جان نکلسن، راولپنڈی کے پہلے ڈپٹی کمشنر جنہیں اوتار مانا گیا

آج بھی اگر آپ نکلسن مانومنٹ کو دیکھنے جائیں تو اس کے ارد گرد آپ کو کوئی بھولا بھٹکا پجاری مل ہی جائے گا جو گلے میں موتیوں کے مالا ڈالا، ننگے پاؤں عقیدت کی منزلیں طے کر رہا ہو گا۔ 

برگیڈیئر جنرل جان نکلسن  (دی انڈپیندنٹ)

 راولپنڈی سے ٹیکسلا جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر ایک بلند مینار نظر آتا ہے، یہ نکلسن مانومنٹ ہے جو 1868 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ 

اس کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن کون تھے؟ یہ جاننا صرف اس لیے اہم نہیں کہ وہ راولپنڈی کے پہلے ڈپٹی کمشنر تھے بلکہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ محض 27 سال کی عمر میں جب وہ اس اہم عہدے پر متعین ہوئے تو ان کی شخصیت میں ایسا کون سا کرشمہ تھا کہ انہیں ’اوتار‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف ان کی پوجا شروع ہوئی بلکہ ان کے پجاریوں نے باقاعدہ ایک فرقے کی شکل اختیار کر لی جو طویل عرصے تک اس علاقے میں نکلسن مانومنٹ کے ارد گرد بھٹکتا رہا۔ 

شاید یہ اسی روایت کا تسلسل ہے کہ آج بھی اگر آپ اس مانومنٹ کو دیکھنے جائیں تو اس کے ارد گرد آپ کو کوئی بھولا بھٹکا پجاری مل ہی جائے گا جو گلے میں موتیوں کے مالا ڈالا، ننگے پاؤں عقیدت کی منزلیں طے کر رہا ہو گا۔ 

جان نکلسن 11 دسمبر 1822 کو ڈبلن آئیر لینڈ میں پیدا ہوئے۔ جب ان کی عمر نو سال تھی تو ان کے والد ڈاکٹر الیگزینڈر جے نکلسن انتقال کر گئے۔ راج موہن گاندھی کی کتاب ’پنجاب، اے ہسٹری فرام اورنگ زیب ٹو ماؤنٹ بیٹن‘ کے مطابق جان نکلسن کے ماموں جیمز ہاگ کلکتہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں بطور وکیل کام کر رہے تھے اور 1834 میں جب وہ واپس برطانیہ پہنچے تو کمپنی کے بڑے شیئر ہولڈر بن چکے تھے جس کی وجہ سے وہ پہلے ڈائریکٹر اور پھر دو بار چیئرمین بھی بنائے گئے اور برطانوی پارلیمنٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 

یہ انہی کے دستِ ہنر کا کمال تھا کہ چھ فٹ دو انچ کے قد کاٹھ کا نوجوان جان نکلسن جب 16 سال کی عمر میں بھارت آئے تو بنگال انفنٹری میں براہ راست کیڈٹ بھرتی کر لیا گیا۔

لیکن اگلے 19 سالوں میں ان کی شہرت کا ڈنکہ ہندوستان کے طول و عرض میں بجتا رہا حتیٰ کہ ایک موقعے پر انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو دلی کے تخت پر بیٹھنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکے گا۔ آنے والے سالوں میں اگرچہ وہ دلی کے تخت نشین تو نہ بن سکے مگر دلی کی فتح ان کے خون سے ہی ممکن ہوئی۔ 

1857 کی جنگ آزادی کو انگریز بغاوت قرار دیتے ہیں۔ جب چار ماہ کے خون ریز معاصرے جس میں انگریزی فوج کے چار ہزار سے زائد سپاہی مارے گئے، اور اس کے بعد دلی پر انگریز سرکار کا قبضہ ہو گیا تو ہرکارے ہر طرف ایک ہی اعلان کر رہے تھے، ’دلی پر قبضہ ہو گیا ہے، بادشاہ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے مگر جنرل نکلسن مارے گئے ہیں۔‘ 

ایسٹ انڈیا کمپنی کے یہ نوجوان آفیسر محض 35 سال زندہ رہے مگر آج بھی انہیں ایک ہیرو کی حیثیت حاصل ہے۔

فوجی تربیت مکمل کرتے ہی انہیں 1840 میں انگلو افغان جنگ میں جلال آباد بھیج دیا گیا۔ باری علیگ کی کتاب ’کمپنی کی حکومت میں‘ لکھا گیا ہے کہ افغان بادشاہ شاہ شجاع کے حرم کی چھ سو عورتوں کو نکالتے ہوئے نکلسن دشمن فوج کے نرغے میں آ گئے۔ شدید ترین برف باری اور نامساعد حالات کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا بعد ازاں ایک معاہدے کی رو سے ان کی رہائی ممکن ہوئی تو انہیں پشاور میں تعینات کر دیا گیا۔ 

کمپنی کا یہی فوجی افسر بعد ازاں سکھوں کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے ایک ہیرو کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ’راولپنڈی فرام دا راج ایئرز‘ از علی خان میں لکھا ہے کہ ’جب ہزارہ میں بغاوت ہوتی ہے اور اٹک کے قلعے پر سکھ سردار چھتر سنگھ کے قبضے کی خبر نکلسن کو پشاور میں ملتی ہے تو وہ شیر کی دھاڑ کی طرح چنگھاڑتا ہوا اٹک قلعے کا محاصرہ کرتا ہے اور ایک ہی رات میں قبضہ واگزار کرا لیتا ہے۔ پھر وہ باغیوں کا پیچھا کرتے ہوئے راولپنڈی کا رخ کرتا ہے۔ مارگلہ کے درے میں جہاں آج سنگ جانی واقع ہے یہاں 13 اگست 1848 کو اس کا مقابلہ باغیوں سے ہوتا ہے جہاں اسے محمد حیات خان آف واہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔‘

ضلع اٹک کے گزیٹیئر 1930 میں لکھا ہے کہ ’سکھوں کی دوسری لڑائی جو 1848 اور 1849 میں لڑی گئی اس میں ضلعے کے تمام قبائل نے دربار صاحب کی حمایت میں لڑتے ہوئے برطانوی جنرل ایبٹ کو ہزارہ میں شکست دی۔جنرل ہربرٹ کو اٹک قلعہ میں قید کر لیا گیا۔ نکلسن ایک اڑتے ہوئے شکاری کی طرح جہلم اور راولپنڈی میں داخل ہو چکے تھے۔ کرم خان کھٹر آف واہ نے نکلسن کی حمایت میں گھوڑ سواروں اور پیدل جوانوں کی ایک فوج تیار کی جسے مارگلہ کے درہ پر لگا دیا گیا۔ کرم خان کا بیٹا حیات خان جنگ ختم ہونے تک نکلسن کے ساتھ رہے۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جہاں آج نکلسن مانومنٹ ہے یہاں پہلے سکھوں کی ایک فوجی چوکی تھی۔ نکلسن نے اس چوکی میں گھس کر سکھوں کو مارا تھا اور بعض روایتوں کے مطابق وہ یہاں زخمی بھی ہوئے تھے جس کی یاد میں یہاں کرنل اے ٹیلر اور ایگزیکٹو انجینیئر جے ایچ لائنز کی سرکردگی میں 1868 میں نکلسن مانومنٹ تعمیر کیا گیا۔ 

یہ مانومنٹ ایک چبوترے اور ایک مینار پر مشتمل ہے جس کی اونچائی 120 فٹ ہے۔ پہاڑی کے دامن سے چبوترے تک پتھر کی سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ چبوترے سے لوہے کی سیڑھی مینار کے اندر تک جاتی ہے جہاں ایک کمرہ سا بنا ہوا ہے جس میں معلوماتی تختی لگائی گئی ہے۔ اسی کمرے سے لوہے کی ایک اور سیڑھی اوپر تک جاتی ہے۔ 

کہتے ہیں جب یہ بنایا گیا تھا تو دونوں اطراف سے یہ 20 کلومیٹر دور سے نظر آتا تھا لیکن آج اس کے ارد گرد سٹون کرشرز کی وجہ سے یہاں گرد اتنی زیادہ ہے کہ اسے قریب سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

مانومنٹ سے نیچے روڈ کے بالکل ساتھ ایک خوبصورت باغ بھی اس کا حصہ تھا جس میں پانی کا ایک تالاب اور فوارہ بھی تھا۔ اس باغ کی باقیات ہی اب رہ گئی ہیں۔ 

جان نکلسن پنجاب میں انگریزی عہد کے بانیوں میں سے تھے۔ سکھ حکومت کے خاتمے میں جان نکلسن کا نام بار بار آتا ہے۔ انہیں جون 1848 میں سند ساگر دو آب میں سکھ گورنر کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن اس نے اور جنرل ایبٹ نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ سکھ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ 

 

جب انہیں راولپنڈی کا ڈپٹی کمشنر لگایا گیا تو انہوں نے ایک نامی گرامی باغی کا سر کاٹ کر اپنی میز پر رکھ لیا جو شخص بھی ان سے ملنے آتا وہ پوچھتا تھا کہ یہ کون ہے؟ 

نکلسن صرف نو ماہ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر رہے لیکن یہاں بھی انہوں نے اپنے محسن حیات خان آف واہ کو فراموش نہیں کیا بلکہ انہیں تعلیم بھی دلوائی اور پھر اپنا قریبی منتظم بھی بنا لیا۔ یہ نکلسن کے اوصاف کا ہی کمال تھا کہ جن سے انہوں نے اقتدار چھینا تھا وہی سکھ انہیں نکل سنگھ کے نام سے جبکہ ہندو انہیں نکل سین کے نام سے پکارنے لگ گئے تھے۔ 

منظور الحق صدیقی کی کتاب ’تاریخ حسن ابدال‘ میں لکھا ہے کہ ’1849 میں ایک ہندو گو سائیں نے انکشاف کیا کہ نکلسن برہما کا اوتار ہے اور پھر انہوں نے اپنے نئے دیوتا کی پوجا کا پرچار شروع کر دیا۔ شروع میں پانچ چھ اور گوسائیوں نے یہ عقیدہ اختیار کر لیا۔ جب نکلسن کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنے ان پجاریوں کو مار بھگایا۔ جس کے بعد یہ فرقہ ہری پور چلا گیا جہاں ہر صبح یہ لوگ ڈپٹی کمشنر ہزارہ ایبٹ کی رہائش گاہ کے سامنے چلے جاتے اور اپنے دیوتا کی شان میں بھجن گاتے۔ 

ایبٹ لکھتے ہیں کہ میری آخری اطلاعات تک یہ لوگ نہ صرف باقاعدہ فرقے کی شکل اختیار کر چکے تھے بلکہ تعداد میں بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ بہت سے ایسے سورماؤں کو دیوتا کا مقام حاصل ہو چکا تھا جن کی حیثیت نکلسن کے مقابلے میں مشتبہ تھی۔ ایک امر میں نکلسن دوسرے دیوتاؤں سے مختلف تھے اور اپنے پجاریوں کو ان کی عقائد کی بنیاد پر سزا دیا کرتے تھے۔ ان کی عقیدت کا ثمر یہ ملتا کہ نکلسن انہیں چابک اور قمچیوں سے مار کر قید کر دیتے۔ 

راہ حق میں جان دینے والوں کی طرح وہ یہ سزائیں برداشت کرتے۔ نکلسن انہیں جتنی زیادہ سزا دیتے وہ اتنی ہی زیادہ ان کی تعریف میں بھجن گاتے۔ بعد ازاں جب ایک نوجوان انجینیئر الیگزینڈر ٹیلر لاہور سے پشاور تک جی ٹی روڈ کی توسیع کا کام کر رہے تھے تو ایک روز حسن ابدال میں ان کے بنگلے میں اس فرقے کے لوگ قطار بنا کر آ گئے اورمودبانہ پرنام کرتے ہوئے ان کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ 

ٹیلر حیران تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ان کی طویل خاموشی نے اسے مضطرب کر دیا۔ وہ انہیں حیرانی سے گھورتے رہے اور وہ اسے بغور دیکھتے رہے۔ بالآخر ان کے گرو نے یوں لب کشائی کی کہ ہم نکل سین کے فقیر ہیں۔ تم گورے صاحب اور نکل سین والی نسل سے ہو اس لیے ہم اپنا ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ ایک مختصر سی گفتگو کے بعد ٹیلر کو پہلی بار اس عقیدے کا علم ہوا۔

سر ڈونلڈ میکنب جو پشاور کا کمشنر رہے انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے چیئرمین اور نکلسن کے ماموں جیمز ہاگ کے نام خط میں لکھا کہ ’ہزارہ کے نکل سینیوں کو اپنے دیوتا کی موت کا اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ سب تعزیت کے لیے آئے۔ اس میں سے ایک کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ اس دنیا میں رہنے کا اب کیا فائدہ جس میں نکل سین نہ ہو۔ یہ کہہ کر اس نے عمداً اپنا گلہ کاٹ لیا اور مر گیا۔ دوسرا آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ مہاتما کی سیوا کا یہ کوئی طریقہ نہیں۔ اگر ہمیں اگلے جنم میں اسے دیکھنے کی ادنیٰ سی بھی توقع ہے اور اپنی زندگی میں اسے خوش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں نکل سین کے خدا کی عبادت کرنے کا طریقہ آنا چاہیے۔ 

دوسروں نے اس کی تائید کی پھر یہ لوگ پشاور میں مشنری کے پاس گئے جس نے یہ جاننے کے بعد کہ یہ ہندوستان کے عام فقیروں کی طرح اوباش نہیں تو ان کی رہنمائی کا وعدہ کر لیا اور انہیں ایک سال تک تعلیم دی۔ مشنری نے ان میں سے کچھ کو بپتسما دے دیا۔ 

1857 میں دلی کے محاصرے کے دوران جب انگریز فوج شہر میں داخل ہوئی تو کشمیری گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے 14 ستمبر کو ایک گولی بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن کو لگی جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ 

محمد حیات خان آف واہ جو ان کے ساتھ تھے، انہوں نے نکلسن کو میدان جنگ سے نکالا اور ان کی تیمار داری کرتے رہے مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 23 ستمبر کو اپنے وقت کی یہ کرشماتی شخصیت انتقال کر گئی جہاں کشمیری گیٹ کے سامنے ہی انہیں دفن کر دیا گیا۔ 

مرتے وقت جان نکلسن نے دو نصیحتیں کی تھیں: ایک یہ کہ آئیرلینڈ میں ان کی ماں کو ان کی موت کی خبر نہ دی جائے، دوسرا انہوں نے سر جان لارنس سے جو اس وقت چیف کمشنر تھے سے سفارش کی کہ حیات خان کا خیال رکھا جائے۔ 

تذکرہ رؤسائے پنجاب از سر لیپن ایچ گریفن و کرنل میسی کے صفحہ 447 پر درج ہے کہ نکلسن کی حمایت پر حیات خان کا مکان باغی سکھوں نے جلا دیا۔ 1857 میں جب نکلسن پشاور کا ڈپٹی کمشنر تھے تو بغاوت شروع ہو گئی جس پر نکلسن نے حیات خان کو آفریدیوں کا ایک دستہ بھرتی کرنے کی ہدایت کی اور حیات خان کو ان پر کمانڈر مقرر کیا۔ 

حیات خان نہ صرف دلی کے معاصرے میں بہادری سے لڑے بلکہ جب نکلسن کو جان لیوا زخم لگا تو یہ آخر دم تک ان کے ساتھ رہے اور اس خدمت کے عوض ان کی 250 روپے سالانہ پنشن مقرر ہوئی جسے بڑھا کر 360 روپے کر دیا گیا۔ 

دلی کی فتح کے بعد حیات خان کو پہلے پشاور کا تھانیدار پھر تلہ گنگ، شاہ پور اور بنوں میں اعلیٰ عہدے دیے گئے۔ آخر میں پنجاب میں ڈویژنل جج بھی بنایا گیا۔ 

بعد میں انہی کے بیٹے سر سکندرحیات خان متحدہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنائے گئے جن کے بیٹے سرادر شوکت حیات خان کا شمار تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ