بی آر ٹی میں معذور، ضعیف اور بیمار افراد کے لیے کوئی سہولت نہیں؟

بی آر ٹی پشاور کے بعض سٹیشنوں پر وہیل چئیرز لے جانے کے لیے ڈھلوان (ریمپ) کی سہولت بھی میسر نہیں ، جس کی وجہ سے ضعیف اور  بیمار افراد بمشکل سیڑھیوں پر چڑھتے اور اترتے ہیں۔

پاکستان میں سب سے زیادہ تنقید کا شکار  منصوبہ بی آر ٹی جس کے حوالے سے خیبر پختونخوا  حکومت یہ کہتے نہیں تھکتی تھی کہ اس میں معذور اور ضعیف افراد کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے ، تقریباً چار ماہ گزرنے کے بعد اب بھی لفٹ اور خودکار سیڑھیوں کی سہولت سے محروم ہے۔

بی آر ٹی پشاور کے بعض سٹیشنوں پر وہیل چئیرز لے جانے کے لیے ڈھلوان (ریمپ) کی سہولت بھی میسر نہیں ، جس کی وجہ سے ضعیف اور  بیمار افراد بمشکل سیڑھیوں پر چڑھتے اور اترتے ہیں۔

تقریباً 71 ارب روپے کی لاگت سے بنے اس منصوبے کی تکمیل اور  بس سروس کے آغاز کے بعد لفٹ اور خودکار سیڑھیاں اگر اسی طرح بند پڑی رہیں گی اور معذور  و  ضعیف افراد روزانہ کی بنیاد پر تکلیف سے گزرتے رہیں گے، تو سوال یہ ہے کہ ان کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟

بی آر ٹی منصوبے کی ساخت اس طرح سے بنی ہے کہ اس سروس سے فائدہ اٹھانے کے لیے شہریوں کو ہر سٹیشن پر متعدد سیڑھیوں پر چڑھ کر اور  اتر کر ایک جسمانی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بس پر صرف وہی لوگ سفر کر سکتے ہیں جو جسمانی لحاظ سے تنومند اور توانا ہوں۔

پشاور کے ایک شہری محمد اکبر جو ایک پاؤں سے معذور ہیں اور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے انہیں دقت کا سامنا رہتا ہے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایسے حال میں جب بی آرٹی سٹیشنوں پر بہت زیادہ رش بھی ہوتا ہے ان کی مشکل میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

’بی آرٹی اچھا منصوبہ ہے، لیکن اگر ہم جیسے معذوروں کو اس میں سہولت دی جائے تو یہ منصوبہ مزید کامیاب ہو جائے گا۔ یہ سیڑھیاں کافی زیادہ ہیں، جب بچے بھی ساتھ ہوں اور رش بھی ہو تو اوپر چڑھنے اور اترنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور کے مصروف ترین بی آرٹی سٹیشنوں پر کئی خواتین اور مردوں نے کمر درد اور گھٹنوں میں درد کی شکایت کی اور یہ کہا کہ بہ وجہ مجبوری انہیں 15 سے 20 سیڑھیاں چڑھنی پڑ تی ہیں۔

ضعیف العمر محمد زاہد نے کہا کہ لفٹ اور ایسکیلیٹرز بند ہونے کی وجہ سے بوڑھے لوگوں کو حد درجہ تکلیف کا سامنا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی سٹیشنوں پر جگہ جگہ بورڈز آویزاں ہیں جن پر معذور افراد کے لیے سہولیات کے دعوے کیے گئے ہیں تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

محمد زاہد نے حکومت سے استدعا کی کہ ضعیف افرادکے لیے لفٹ کی سہولت مہیا کی جائے تاکہ وہ بھی اس ’پُر تعیش‘ منصوبے سے استفادہ حاصل کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔

پشاور صدر کے بی آرٹی سٹیشن کے ایک مینجر نے انڈپینڈنٹ اردو کے سوال پر بتایا کہ انہیں لفٹ وغیرہ کے بند ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں کچھ اس طرح کی معلومات موصول ہوئی ہیں کہ شاید ایک ہفتے میں سٹیشنوں کے خودکار زینوں کو فعال کر دیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان