پاکستانی عورت کو سیاسی طور پر بااختیار کیسے بنایا جائے؟

قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، لیکن بات صرف تعداد تک ہی ہے۔ خواتین سے متعلق امور کی وزارتیں اس وقت مرد وزرا نے سنبھال رکھی ہیں۔

عرصہ دراز سے نہ صرف خواتین ترقی کے عمل میں پیچھے رہ گئی ہیں بلکہ ان کے مسائل میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے(سوشل میڈیا)

تحریک پاکستان کے اوائل سے ہی مسلم لیگ کے جلسوں میں عددی طاقت اور مسلم ووٹ کو بڑھانے کے لیے خواتین کا جدوجہد آزادی میں حصہ لینا ایک اشد ضرورت بن گیا تھا۔ 1940 میں محمد علی جناح نے یہ اعلان کیا تھا کہ ’عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عمومی سیاسی شعور کے احساس کو بیدار کریں، انہیں عملی سیاست میں مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہیے۔‘

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

 

محمد علی جناح کے اس اعلان کی وجہ سے اس وقت کے ثقافتی اور معاشرتی رویوں میں بہت نرمی پیدا ہوئی تھی، لیکن بدقسمتی سے 1948 کے بعد سے اس عارضی سیاسی آزادی کا خاتمہ ہوا، تاہم کچھ پرعزم خواتین جیسے کہ بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بیگم جہاں آرا شاہنواز کافی عرصے تک سیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں اور خواتین کے حقوق کی بحالی کے لیے چند اہم قوانین بھی اسمبلیوں سے منظور کروائے۔

تحریک سے لے کر قیام پاکستان تک اور اس کے بعد بھی کافی عرصے تک فاطمہ جناح کے سرگرم اور موثر کردار سے کسی کو انکار نہیں۔ ان کی جدوجہد تاریخ کا ایک اَن مٹ حصہ ہے۔ فاطمہ جناح آج کی خواتین کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔1964 کے انتخابات میں فاطمہ جناح کا صدارتی انتخابات کے لیے متفق ہونا اور اس وقت کے ایک طاقتور فوجی حکمران کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لینا بذات خود ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا۔ فاطمہ جناح کے اس فیصلے نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی خواتین کو امید کی ایک نئی کرن دکھائی تھی۔

اس کو آگے چل کر خواتین کا روشن مسقبل بننا تھا۔ یہی وہ وقت تھا کہ ملک کے بیشتر نامور اخباروں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا ایک مسلمان خاتون ملک کی سربراہ بن سکتی ہیں؟ مولانا مودودی نے بھی شروع میں اس کو غیراسلامی قرار دیا تاہم بعد میں اس کو وقت کی ضرورت کہہ کر اس پر رضامندی کا اظہار کیا۔ انتخابات نہ جیتنے کے باوجود، فاطمہ جناح نے تاریخ رقم کر دی تھی۔ یہ مبالغہ نہیں ہے کہ انہوں نے پاکستان کی خواتین کے لیے سیاسی میدان میں ایک ٹارگٹ ضرور سیٹ کیا۔

خواتین کے سیاسی عمل میں شرکت کے حوالے سے رکاوٹیں پوری دنیا میں موجود ہیں۔ یہ رکاوٹیں معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاسی اور حکومتی نظام میں بہت گہری سطح پر پائی جاتی ہیں۔ سماجی اور معاشی طور پر غیرمساوی حیثیت کے ساتھ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، خواتین کی موثر سیاسی شرکت کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان مسائل کے حل کی بجائے ہمیشہ سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

عرصہ دراز سے نہ صرف خواتین ترقی کے عمل میں پیچھے رہ گئی ہیں بلکہ ان کے مسائل میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب یا تو ہم تماشائی بن کر، آنکھیں موندھ کر خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہوئے ان کو اور ان کے مسائل و ضروریات کو نظر انداز کردیں، جو ہم عمومی طور پر کرتے آ رہے ہیں، یا ہم اس آدھی آبادی کو ان کی اپنی ترقی اور اس قوم کی ترقی کے عمل میں اپنا شریک کار بنائیں۔

حقائق سے ثابت ہے کہ خواتین کے ترقی کے عمل میں بھر پور شرکت کا سب سے موثر ذریعہ خواتین کو سیاسی عمل میں بھرپور طریقے سے نمائندگی اور شراکت دینا ہے۔ سیاست ہی وہ پلیٹ فارم ہے جہاں قانون سازی ہوتی ہے اور ترجیحات کی بنیاد پر وسائل تقسیم ہوتے ہیں۔ اس میں اگر عورت کی موثر نمائندگی اور شرکت نہیں ہوگی تو آج کی عورت ترقی کےعمل سے بالکل کٹ کر رہ جائے گی، جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ خواتین کی سیاسی عمل میں موثر نمائندگی اور شراکت کو کیسے یقینی بنایا جائے؟ اس وقت ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی عورت کو سیاسی نظام میں بحیثیت ووٹر سے لے کر، سیاسی ورکر تک اور ورکر سے لے کر ایک منتخب نمائندہ اور رہنما بننے تک کے عمل میں مسلسل شامل کرنے کے راستے اور حکمت عملیاں تسلی بخش نہیں ہیں۔

خواتین کے ووٹ کو آج تک ہمارے ہاں نہ وہ عزت حاصل ہے اور نہ وہ اہمیت جو ایک مرد ووٹر کو حاصل ہے۔ اسی لیے ہماری اکثر سیاسی جماعتیں خواتین ووٹرز کے سیاسی شعور و تربیت پر نہ تو وقت صرف کرتی ہے اور نہ ہی سرمایہ، بلکہ پاکستان کے اکثریتی دیہی اور دوردراز کے علاقوں میں لبرل اور قدامت پرست سیاسی جماعتیں باہمی رضامندی سے خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے معاہدے کرتی چلی آئی ہیں۔ حالیہ تمام انتخابات میں یہ رویے ہم نے دیکھے ہیں تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ہمارے ہاں یہ قانون موجود ہے کہ اگر کسی حلقے میں خواتین کے ووٹوں کی شرح کُل رجسٹرڈ ووٹوں کے دس فی صد سے کم ہو تو وہاں دوبارہ انتخابات ہوں گے۔

اس قانون کا فائدہ لوئر دیر کی خواتین نے دو دفعہ اٹھایا ہے اور نامی گرامی سیاسی جماعتوں کی طرف سے پابندی کے خلاف عدالتوں کا رخ کیا ہے، لیکن یہ قانون اب بھی خواتین ووٹرز پر متوقع پابندیاں پوری طور پر ختم نہیں کرسکتا اس لیے اس میں ترمیم کرکے مزید اضافہ کیا جائے کہ جس بھی سیاسی جماعت نے خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی تو الیکشن کمیشن اس کی رجسٹریشن کو منسوخ کر نے کا مجاز ہوگا۔ اس طرح یہ سیاسی جماعتیں خواتین کے ووٹ کو عزت دینا سیکھ لیں گی۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر خواتین کی کیا حیثیت ہے؟ کیا ان کو ان کی سیاسی جماعت نے خالی جگہ پُر کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے یا اہم عہدوں اور فیصلوں کے عمل میں بھی شریک کیا ہے؟ برائے نام نمائندگی دینے میں اکثر جماعتوں کو کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ بس یہ خواتین کو اہم عہدوں اور اہم امور کے فیصلوں سے دور رکھنے کی سعی میں لگے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آگے جا کر انتخابات کے بعد یہی سیاسی جماعتیں ان خواتین کو مخصوص نشستوں کا تحفہ دے کر سمجھتی ہیں کہ انہوں نے ان پر کوئی بہت بڑا احسان کر دیا۔ حقیقت میں ایسا ہے بھی۔

جتنی خواتین مخصوص نشستوں پر آ جاتی ہیں ان کو ہمیشہ یہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ان کی جماعت نے مفت میں ان کو اسمبلی میں نشست دے کر ان پر احسان کیا ہے۔ اسمبلیوں میں بھی ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ کا نہ تو کوئی حلقہ ہے اور نہ ہی ووٹرز، لہذا آپ کا وسائل سے کیا سروکار۔ ایسی خواتین پھر خواتین کے لیے کیا خاک کام کر سکیں گی؟

اس کی ایک مثال تو ہمارے سامنے ہے کہ پچھلے 10 سال سے خواتین پر تشدد کے خاتمے کا بل خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے سرد خانے میں پڑا ہے۔ لیکن26 خواتین ممبران اس بل کو پاس کرنے میں آج تک کامیاب نہ ہوسکیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ ان کی سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ دوسری طرف یہ منتخب خواتین بے بس ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شروع شروع میں شاید یہ مخصوص نشتیں ایک ضرورت تھیں لیکن آج یہ خواتین کے سیاسی عمل میں بھرپور کردار نبھانے میں ایک رکاوٹ ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو براہ راست انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔ سیاسی جماعتیں جتنا وقت اور توانائی اپنے مرد عہدیدار کو انتخابات جتوانے پر صرف کرتی ہیں، اس کا آدھا بھی خواتین ممبران پر لگائیں تو ان کو اندازہ ہو کہ خواتین کتنی موثر سیاسی رہنما بن سکتی ہیں۔

خوش قسمتی سے پاکستانی عورت کی قابلیت اور صلاحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ فاطمہ جناح سے لے کر بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بیگم جہاں آرا شاہنواز تک اور پھر بےنظیر بھٹو۔ ان کی سیاسی قابلیت اور خدمات ہم سب کے سامنے ہیں۔

یہاں یہ تلخ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ سیاسی عمل میں جدوجہد کرنے والی ان خواتین کو کافی منفی اور نامناسب رویے بھی برداشت کرنا پڑے۔ اس رویے کی جھلک ہمیں آج بھی اپنے ہاں ملتی ہے جس کا اندازہ ٹوئٹر پر حالیہ ہیش ٹیگز سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسی قوم نے جہاں فاطمہ جناح کو 'مادر ملت' کا خطاب دیا اور بعد میں سیاسی اختلافات کی آڑ میں ان کے لیے بہت ساری مشکلات پیدا کیں۔

اس وقت پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، لیکن بات صرف تعداد تک ہی ہے۔ خواتین سے متعلق امور کی وزارتیں اس وقت مرد وزرا نے سنبھال رکھی ہیں۔ قومی اور صوبائی کابیناؤں میں خواتین کی تعداد انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔

اس وقت سیاست میں اکثریت ان خواتین کی ہے جن کو سیاسی عہدے وراثت میں ملے ہیں لہذا ضروری نہیں کہ وہ آپ کی سیاسی سوجھ بوجھ کی دلیل بن سکتا ہے۔ پاکستان میں خواتین کی سیاسی عمل میں موثر نمائندگی اور شرکت تب ہی ممکن ہے جب پاکستان کے ہر حصے سے کوئی بھی خاتون بلا امتیاز کسی بھی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے برابری کی بنیادوں پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرسکے گی۔ اس کے لیے اس کا تعلق کسی نامی گرامی سیاسی خاندان سے ہونا ضروری نہ ہو۔

بہت حد تک ذمہ داری اس وقت سیاسی عمل میں شریک خواتین سیاسی رہنماؤں پر بھی آتی ہے کہ وہ اپنی اپنی سیاسی جماعت کے اندر خواتین ووٹرز اور عہدیداروں کے حق کے لیے آواز اٹھائیں اور اپنی جماعت کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کریں کہ وہ خواتین ووٹرز اور عہدیداروں کی سیاسی شعور و تربیت پر توجہ دیں۔ اس کے علاوہ ہماری سیاسی خواتین رہنماؤں کو اپنے سیاسی اختلافات اور نظریات سے بالاتر ہوکر صرف خواتین کے ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

ہمیں جنرل پرویز مشرف سے بہت سے امور پر اختلافات سہی لیکن انہوں نے خواتین کی سیاسی شراکت کے حوالے جنوری 2003 میں ایک نیشنل کانفرنس سے اپنے خطاب میں خواتین کو ایک انتہائی اہم مشورہ دیا تھا ’کہ اسمبلیوں میں بیٹھی ہوئی تمام خواتین ممبران اپنی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور باہم مل کر یہ بات یقینی بنائیں کہ کوئی ایسی قانون سازی نہ ہونے پائے جو ان کے حق اور مفاد میں رکاوٹ بنے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ