ولی قندہاری اور باباگورونانک کی کہانی میں کتنی سچائی ہے؟

سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک اور مسلمان صوفی بزرگ بابا ولی قندہاری کے درمیان ایک مقابلے کا ذکر عام ہے لیکن اس بارے میں تاریخ کیا کہتی ہے؟

(سجاد اظہر)

کابل سے دہلی تک چلنے والے قافلے جب حسن ابدال پہنچتے تو یہاں کے دلکش مناظر میں کھو جاتے۔ بادشاہ تو بادشاہ فقیر بھی یہاں کے اسیر ہو کر رہ گئے۔ شاہجہانی مورخ کنبوہ نے اسے ’قائم مقام گلستانِ ارم‘ سے تشبیہ دی ہے۔

اسی شہر میں سکھوں کا ایک مقدس مقام گوردوارہ پنجہ صاحب واقع ہے جسے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کے سربراہ ہری سنگھ نلوہ نے 1830 کے لگ بھگ بنوایا تھا۔ اسے پنجہ صاحب کیوں کہتے ہیں؟ اس کے پیچھے ایک روایت ہے جس کا ذکر سکھوں کی آخری جنم ساکھی میں کیا گیا ہے۔ جنم ساکھیاں گرو صاحبان کی حالات پر مشتمل کتابوں کو کہتے ہیں۔

جنم ساکھی بھائی والا کو سکھ مذہب کی تاریخ کی سب سے پہلی کتاب تسلیم کیا جاتا ہے جسے گرو انگد جی نےجو بابا گرو نانک کے ہم عصر تھے، اپنی نگرانی میں مرتب کروایا تھا جو پہلی بار 1871 میں چھپی تھی۔ اس کے پہلے ایڈیشن میں پنجہ صاحب کا ذکر نہیں لیکن 1930 کے ایڈیشن میں پہلی بار یہ واقعہ منسوب کیا گیا ہے کہ ’کشمیر جاتے ہوئے بابا نانک دریائے سندھ سے 20 کوس کے فاصلے پر ایک اونچی سے پہاڑی کے نزدیک حسن ابدال شہر کے پاس ڈیرہ لگائے بیٹھے تھے کہ بھائی مردانہ کو پیاس لگی۔

اس پر گرو نانک نے کہا کہ اس پہاڑی کی چوٹی پر ایک مسلمان فقیر ولی قندہاری رہتا ہے اس کے پاس پانی ہے توجا کر وہاں سے پانی مانگ کر لا۔ جب بھائی مردانہ نے پہاڑ کی چوٹی پر جا کر اپنی غرض بیان کی تو ولی قندہاری نے کہا کہ اگر بابا نانک اتنا ہی بزرگ ہے تو تیری پیاس کیوں نہیں بجھاتا؟ اس لیے جا کر اپنے نانک سے پانی مانگ۔ 

جب بھائی مردانہ پیاس سے نڈھال ہو کر نیچے پہنچا اور بابا گرونانک کو ولی قندہاری کے انکار سے آگاہ کیا تو کہا جاتا ہے کہ بابا نانک نے بھائی مردانہ کو پھر ولی قندہاری کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم مہمان ہیں۔ پانی دینے سے دوبارہ انکار کیا گیا تو بابا گرو نانک نے جلال میں آ کر اپنی چھڑی زمین پر ماری، چھڑی لگنے کی دیر تھی کہ پانی بہہ نکلا جس سے اوپر پہاڑی پر موجود ولی قندہاری کا چشمہ خشک ہو گیا۔

ولی قندہاری کو غصہ آیا اور انہوں نے ایک بھاری چٹان نیچے بابا گرونانک کی جانب لڑھکا دی بابا گرونانک نے چٹان کو اپنے ہاتھ سے روک لیا مگر اس پر بابا گرو نانک کے ہاتھ کا نشان پنجے کی صورت ثبت ہو گیا۔ بابا ولی قندہاری نے بابا گرونانک سے معافی مانگی جس پر گرونانک یہ کہہ کر وہاں سے چل دیئے کہ ’تکبر چھوڑ عاجزی اختیار کر۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس واقعے میں کہاں تک صداقت ہے؟ اس حوالے سے نامور محقق اور مصنف منظور الحق صدیقی اپنی کتاب ’تاریخ حسن ابدال‘ میں لکھتے ہیں کہ ’پنجہ صاحب کی ساکھی تین حضرات سے متعلق ہے گرونانک، بھائی مردانہ اور بابا ولی قندہاری۔ ان میں سے پہلے دو کی پیدائش تیسرے یعنی ولی قندہاری کی وفات کے بعد ہوئی، ولی قندہاری سلطان شاہ رخ کے عہد حکومت میں یعنی 1447 سے پہلے وصال فرما چکے تھے جبکہ گرونانک کی پیدائش 1469 میں اور بھائی مردانہ کی 1449 میں ہوئی۔

پھر ایک اور اہم بات کہ جنم ساکھی بھائی والا جس کو بطور حوالہ بیان کیا جاتا ہے، اس کے پہلے چاروں ایڈیشنوں میں یہ واقعہ درج نہیں لیکن اچانک 1930 کے ایڈیشن میں پنجہ صاحب کا واقعہ اس جنم ساکھی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس سے پہلے شائع ہونے والی جنم ساکھیوں، گرونانک دیو جی، بھائی منی جی، پراچین جنم ساکھی میں کہیں بھی اس اہم واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔ گرو گرنتھ جس کے جامع سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو ہیں جن کی پیدائش بابا گرونانک کی وفات کے بیالیس سال بعد ہوئی۔ اس میں گرو صاحبان اور بھگتوں کی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات بیان کیے گئے ہیں اس میں بھی پنجہ صاحب، ولی قندہاری یا حسن ابدال کا ذکر نہیں ملتا۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ روایت کہاں سے آئی اور کیسے مقبول ہو گئی؟ ضلع اٹک کے گزیٹئر 1930 جس کے مصنف ڈپٹی کمشنر اٹک سی سی گاربیٹ ہیں اور جس کا اردو ترجمہ کیپٹن (ر) عبداللہ خان نے کیا ہے اس کے صفحہ 344 پر مڈیلمیرک کے تحقیقی جرنل ’دی انڈین انٹکوری‘ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’بہت سے کٹر سکھوں کی جانب سے بیان کی گئی کہانی یہ ہے کہ کمّایک مسلمان مستری تھا، نے یہ نشان اپنی تفریح طبع کے لیے پتھر پرکھدائی کر کے بنایا تھا۔‘

ایک موقعے پر رنجیت سنگھ کے دور میں جب سکھوں نے حسن ابدال پر حملہ کیا تو تمام لوگ بھاگ گئے مگر ناجو نام کا ایک فقیر جو بھاگ نہیں سکتا تھا اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے کہا کہ وہ بابا نانک کا فقیر ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ بابا نانک کو کیسے جانتا ہے تو اس نے بابا نانک کے اس معجزے کا افسانہ گھڑا اور ثبوت کے طور پر پتھر پر لگے نشان کو پیش کر دیا۔ سکھوں نے اس پریقین کر لیا اور پتھر کو متبرک سمجھنا شروع کر دیا۔

حسن ابدال کو اس کی خوبصورتی کے پیشِ نظر مغلیہ عہد میں خاص مقام حاصل رہا۔ یہاں مغلیہ باغات لگائے گئے۔ اکبر، شاہجہان اور اورنگ زیب یہاں بار بار آتے رہے مگر ان کی کسی کتاب میں بھی پنجہ صاحب کا ذکر نہیں ملتا۔ جہانگیر نے تزکِ جہانگیری میں تالاب اور مقبرے کا ذکر کیا ہے مگر پنجے کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والا مشہور تاریخ دان الفنسٹن 1809 میں حسن ابدال آیا اس نے یہاں کے مقبروں اور باغات کا ذکر کیا مگر اسے بھی پنجہ صاحب کہیں نظر نہیں آیا۔

پہلی مرتبہ پنجہ صاحب کا ذکر لالہ سوہن لال سوری کی کتاب عمدۃ التاریخ میں ملتا ہے جس میں لکھا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1818 میں حسن ابدال میں پنجہ صاحب کی زیارت کی۔ پہلا یورپین مؤرخ مور کرافٹ تھا جس نے حسن ابدال کا ذکر اپنی یادداشتوں میں کیا ہے وہ بنیادی طور پر جانوروں کا ڈاکٹر تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہو کر ہندوستان آیا تھا۔

1823 میں وہ حسن ابدال آیا تواس نے پنجہ صاحب کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ’مقبرے سے پرے پہاڑ کی ایک چٹان میں سے رستے ہوئے پانی سے جو نالی بن گئی ہے اس کے کنارے ایک دھبہ ہے مفروضے کے طور پر یہ نشان سکھ مذہب کے بانی بابانانک کی ایک کرامت کی وجہ سے مقدس ہو گیا ہے۔ متعد د کٹر سکھ یاتری اس کے کنارے زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ یہ کہانی صرف اس لیے ہی عجیب نہیں کہ یہ لوگوں کی ضعیف الاعتقادی کی ایک مثال ہے بلکہ ا س لیے بھی کہ یہ غالباً بہت ہی ماضی قریب کی اختراع ہے۔‘

تاریخ ِ حسن ابدال کے صفحہ 147 پر درج ہے کہ ’پنجہ صاحب کی کہانی جس فقیر نے گھڑی تھی اس کی اولاد بابا ولی قندہاری کے فقیر کہلاتی ہے اور یہ ولی قندہاری کی بیٹھک اور چلے کے مجاور ہیں۔ اس کا نام نیاز علی شاہ تھا اور ناجو عرف تھا اپنےدور حکومت میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اظہار خوشنودی کے لیے اسے لوہے کے دو بڑے بڑے نقارے دیے جو ہر گیارہویں پر بعد از نماز عصر بجائے جاتے تھے۔‘

 پنجہ صاحب جیسی ہی ایک روایت کا تعلق بدھ مت کے دور سے بھی منسوب ہے۔ ٹیکسلا میوزیم میں داخل ہوں تو بائیں ہاتھ پر ایک شو کیس میں پتھر کی ایک سل پڑی ہوئی ہے جو دھرم راجیکا سٹوپا سے ملی تھی اس پر گوتم بدھ کی زندگی کا ایک واقعہ تراشا ہوا ہے کہ دیو دت ایک پہاڑی پر سے کوئی چیز (غالباً چٹان) گوتم بدھ پر پھینک رہا ہے۔ گوتم بدھ کے پیچھے ایک شخص کھڑا ہے جو اپنے دونوں ہاتھوں سے اس چٹان کو روکے ہوئے ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ بدھ مت کے کسی پیروکار نے یہ شبیہ اسی واقعے کی نسبت سے بنانے کی کوشش کی ہو۔

پنجہ صاحب سے ہی متعلق اور روایت جنرل کنگھم نے ایک سکھ فقیر کے حوالے سے بیان کی ہے جس کے مطابق ’جنک راجہ کے دو نوکر تھے جن کا نام موتی رام اور نانک تھا۔ کسی خاص قربانی کے موقعے پر راجہ نے دونوں غلاموں کو الگ الگ کام پر لگایا اور موتی رام کو دروازے پر نگہبان مقرر کر دیا جبکہ نانک کو پتے توڑنے پر لگایا گیا۔ جن میں خوراک کو لپیٹ کر دیا جاتا تھا۔ اس تقریب کے دوران ایک کتا دروازے سے گزرتے ہوئے تیزی سے راجہ کی طرف آیا۔ موتی رام نے کتے کا پیچھا کیا اور اس کی پیٹھ ڈنڈا مار کر توڑ دی۔

نانک نے موتی رام کے اس ظلم پر ملامت کی۔ تب راجہ جنک نے دونوں کو مخاطب کر کے کہا، ’موتی رام تم نے ایک ’ملیچھ‘ کی طرح کام کیا اور نانک تم نے ایک درد مند انسان کا ثبوت دیا۔ یہ ’کلجگ‘ ہے تم دونوں اگلے جنم میں پھر آؤ گے۔ نانک تلونڈی میں کالو کھتری کے گھر پیدا ہو گا اور موتی رام ایک ولی کے طور پر قندہار کے ایک مغل خاندان میں پیدا ہو گا۔ جب بابا نانک دوبارہ پیدا ہوا تو وہ قندہار میں ولی کے گھر گیا اور پوچھا کہ ’تم مجھے جانتے ہو؟‘

ولی نے کہا، ’نہیں، لیکن تم میری آنکھیں کھول سکتے ہو۔‘

تب نانک نے ولی کی آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ اسے اپنا پچھلا جنم یاد آگیا جس کے بعد وہ اپنے پرانے ساتھی کے قدموں میں گر گیا۔ تب نانک نے ولی کو ہوا اور اپنے آپ کو پانی میں تبدیل کر دیا۔ اور پھر وہ دونوں ’ہرو‘ کے قصبے میں آ گئے جسے اب حسن ابدال کہتے ہیں۔ یہاں نانک نے ایک چٹان پر ہاتھ رکھا تو دونوں اپنی اصلی حالت میں آ گئے۔ اس وقت سے یہ پاک پانی چٹان سے نکلنا شروع ہوا اور کبھی بھی بند نہیں ہوا، یہ خوشگوار اور ٹھنڈی ہوا تو حسن ابدال کے قصبے میں اب بھی جاری ہے۔

تقریباً ایک سو سال بعد ہری سنگھ نلوہ کا بنایا ہوا گوردوارہ پنجہ صاحب خستہ حال ہو گیا تو 1921 میں اس کی تعمیر نو کا منصوبہ بنایا گیا۔ قدیم عمارتوں کو مسمار کر کے ایک وسیع گوردوارے کی تعمیر شروع کی گئی جس کی نگرانی اس وقت کے رئیس اعظم حسن ابدال سردار ایشر سنگھ ولد سردار سوبھا سنگھ نے کی تھی۔ گوردوارے کی تعمیر میں ہندؤں نے بھی چندہ دیا تھا۔

اسی میں ہری مندر بھی تھا جس کی تعمیر 1932 میں ہوئی تھی۔ جبکہ تالاب کا سنگ بنیاد ریاست پٹیالہ کے ولی عہد ٹکا یداورندر سنگھ نے 14 اکتوبر 1932 کو رکھا۔ اس وقت اس ریاست کے وزیراعظم سردار سکندر حیات کے والد سر لیاقت حیات خان تھے۔

گوردوارہ پنجہ صاحب پر ہر سال 11 سے 14 اپریل تک بیساکھی کا میلہ لگتا ہے جس میں دوردراز سے ہندو اور سکھ شرکت کرتے ہیں۔ بھارت سے خصوصی طور پر سکھ یاتری آتے ہیں۔ اس میلے کی ابتدا رنجیت سنگھ کے دور میں ہوئی تھیں۔ جو بھی سکھ یہاں آتے ہیں وہ بابا ولی قندہاری کی زیارت کے لیے بھی جاتے ہیں۔

گوردوارہ پنجہ صاحب کی حقیقت جو بھی ہو بہرحال بیساکھی کے دنوں میں پنجہ صاحب سے ولی قندہاری کی بیٹھک تک ہندو، سکھ اور مسلمان ایک جیسی عقیدت کی سیڑھیاں چڑھتے دکھائی دیتے ہیں جو کہ مذہبی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ