پی ڈی ایم لاہور جلسہ، راستہ ابھی بھی کٹھن ہے

نہ مولانا فضل الرحمان اور نہ بلاول زرداری اپنی تقریروں میں اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ آگے بڑھے۔ تو کیا کوئی رابطے ہوئے ہیں؟

لاہور کے جلسے کا ایک منظر (اے ایف پی)

پاکستان جمہوری تحریک یا پی ڈی ایم کے لاہور میں مینار پاکستان پر جلسہ عام کی وجہ سے جو سیاسی پھونچال آیا ہوا تھا وہ گزر گیا۔  صحت کے اعتبار سے اس سے کس کو کتنا فائدہ یا نقصان ہوا یہ تو آنے والے دونوں میں لاہور کے اعدادوشمار سے ہی واضح ہوگا لیکن  سیاسی طور پر کوئی فوری ردعمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

پاکستان میں سیاسی تحریکوں کی تاریخ رہی ہے کہ یہ لمبی چلتی ہیں اور بہت اپنے اہداف اکثر حاصل نہیں کر پاتیں جیسے کہ حکومت کا خاتمہ۔ ہاں کارکنوں اور میڈیا کا خون گرمائے رکھنے کے علاوہ حکومت پر دباؤ بڑھائے رکھنے کا یہ تحریکیں ایک کامیاب نسخہ ضرور ہیں۔ عمران خان کے 2014 کے جلسوں اور دھرنوں کے بعد تو جیسے اب یہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور منعقد ہوتے ہیں۔

لاہور کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں فریقین فتوے تو اس کے انقعاد سے قبل سے دے رہے ہیں لیکن شاید ایک غیرجذباتی تجزیے کا وقت اس کے خاتمے کے بعد کا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان چونکہ اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں لہذا ان کی جماعت دعوے کر رہی ہے کہ ’مینار پاکستان کے جلسے کی کامیابی سے حکومت کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی اور صوبائی ترجمانوں کی پریس کانفرنس  سے پتہ چلتا ہے کہ تیر نشانے پر لگا ہے۔‘ یہ فرمایا پی ڈی ایم کے خیبپر پختونخوا سے صوبائی میڈیا کوارڈینیٹر عبدالجلیل جان نے۔

دوسری جانب اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے جلسے میں 10 سے 15 ہزار افراد جمع کرنے میں بھی ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو میں جلسے کو موسم سرما کی طرح ٹھنڈا قرار دیا۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا تمام زور شرکا کی تعداد پر رہا۔ تاہم سیاست دان اور سیاسی تجزیہ کار عبدالقیوم کنڈی کہتے ہیں کہ جلسے تعداد کی وجہ سے شاید اہم ہوں لیکن زیادہ غور اس سے کیا حاصل ہوا پر ہوتا ہے۔ ؎

ان کا کہنا تھا کہ ’میاں نواز شریف اس سے قبل کی تمام تقاریر میں نام لے کر جواب مانگ رہے تھے لیکن اپنی آبائی پچ لاہور میں بظاہر ڈھیلے پڑ گئے۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ اگر پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ مل جائیں تو سب اچھا ہو جائے گا۔‘

یہی حال سٹیج پر موجود مقریرین کا تھا۔ نہ مولانا فضل الرحمان اور نہ بلاول زرداری اپنی تقریروں میں اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ آگے بڑھے۔ تو کیا کوئی رابطے ہوئے ہیں جن کی طرف اشارہ بلاول نے بھی کیا کہ ’ٹیلیفون کرنا بند کر دو۔‘ اس سے بظاہر لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بات چیت سے انکار کر رہی ہے۔ تاہم سیاست ممکتات کا میدان ہے۔

جلسے میں تعداد اور دیگر ایشوز کو چھوڑ کر حکومتی نمائندے صرف محمود خان اچکزئی کے تقریر پر سخت ناراض نظر آتے ہیں اور انہوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم کسی کو طعنہ دینے نہیں آئے۔ ہم نے اپنی بساط کے مطابق سامراج کا مقابلہ کیا۔‘ 

انہوں نے کہا: ’ہر گلی، ہر ندی، ہر پہاڑ پر ہم نے مقابلہ کیا لیکن ہمیں گلہ ہے کہ بھارت کے ہندؤں، سکھوں اور تھوڑا ساتھ لاہوریوں نے بھی دیا اورسب نے مل کر افغان وطن پر قبضہ کرنے کے لیے انگریزوں کا ساتھ دیا۔‘ 

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ پاکستان بنا تو پشتون اور بلوچ کی نمائندگی نہیں تھی۔ ’خان عبد الغفار خان نے قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا۔ لیکن ہمارے حلف کو کوئی قدر و قیمت نہیں دی گئی اور ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘

انہوں نے کہا: ’باچا خان کی اسمبلی توڑ دی گئی اور تھوڑی ہی دیر میں پشتونوں کو خون سے نہلا دیا گیا۔ ان کا قصور کیا تھا؟ ہم صرف یہ چاہتے تھے۔ کہ ووٹ کو عزت دو، ہم یہ چاہتے تھے کہ آئین کو عزت دو، لاہور والو میں معافی چاہتا ہوں۔‘ 

 ’آپ نے نیا آئین بننے نہیں دیا اور ہماری مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، بنگالیوں کی اکثریت کو کم کرنے کے لیے ون یونٹ کا ڈراما رچایا گیا۔‘ 

محمو خان اچکزئی کے اس خطاب پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’اپوزیشن کے کراچی جلسے کی تقریر میں اردو کو قومی زبان ماننے سے انکار کیا گیا۔ لاہور میں ایک تقریر میں پنجابیوں کو انگریز کا ساتھی قرار دے دیا۔ تقریروں میں پاکستان کے اداروں پر ہرزہ سرائی، بھارت کے بیانیہ کا دہرانا، قائد کے مزار کی بے حرمتی۔ یہ اپنی چوری کی دولت کو بچانے کس راستے پر چل پڑے ہیں؟‘

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے بھی  کہا کہ مریم، مولانا یا بلاول نے پنجابیوں کی توہین پر محمود اچکزئی کی سرزنش نہیں کی۔ شہباز گل نے کہا کہ پنجاب کے بہادر سپوتوں نے ہمیشہ اپنی جانیں دے کر دھرتی کی عزت بڑھائی۔ 

اس تقرار سے واضح ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے نظریات کا پنڈورا باکس بھی کھول رہے ہیں۔ تاہم پی ڈی ایم شاید موسم سرما سے خاتمے کا انتظار کر رہی ہے لہذا اراکین اسمبلی کے استعفے تو دسمبر کے اواخر تک مانگ لیے لیکن مارچ کی تاریخ جنوری کا آخر یا فروری کا آغاز دے رہے ہیں۔ انہیں مشکلات کافی درپیش ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ممکنہ اسلام آباد دھرنا ملکی سیاسی منظرنامے میں کوئی تبدیلی لاتا ہے یا نہیں۔ فل الحال ’آڈز آر اگینسٹ پی ڈی ایم‘۔ اس وقت تک مزید جلسے اور مزید بیانات سے ماحول شاید گرم رکھا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ