ٹویوٹا، سوزوکی اور ہونڈا کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں بکنی! مان لو!

ہم لوگ کتے پیڈی گری والے خریدنا پسند کرتے ہیں، گھوڑوں کے شجرے کھنگالے جاتے ہیں، پنچ فیس پرشیئن بلی تک کے آباواجداد کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور گاڑی ہم ایویں کوئی بھی چینی مینی خرید لیں ؟

(سوشل میڈیا)

پاکستان میں کسی گاڑی کا مستقبل کیا ہو گا یہ بتانا ایک دم ناممکن ہے۔

وہ یاد ہے آپ کو سوزوکی اے پی وی؟ کیسے جب آئی تھی تو بری طرح فلاپ ہو گئی تھی؟ پھر ایک دم پتہ لگا کہ بسوں کے اڈے پہ جوان سات بندے بٹھا کر چھوٹے روٹ پر چلا رہے ہیں۔ غریب کو وی آئی پی سواری مل گئی۔ جسے ملتان سے بہاولپور جانا ہوتا یا خان پور سے صادق آباد، وہ سکون سے آتا، نارمل کرایہ سو روپے ہے تو اے پی وی کے ڈیڑھ سو بھرتا، سات سواریاں پوری ہوتے ہی گاڑی یہ جا وہ جا۔ 

اس کے بعد ٹور آپریٹرز نے بھی وہ گاڑی استعمال کرنا شروع کی، ہوتے ہوتے اب تیس لاکھ کی ہے۔ ایک ہی ویرینٹ آتا ہے، بکتی ہے دبادب، کوئی اشتہار نہیں، کوئی پروموشن نہیں، آٹو موڈ پہ بکتی ہے ۔۔۔ کیوں؟ کیسے؟ وہ گاڑی جو آنے کے بعد ڈیڑھ دو سال تک پٹی رہی، ایک دم کیسے کامیاب ہو گئی؟ پاکستانی مارکیٹ! آپ کبھی اس کے ڈائنامکس نہیں سمجھ سکتے۔ 

ابھی سوزوکی پہ ہی رہیں، لیانا یاد کریں۔ اب بند ہو چکی ہے لیکن کسٹمر صاف گاڑی ڈھونڈنے کے لیے مرتا ہے آج بھی۔ دس سال پہلے پیسے ہوتے بھی تو نئی نہ خریدتے، آج سات، آٹھ لاکھ کی رینج والا ہر بندہ لیانا ڈھونڈتا ہے، یہی بلینو کا معاملہ تھا۔ یہ دونوں ماڈل نئے جس نے بھی خریدے وہ یا تو کسی کمپنی کا پیکج تھا، بینک کی ڈیل تھی یا پھر کوئی انتہائی شریف النفس کسٹمر تھا۔ مستری ہر بندے کو یرکاتے تھے کہ بلینو کی کوائلیں سڑ جاتی ہیں، لیانا کا انجن قابل اعتبار نہیں ہے لیکن دس سال کے بعد بجٹ رینج میں ہر کوئی انہی پہ ٹپکتا نظر آ رہا ہے، اب مسئلے نہیں ہیں یا مستری نہیں ہیں؟ پاکستانی مارکیٹ! 

جو چیز اپنے دل پہ لکھی ہے وہ ہے 'چوہا شیپ' ۔۔۔ ہونڈا سٹی جب آئی نا 2003 میں، نئی شیپ تھی ایروڈائنامک قسم کی، تھوڑی اونچائی زیادہ تھی اور پیچھے سے اٹھی ہوئی بھی تھی، لو جی گاڑی کا نام پڑ گیا چوہا شیپ، ہزاروں لوگ بے چارے اس نام کی وجہ سے کرولا یا سوزوکی خرید کے سائیڈ پہ ہو گئے لیکن چوہا شیپ نے پھر 2006 میں تھوڑی سی تبدیلی کے بعد جو مارکیٹ اٹھائی ہے وہ دوبارہ شاید ہی کسی ہونڈا سٹی کو نصیب ہوئی ہو۔ یار آٹھ پلگ والی گاڑی تھی، بہترین پک اپ، لمبے روٹ پہ سترہ اٹھارہ تک مائلیج دینے والی، نوابوں جیسا انٹیرئیر لیکن نام؟ چوہا شیپ! اب دنیا چوہا شیپ کے پیچھے بھی ویسے ہی ہے جیسے لیانا اور بلینو کے پیچھے تھی۔ چاہے ماڈل 2003 سے 2005 والا ہو چاہے اگلا ہو۔ سوال یہ ہے کہ شروع میں گاڑی کو رگڑا لگانا فرض کیوں سمجھا جاتا ہے؟ جواب وہی، پاکستانی مارکیٹ!

ابھی یارس آئی ہے ٹویوٹا کی، باہر ملک میں کافی کامیاب ماڈل ہے، اپنے یہاں پندرہ انچ کے ٹائر عوام کو چھوٹے لگ رہے ہیں۔ جس مرضی گاڑیوں کی ویب سائٹ پہ چلے جائیں، ہر کوئی ٹویوٹا کو برا بھلا کہہ رہا ہے لیکن بک سب سے زیادہ یارس رہی ہے۔ کیا ہونڈا سٹی، کیا سوک، دونوں سے زیادہ یونٹ یارس کے بکے ہوئے ہیں اب تک۔ وجہ کیا ہے؟ کمنٹ کرنے والے دوسرے کوئی ہیں اور خریدار کوئی اور؟ سامنے کی بتیوں کو دیکھ کے لوگ اسے ڈیول شیپ یعنی شیطانی شکل والی گاڑی بھی کہہ رہے ہیں، مطلب کچھ بھی؟ 

بلکہ سامنے کی بتیوں سے یاد آیا، سوک پچانوے پیٹرول کا کباڑہ کرنے والی ایک بیٹھی ہوئی لیکن لگژری کار تھی، اسے کتنے نمبر تو صرف ہیڈلائٹس کی وجہ سے ملے پاکستانی مارکیٹ میں، ڈولفن کہلاتی تھی، اب بھی سیکنڈ ہینڈ کے اشتہار دیکھیں تو سوک ڈولفن کے نام سے بکتی ہے۔ اسی طرح 2006 سے آگے دو سال جو ماڈل تھا سوک کا، وہ ایگل آئی کہلاتا ہے۔ یہ نام بھی اگلی بتیوں کی وجہ سے ملا ہے، وہ بھی اب تک اچھے پیسے دے جاتی ہے۔ تو کیا پاکستان میں گاڑی بیچنے کے لیے شیر چیتے یا کسی خوبصورت جانور سے گاڑی کی شکل کا ملنا یا ملایا جانا ضروری ہے؟ حالانکہ چوہا شیپ اور شیطانی یارس بھی اپنی جگہ بہترین بک رہی ہیں لیکن کسی گاڑی کو آپ ہیرو یا ولن کیسے بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا بھی جواب وہی ہے، سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔

جب ٹویوٹا کی وٹز مارکیٹ میں نئی نئی آئی تو میں ایک دن آر اے بازار اپنے مکینک کے پاس کھڑا تھا۔ آ گیا کوئی بدنصیب مالک وٹز لے کے۔ اب مستری کام کیے جائے اور ساتھ ساتھ بولے جائے، سر جی یہ گاڑی بری طرح پٹ جائے گی، دیکھا ہے کتنا چھوٹا سا انجن ہے، ایک پرزہ نیچے سے کھولنا ہو تو آدھا انجن ڈاؤن کرنا پڑتا ہے، ہاتھ تک نہیں گھستا، فلاں پرزہ شارٹ ہے، مارکیٹ میں نہیں ملتا، جاپانی گاڑیوں کے بڑے رولے ہوتے ہیں جی، آج ہیڈ لائٹ ٹھک جائے تو پینتیس ہزار کی بھی نہ ملے، اور پتہ نہیں کیا کیا اس بندے نے وٹز کے لتے لیے، آج وٹز بھی ایک کامیاب گاڑی ہے، پرزے اپنی جگہ مہنگے ہیں لیکن سی ڈی سینوٹی قسم کی ہاٹ سیلنگ سواری بن چکی ہے۔ 

مہران کو تیس سال گالیاں دیتے رہے کہ ماڈل اپ گریڈ نہیں ہوتا لیکن اگلے چالیس سال تک اگر آتی رہتی تو خریدتے بھی اسی کو، ایکس ایل آئی کو پیٹتے ہیں کہ سیفٹی کے لیے ائیر بیگ تک نہیں، شیشے گھما کے اتارنے پڑتے ہیں لیکن سب سے زیادہ کھڑکی توڑ سیل ہمیشہ ایکس ایل آئی کی ہو گی۔ بولان پہ چیخیں گے کہ ڈبہ ہے، پینتیس سال سے ویسا ہی ماڈل ہے، انجن سیٹ کے نیچے ہے، گرمیوں میں سب کچھ جل جاتا ہے لیکن پھر خریدیں گے تو وہی بولان، اس کی جگہ ایوری یا شینجن والی گاڑی کیوں نہیں لیتے؟ سب ڈیڑھ سیانے ہیں۔ مارکیٹ کی چیز بھی لینی ہے، گالیاں بھی دینی ہیں۔ تو بس یہ حال اس مارکیٹ کا ہے جس میں رہ کے ہمیں گاڑی خریدنی ہوتی ہے۔ 

یہ سب اس موقعے پہ یاد کیوں آیا، اس کی ایک بڑی سادی سی وجہ ہے۔ اس وقت پاکستان میں آٹھ دس نئی گاڑیاں لانچ ہونے جا رہی ہیں۔ پرنس پرل اور یونائٹڈ براوو آ چکی۔ مہنگی ایس یو وی گاڑیوں میں ہنڈائی ٹوساں اور ایم جی آ گئے، پروٹان ایکس سیونٹی اور گلوری 580 بھی اسی کیٹیگری کی ہے، ہنڈائی ایلانٹرا سوک کے مقابلے میں آ رہی ہے، ایلسون ہونڈا سٹی اور یارس کی ٹکر پہ ہے لیکن ۔۔۔ 

کیا آپ کو یاد ہے سپیکٹرا کیسی پیاری گاڑی تھی KIA والوں کی؟ کلاسک یاد ہے اپنے وقت کا سب سے سستی فیملی کار؟ شیورلے کی اوپٹرا یاد ہے؟ جوائے؟ پھر اس کی ٹکر پہ چیری کیو کیو آئی، غریب نواز فیاٹ کی اونو؟ آدم کی ریوو؟ چائنا کی گیلی؟ وہ سب گاڑیاں کیوں پٹ گئیں؟ آہو، وہی جواب!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ جتنے انقلابی شور مچا رہے ہیں کہ پاکستان میں بگ تھری کی اجارہ داری کو ٹف ٹائم ملے گا، وہ یاد کر لیں بھائی ان سب گاڑیوں کا انجام۔ کہیں بھی وجہ پڑھیں، پراسرار قسم کی خرابیاں بتائیں گے، پتہ نہیں کیا کیا لکھا ہو گا بلاگ میں۔ جن کے پاس ہیں یہ سب فلاپ گاڑیاں، وہ آج تک بہترین چلا رہے ہیں، ڈائیوو ایکسل تک چل رہی ہے کتنے گھروں میں۔ 

یہ سب چوہا شیپ، شیطانی شکل، ڈولفن شیپ، ایگل آئی، بولان ٹین ڈبہ، مہران ایک ہی شکل، جی ایل آئی ود نو سیفٹی کا شور مچانے والے انہیں خریدنے میں بھی سب سے زیادہ تیز ہیں۔ جس پہ مرتے ہیں اسے مار کے رکھ دیتے ہیں۔ نام بھی بگاڑیں گے، پیار بھی اسی سے کریں گے۔ ابے نسان اور مٹسوبیشی جیسی پیاری گاڑیوں کو بھی بھگا دیا انہوں نے! 

نئی کمپنیاں جو اب آئیں گی، وہ پورے سال میں پانچ سو یونٹ بیچ بھی لیں فی گاڑی، تو کیا ان کمپنیوں کے خرچے پورے ہوں گے؟ بریک ایون آتے آتے جہاں دس سال لگ جائیں وہاں تیسرے سال انویسٹر کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگ جاتے ہیں۔ دوسری طرف خریدنے والا مہنگے سپئیر پارٹس کا شور مچا مچا کے دوسروں کو بھگاتا رہے گا۔ گاڑی کسی اور وجہ سے گرم ہو گی، مستری کوئی اور 'خرابی' ٹھیک کر دے گا، کتنی بار تو نئی کرولا کی منجی ایسے ٹھک جاتی ہے۔ 

پاکستان وہ ملک ہے بھائی جہاں پتہ ہوتا ہے کہ ری بورن میں پانی سے خرابی کا مسئلہ ہے، نیچی گاڑی ہے لیکن پھر بھی ریکارڈ توڑ بکتی ہے۔ سوک 2017 اور اگلے سال والے ماڈل کو جانتے ہیں کہ سٹئیرنگ جام ہونے کی خطرناک ترین شکایت عام ہے لیکن دھڑا دھڑ خریدتے ہیں، کرولا خصوصاً 2003 اور عموماً بعد کے سارے ماڈلوں کی بریکوں کا مسئلہ رہتا ہے لیکن اس سے زیادہ کچھ بکا؟ 

تو بس جان لیں کہ ایک مستری اور ایک پاکستانی جہاں مل جائے وہاں نئی گاڑیوں کا رسک مشکل سے لیا جائے گا۔ ہم لوگ مینٹلی احتیاط پسند ہیں، لیگسی دیکھتے ہیں۔ بلکہ یار، کتے تک تو ہم پیڈی گری لیتے ہیں، گاڑیاں کیسے بغیر پشتیں جانے خریدیں گے؟ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ