری اور زحل بہت زیادہ قریب

23 دسمبر: چاند مریخ کے قریب

26 دسمبر: چاند پلائڈیس کے قریب

27 دسمبر: چاند پلائڈیس اور الدےبران کے درمیان

30 دسمبر: صبح تین بجکر 28 منٹ پورا چاند کاسٹر اور پولکس کے قریب

31 دسمبر: چاند کاسٹر اور پولکس کے قریب

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس