’وہ دادا کی قبر پہلے ہی فروخت کر چکے تھے‘

طارق روڈ کے ایک رہائشی محمد ذیشان نے بتایا تھا کہ جب ان کے چچا فوت ہوئے تو جو بات ان کے علم میں آئی وہ 'قبرکی چوری' تھی۔

ایک خاتون کراچی کے قبرستان میں اپنے عزیز کی قبر پر قرآن پڑھ رہی ہیں (اے ایف پی)

کراچی پاکستان کا گنجان آباد ترین شہر ہے، جہاں کے پوش علاقوں میں پراپرٹی کی قیمتیں ہوش ربا ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق شہر کے قبرستانوں میں جاری خفیہ کاروبار نے دفن کی جانے والی میتوں کی تعداد اور قبرستانوں میں دستیاب جگہ کے درمیان فرق واضح دیکھا جا سکتا ہے۔

 سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2020 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے قبرستانوں میں 28 ہزار 289 افراد کو دفن کیا گیا لیکن ان میں سے آٹھ ہزار لوگوں کو ان کی آخری آرام گاہ وہاں ملی جہاں نئی قبر کی جگہ ہی نہیں تھی۔

2019 میں طارق روڈ کے ایک رہائشی محمد ذیشان نے بتایا تھا کہ جب ان کے چچا فوت ہوئے تو جو بات ان کے علم میں آئی وہ 'قبرکی چوری' تھی۔ انہوں نے بتایا ’ہم پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے قبرستان گئے جہاں معمول کا جواب ملا:  'قبروں کے لیے جگہ نہیں لیکن اگر آپ کا کوئی رشتہ دار دفن ہے تو ہم نئے مرنے والے کے لیے اسی جگہ پر قبر کھود سکتے ہیں۔‘

ان کا خاندان مان گیا کیونکہ ذیشان کے دادا جو 2000 میں فوت ہوئے تھے وہ بھی وہیں دفن تھے لیکن جب خاندان کے لوگ ان کی قبر والی جگہ پر پہنچے تو یہ دیکھ کر ہل گئے قبر وہاں موجود نہیں تھی۔

ذیشان نے عرب نیوز کو بتایا: ’ہم اپنے دادا کی قبر دیکھنے کے لیے گئے، ہم کئی سال سے قبر دیکھنے نہیں گئے تھے، جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ قبر پر کسی اور کے نام کا کتبہ لگا ہوا ہے۔ وہ قبرکو پہلے ہی فروخت کر چکے تھے۔ پولیس سے شکایت کی دھمکی پر گورکنوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور کسی فیس کے بغیر نئی قبر کی پیش کش کی۔‘

گورکن کا کہنا تھا کہ ’قبروں کی فروخت کا دھندہ شہر کے حکام کے تعاون سے کئی سال سے جاری ہے۔ ان حکام میں پولیس اور مقامی انٹیلی جنس کے لوگ بھی شامل ہیں۔‘ عرب نیوز گورکن کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

گورکن نے مزید کہا کہ وہ مختلف قبروں پر نظر رکھتے ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ کسی قبر پر کئی سال سے لوگ نہیں آ رہے تو وہ اس قبر کا کتبہ توڑ دیتے ہیں۔ اس کے بعد قبر پر مزید کچھ ماہ تک نظر رکھی جاتی ہے۔ پھر رات کے وقت گورکن قبر کھود دیتے ہیں جس کے بعد اسے نئے خریدار کو پیش کر دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گورکن کا کہنا تھا کہ اس تمام عمل کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، کبھی کبھار ہی ایسا ہوتا ہے کہ قبرستان میں دفن شخص کے رشہ دار باضابطہ شکایت کردیتے ہیں جیسا کہ 2016 میں ان کے معاملے میں ہوا اور انہیں جیل جانا پڑا۔

سمندر کے قریب واقع ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر میں 200 قبرستان ہیں جن میں زیادہ تر مختلف برادریوں کی ملکیت ہیں۔48 بڑے قبرستانوں کا انتظام کے ایم سی کے پاس ہے جن میں سے کم از کم چھ پاپوش نگر، یاسین آباد، ماڈل کالونی، عظیم پورہ، شاہ فیصل اور کورنگی نمبر چھ کے قبرستان قبروں کی گنجائش مکمل طور پر ختم ہوجانے کے بعد تدفین کے لیے بند کیے جا چکے ہیں۔

اس سلسلے میں آخری نوٹیفکیشن  فروری 2017 میں جاری کیا گیا تھا۔ کے ایم سی کے زیرانتظام ایک قبرستان کے گورکن نے، جنہیں خود بھی 2016 میں قبرکو دوبارہ فروخت کرنے پر سزا ہو چکی ہے، عرب نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قبروں کی خریدوفروخت کا پرکشش کاروبار فروغ پا رہا ہے، کسی فرد کی زندگی میں انتہائی دکھ اور نقصان کے لمحات کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان