کیا 2021 افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا سال ہوگا؟

دو دہائیوں پہلے نکالے جانے والے طالبان کیا دوبارہ 2021 میں اقتدار میں آسکیں گے؟ اور شراکت اقتدار کی نوعیت کیسی ہوگی؟

ستمبر 2020 میں افغان طالبان کے پنجوائی میں ایک سابق کمانڈر حاجی لالا اے ایف پی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ ایک دھائی سے طالبان کے لیے لڑنے کے بعد ان کی اپنے گھر واپسی کبھی ممکن نہیں ہوگی (اے ایف پی)

دوحہ شیرٹن ہوٹل میں فروری کے آخری دن معاہدے پر دستخط کے وقت سب سے زیادہ پرجوش اور پراعتماد اس تقریب میں شریک طالبان تھے۔ ان کے لیے یہ جیسے کہ بڑی فتح کا دن تھا۔ ہوٹل آمد سے قبل ان کی وکٹری مارچ ان کے ان جذبات کی عکاسی کرتی تھی۔ اس دن کو قریب سے دیکھ کر لگا کہ شاید افغانستان میں اچھے دن بھی جلد آنے والے ہیں لیکن سال کے اختتام پر رائے کچھ منقسم سی ہے۔

اگرچہ جنگ سے تباہ حال افغانستان کے لیے 2020 کئی پہلوؤں سے بہت ہی غیرمعمولی سال رہا لیکن ان 365 دنوں میں سے دس دن ایسے تھے جب کوئی پرتشدد کارروائی نہیں ہوئی۔ پورے سال میں شاید یہ دس روز کوئی بڑی تعداد نہیں لیکن افغانستان کے حملوں اور دھماکوں سے لبریز کلینڈر کے لیے یہ غیرمعمولی بات ہے۔

افغان طالبان چند سالوں سے عید پر تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے آئے ہیں لیکن اس سال انہوں نے دوحہ میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدے سے قبل ایک ہفتہ ’تشدد میں کمی‘ کا بھی منایا۔ اس طرح یہ اتنی چھوٹی سی پیش رفت بھی پسے ہوئے افغانوں کے لیے شاید اچھی خبر تھی۔

سال کی دوسری بڑی پیش رفت افغان مسئلے کے دو اہم فریقوں – امریکہ اور طالبان – کے درمیان سال ہاسال سے چلے آ رہے خفیہ مذاکرات بلآخر رنگ لے آئے۔ 29 فروری کو دنیا کے سامنے دوحہ کے ایک ہوٹل میں دونوں کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اگرچہ اس معاہدے کے بعد کے دس ماہ میں افغان عوام کے لیے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور افغانوں کا خون آج بھی کافی ’سستا‘ ہے لیکن یہ ایک طویل مصالحتی عمل اور قومی مفاہمت کی جانب شاید پہلا بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔

دوحہ معاہدے کے تحت چند اعتماد سازی کے اقدامات کے بعد دو اصل فریق – افغان حکومت اور طالبان – ستمبر سے آمنے سامنے بیٹھ کر دائمی امن کا کوئی راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ پیش رفت سست ہے لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ جاری ہے۔ یہ بعض مبصرین کے خیال میں امریکہ کے ساتھ بات چیت سے زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ایک اہم پیش رفت دو دسمبر 2020 کو سامنے آئی جس کے تحت ’وے فارورڈ معاہدے‘ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے نے بین الافغان بات چیت کا فریم ورک مہیا کر دیا۔ اس سمجھوتے کی یہ اہمیت ہے کہ طالبان نے کابل حکومت کو پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر ایک جائز فریق تسلیم کر لیا ہے۔ ماضی میں طالبان نے کابل میں حکومت کو امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دیا۔ اس 2020 کی افغانستان کے لیے تیسری اہم پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے۔

عام افغان کے لیے؟

2020 سے زیادہ اہم اب افغانستان کے لیے 2021 ہوگا۔ امن اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب طالبان اور کابل حکومت اپنے موقف میں نرمی دکھاتے ہوئے، ایک دوسرے کو جگہ دے سکیں، دوحہ عمل کو کسی مثبت منتقی انجام تک پہنچائیں۔ عالمی برادری ان کی مدد کرنے کے لیے پہلے سے تیار ہے۔ 24 نومبر کو جنیوا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، یورپی ریاستوں، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے کچھ دیگر ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اگلے چار سالوں میں افغانستان کو چار ارب ڈالرز فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

افغانوں کے لیے یہ تب ہی مفید ثابت ہوگی جب فریقین کوئی اپنے موقف میں غیرمعمولی لچک دکھائیں اور تشدد میں کمی لائیں۔ اب انہیں سب سے زیادہ کھلے دل اور دماغ کے ساتھ اس فتح کو افغان عوام کی کامیابی بنانا ہے۔

افغان عوام اس ساری بات چیت اور مذاکرات سے کوئی زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔ جس افغان سے بات کرو تو وہ زمینی حقائق و واقعات کی جانب اشارہ کرکے الٹا سوالیہ منہ بنا لیتا ہے۔ درجنوں افغانوں کی روزانہ ہلاکتوں کے علاوہ صحافی بھی محفوظ نہیں۔ اس سال نومبر اور دسمبر خونی ترین ماہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ عام آدمی کے علاوہ محض نومبر اور دسمبر میں تین جبکہ پورے سال میں سات صحافیوں کو اپنی جانیں کھونی پڑیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کابل میں افغان صحافی اور مصنف ببرک دروېش نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے افغانوں میں وسیع پیمانے پر پائی جانے والی غیریقینی کیفیت کا اظہار کچھ یوں کیا۔ ’مخالفین (طالبان) کو ایک سیاسی پتہ (ایڈریس) دیا گیا۔ ان پر بعض پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ اسے ہم پیش رفت کہہ سکتے ہیں لیکن دوسری جانب اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سال عام لوگوں اور سرکاری اہداف پر حملے زیادہ ہوئے ہیں جو مذاکرات کی اہمیت کو کم ان کی نفی کرتے ہیں۔ قطر معاہدے کے بعد تشدد میں اضافہ کئی سوال اٹھاتا ہے۔‘

ببرک درویش کہتے ہیں کہ ان کی ذاتی رائے میں پیش رفت ہوئی لیکن بہت کم۔ ’سیاست اور جنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر لڑائی جاری ہے تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی فائدہ کچھ نہیں ہوا ہے۔‘

پاکستان

2019 میں وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کافی اہم ثابت ہوا۔ خیال ہے کہ افغانستان سے نکلنے کی جلدی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناصرف پاکستان کو افغانستان کے مصالحتی عمل میں کردار دینے پر آمادہ ہوگئے بلکہ انہوں نے اسے ڈرائیونگ سیٹ میں بھی بٹھا دیا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کی ہی کوششوں سے طالبان پہلے امریکہ اور اب افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔ پاکستان کے لیے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ بیک وقت افغان حکومت اور طالبان کا اعتماد کیسے برقرار رکھے۔ اس سال ایک طویل عرصے کے بعد افغان حکومت کے اعلی عہدیداروں جن میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ شامل ہیں کے اسلام آباد کے سفارتی دوروں سے اشارے ملے کے کابل بھی پاکستان سے قدرے خوش ہے۔ دوسری جانب طالبان بھی اسلام آباد آئے اور رابطے جاری رکھے۔

مہمانوں کی آمد محض افغانستان سے آنے والوں پر محیط نہیں تھی بلکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی کابل کا دورہ کیا اور اپنی حکومت کی حمایت کا یقین دلایا۔

انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے مابین تجارتی اور معاشی تعلقات بڑھانے کی کوشش بھی کی جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افغانستان پاکستانی مصنوعات کے لیے زبردست مارکیٹ ہے اور تعلقات میں بہتری سے پاکستانی تاجر برادری زبردست فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ابھی خراب حالات میں بھی بہت کچھ برآمد کیا جاتا ہے لیکن قیام امن کے بعد اور افغانستان اور اس سے آگے وسطی ایشیا تجارت کے لیے کھل جائے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان پہلے ہی اس سال 27 سرحدی بازار شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکہ جائے گا کہ رکے گا؟

افغانستان میں 2001 میں فوجی اتارنے کے بعد سے سب سے بڑی یو ٹرن امریکہ نے 2020 میں لی۔ اگرچہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے عوامی سطح پر مسلسل انکار کے پیچھے کئی برسوں سے جاری بات چیت جاری تھی جو بلا آخر 29 فروری کے دوحہ معاہدے پر منتج ہوئی۔

اس سمجھوتے نے امریکی فوجیوں کے انخلا کا راستہ ہموار کیا اور ان کی تعداد 5000 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق جنوری کے وسط تک یہ تعداد محض اڑھائی ہزار تک رہ جانے کا امکان ہے۔ یہ فوجی محض کابل کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کافی ہوں گے باقی افغانستان اور افغان بظاہر شدت پسند تنظیموں اور افغان فورسز کے رحم و کرم پر ہوں گی۔ دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ کو طالبان حملوں سے استثنی حاصل ہے لہذا جنگ افغانوں کے درمیان رہ گئی ہے۔

منتخب صدر جو بائیڈن افغانستان کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ اس ’طویل جنگ سے تنگ‘ ہیں لیکن وہ اسے ذمہ داری کے ساتھ ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کو اس سے دوبارہ کبھی خطرہ نہ ہو۔ انہوں نے فوجیوں کی تعداد میں کمی کی بابت کوئی ردعمل نہیں دیا ہے لیکن تـجزیہ کاروں کے مطابق کم تعداد کا مطلب مذاکرات کی میز پر کم اثرورسوخ بھی ان کے ایک ایک مسئلہ ہوسکتا ہے۔

دوحہ معاہدے کے تحت مئی 2021 تک کاغذوں میں تمام امریکی فوجی مئی 2021 تک چلے جائیں گے لیکن امریکی کوشش ہے کہ کچھ فوجی باقی رہیں۔ لیکن کابل انتظامیہ کے ساتھ طالبان کے کسی سمجھوتے تک پہنچنے سے قبل ایسا ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ دوحہ معاہدے کی باقی کئی تاریخی مہلتیں بھی پوری نہیں ہوسکی تھیں۔

خدشہ ہے کہ کسی بین الافغان معاہدے کے بغیر امریکی انخلا افغانستان میں خطرناک خلا کا سبب بن سکتا ہے۔ 2020 کے آخری ایام میں ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا کابل سے دو دہائیوں پہلے نکالے جانے والے طالبان کیا دوبارہ اقتدار میں 2021 میں آسکیں گے؟ شراکت اقتدار کی نوعیت کیسی ہوگی؟ جیسا سال 2020 طالبان کے لیے رہا ہے لگتا نہیں کہ یہ اسلامی تحریک کسی حقیقی شرکت کے لیے تیار ہوگی۔ پھر اگر امریکیوں کے ساتھ آٹھ نو سال کے رابطوں اور مذاکرات کے بعد کسی سمجھوتے کی بن پائی تو جس رفتار سے دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت چل رہی ہے یہ کہنا مشکل ہے کہ 2021 میں یہ کسی انجام کو پہنچ پائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین