فرانس: شدت پسندی کے خلاف نیا قانون متنازع کیوں؟

رواں برس 16 اکتوبر کو پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے والے تاریخ کے ایک استاد کے سر قلم کرنے کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے مذہبی شدت پسندوں کے خلاف جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کو فرانس میں حملوں کے سلسلے کے بعد 'اسلامی شدت پسندی' کے خلاف قانون کی منظوری کے لیے اپنی کابینہ کی حمایت درکار ہے، جس کا مجوزہ مسودہ بحث کے لیے کابینہ کے سامنے بدھ کو پیش کیا گیا، تاہم ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

میکروں کا کہنا ہے کہ فرانس کے سخت سیکولر نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اس قانون سازی کی ضرورت ہے لیکن اس منصوبے نے یورپ کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی کو لاحق معاشرتی دباؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

فرانسیسی وزیر اعظم جین کاسٹیکس نے بدھ کے روز اخبار لی مونڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'شدت پسند اسلام، جمہوریہ فرانس کا دشمن نظریہ ہے جس کا مقصد فرانسیسیوں کو تقسیم کرنا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بجائے اس کا مقصد 'مسلمانوں کو بنیاد پرستی کے چنگل سے آزاد کروانا ہے۔'

بدھ کو صدارتی محل ایلسی پیلس میں کابینہ کے اجلاس میں اس قانون سازی پر تبادلہ خیال کے بعد وزیراعظم کاسٹیکس نتائج کا اعلان کریں گے۔

اس بل کا اصل عنوان 'علیحدگی پسندی کے خلاف' تھا، یہ اصطلاح صدر ایمانوئل میکروں کی جانب سے انتہائی قدامت پسند مسلمانوں کو مرکزی دھارے میں شامل معاشرے سے علیحدگی کے لیے استعمال کی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اس لفظ پر تنقید کے بعد اب اسے 'جمہوری اقدار کو مستحکم کرنے کے لیے مسودہ قانون' کہا جا رہا ہے۔

رواں برس 16 اکتوبر کو فرانس میں تاریخ کے ایک استاد کے سر قلم کرنے کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے مذہبی شدت پسندوں کے خلاف جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قتل ہونے والے استاد نے اپنی کلاس میں آزادی اظہار پر کی جانے والی بحث کے دوران اپنے طلبہ کو پیغمبر اسلام کے خاکے دکھائے تھے۔

میکروں کچھ مسلمان ممالک میں قابل نفرت شخص کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جبکہ کئی ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام کو 'بحران کا شکار مذہب' قرار دیا گیا تھا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے اس مسودہ قانون کو 'کھلی اشتعال انگیزی' قرار دیا گیا ہے جبکہ مصر کے ممتاز اسلامی ادارے جامع الازہر کے ماہرین نے میکروں کے خیالات کو 'نسل پرستانہ' قرار دیا ہے۔

اس مجوزہ قانون میں ہے کیا؟

ہوم سکولنگ:

ابتدائی طور پر حکومت نے  تین سال کی عمر سے زائد کے بچوں کے لیے ہر قسم کی ہوم سکولنگ پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن بعض طبی وجوہات کی بنا پر اس کی اجازت دی جا سکتی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ مسلمان بچوں خاص طور پر بچیوں کو شدت پسند سکولوں میں بھیجا جا رہا تھا اور فرانسیسی صدر میکروں کے مطابق ‘یہاں صرف نماز اور چند مخصوص چیزیں پڑھائی جاتی ہیں۔'

حکومت نے اپنے ابتدائی منصوبے سے پیچھے ہٹتے ہوئے اس کی اجازت دے دی ہے لیکن اب والدین کو اس کے لیے حکومت سے اجازت طلب کرنی ہوگی اور حکومت اس درخواست کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

ہوم سکولنگ والے ہر بچے کو ایک قومی شناختی نمبر دیا جائے گا جو کہ سکول جانے والے بچوں کو پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ ایسا حکام کی جانب سے ان بچوں کو تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے گیا جا رہا ہے۔

آن لائن نفرت انگیز مواد:

اس قانون سازی کے تحت کسی شخص کی ذاتی زندگی، اہل خانہ یا پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں معلومات پھیلانا جس سے ان کی شناخت ممکن ہو اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو اس جرم کی سزا تین سال کی قید اور 45 ہزار یورو تک جرمانہ ہے۔

ابتدائی مسودے کے مطابق اگر ایسا کسی عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کے بارے میں کیا جاتا تو یہ سزا اور بھی سخت ہو سکتی ہے۔

مذہبی عبادات کی نگرانی:

مذہبی گروہوں کو دس ہزار یورو سے زائد کے عطیات کو ظاہرکرنا ہو گا۔ اس کا مقصد مذہبی مقامات پر بیرونی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا ہے۔

مقامی انتظامیہ کو مذہبی مقامات کو عارضی طور پر بند کرنے کا اختیار بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد کسی شخص یا قوم کے خلاف ان کی نسل، مذہبی عقائد، جنسی رجحان اور صنف کی بنیاد پر پائے جانے والے تعصب، نفرت، تشدد  کو روکنا ہے۔

رابطوں کی نگرانی:

کوئی بھی ایسا گروپ یا ادارہ جو حکومتی سبسڈی طلب کرے گا، اس سے جمہوری اقدار کے احترام کے معاہدے پر دستخط کرنے کا کہا جائے گا اگر وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کو دیے جانے والی رقم زبردستی واپس وصول کی جائے گی۔

کسی ادارے یا تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے کی جانے والی کسی کارروائی پر اس ادارے یا گروپ کی سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔

خواتین کی عزت:

ان قوانین کا ایک بڑا مقصد عوام باالخصوص خواتین کی عزت کو یقینی بنانا ہے۔ ڈاکٹرز پر خواتین سے کنوارے پن کا سرٹیفیکٹ طلب کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ زبردستی کی شادی اور ایک سے زائد شادیوں پر بھی ریاست کو مزید اختیار دیا جائے گا۔ فرانسیسی حکومت لڑکیوں کو شادی کے بعد عاق کرنے جیسے اقدامات بھی روکنا چاہتی ہے۔

سیکولرزم:

کسی بھی شخص یا ادارے کو (جس میں نجی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو ریاستی خدمات فراہم کر رہی ہیں) 'سیکولرزم کے اصولوں کا احترام اور عوامی خدمات کی غیر جانبداری کو یقینی' بنانا ہو گا۔

جس کا مطلب ہے کہ پبلک سوئمنگ پولز میں اب مذہبی بنیادوں پر خواتین اور مردوں کے لیے الگ وقت مقرر کرنے پر پابندی ہو گی۔

پبلک سروس کو ان خدمات کی خلاف ورزی پر مجبور کرنے کی کسی بھی کوشش پر پانچ سال کی سزا اور 75 ہزار یورو کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ ابتدائی مجوزہ مسودہ ہے اور فرانسیسی کابینہ میں اس پر بحث و مباحثے کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا