کیا کم قیمت والی نئی چینی گاڑی سٹی اور یارس کا مقابلہ کر سکے گی؟

 پاکستان کی ماسٹر موٹرز کمپنی نے چین کی کمپنی چانگن کے اشتراک سے پاکستان میں پہلی سیڈان (عام اصطلاح میں ڈگی والی)  گاڑی لانچ کرتے ہوئے اس کی پری بکنگ کا اعلان کر دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے معلوماتی بروشر میں بتایا گیا کہ اس گاڑی کی تین اقسام مارکیٹ میں آئیں گی۔(تصویر: چانگن)

پاکستان کی ماسٹر موٹرز کمپنی نے چین کی کمپنی چانگن کے اشتراک سے پاکستان میں پہلی سیڈان (عام اصطلاح میں ڈگی والی)  گاڑی لانچ کر دی ہے، جس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ گاڑی مارکیٹ میں پہلے سے موجود ٹویاٹا کی یارس اور ہنڈائی کی ہنڈا سٹی کا مقابلہ کر پائے گی۔

چانگن آلسوین(Changan Alsvin) کے نام سے 1300 سی سی اور 1500  سی سی گاڑیاں اس کمپنی نے 11 جنوری کو عوام کے لیے پیش کیں اور ساتھ میں گاڑی کی پری بکنگ کا اعلان بھی کردیا۔

کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے معلوماتی بروشر میں بتایا گیا کہ اس گاڑی کی تین اقسام مارکیٹ میں آئیں گی۔ پہلی بنیادی قسم آلسوین کمفرٹ (Alsvin Comfort)  کے نام سے ہوگی جو مینئول ٹرانسمیشن میں 1300 سی سی کی ہوگی جبکہ باقی دو آلسوین کمفرٹ (Alsvin Comfort)  اور آلسوین لیومیئر (Alsvin Lumeire) ہوں گی، جو آٹو میٹک ٹرانسمیشن سے لیس اور 1500 سی سی کی گاڑیاں ہوں گی۔

اسی طرح تینوں اقسام کی گاڑیوں کے فیچرز میں بھی کچھ نہ کچھ تبدیل کیا گیا ہے۔تینوں اقسام کے مختلف فیچرز اور قیمتوں کے حوالے سے معلومات یہاں پیش کی جارہی ہیں۔

آلسوین کمفرٹ 1300 سی سی

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پہلا بنیادی ماڈل 1300 سی سی کا ہوگا، جس کو آلسوین کمفرٹ کا نام دیا گیا ہے۔ گاڑی کی یہ قسم پانچ گیئرز کے ساتھ مینئول ٹرانسمیشن ہوگی، جس میں 99 ہارس پاور کا انجن لگا ہوا ہے جبکہ اس کا ٹارک یعنی برق رفتاری 135 نیوٹن میٹر ہے۔

اس بنیادی ماڈل کے باقی  فیچرز کی اگر بات کی جائے تو اس میں  سیفٹی کے حوالے سے دو ایئر بیگز، ریئر ویو کیمرہ، پارکنگ سینسرز، سات انچ کی ٹچ سکرین  اے ڈی آر ایل (ڈے رننگ لیمپس) یعنی دن کے وقت روشنی دینے والے لیمپس بھی شامل کیے گئے ہیں۔اس گاڑی میں 15 انچ کی الائی رم بھی کمپنی کی طرف سے فٹ ہے۔

آلسوین کمفرٹ اور آلسوین لیومیئر 1500 سی سی

لانچ کیے گئے اس نئے سیڈان کی دو دیگر گاڑیوں کے فیچرز کے درمیان تھوڑا سا فرق ہے۔ کمپنی کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق یہ گاڑیاں 1500 سی سی کی ہیں اور دونوں  انجن ہارس پاور 105 جبکہ ٹارک 145 نیوٹن میٹر ہے ۔ بنیادی ویرنٹ کی طرح یہ ویرینٹ بھی 15 انچ کی الائی رم کے ساتھ آتی ہے۔

تاہم ان میں سے آلسوین لیومیئر ویرینٹ میں سن روف، ایکو آئیڈل (یعنی جب گاڑی رک جائے اور اس کا انجن بند ہو تو فیول کا خرچہ کم ہو)، کروز کنٹرول (یعنی لمبے سفر پر ایک خاص سپیڈ دے کر ایک جیسی رفتار میں گاڑی چلانا)، ٹائر پریشر مانیٹرنگ (یعنی ٹائر میں ہوا کم ہونے پر سپیڈ میٹر پر سگنل ظاہر ہونا) جیسے فیچرز موجود ہیں، جو بنیادی اور آلسوین کمفرٹ کے 1500 سی سی ویرینٹ میں موجود نہیں ہیں۔

ان کی قیمتوں کا اگر موازنہ کیا جائے تو کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق 1300 سی سی کی  بنیادی ویرینٹ کی قیمت فائلر کے لیے 22 لاکھ 50 ہزار اور نان فائلر کے لیے 23 لاکھ روپے ہے۔ اسی طرح دوسرے 1500 سی سی کمفرٹ ویرینٹ کی قیمت فائلر کے لیے 24 لاکھ 50 ہزار جبکہ نان فائلر کے لیے 25 لاکھ ہے جبکہ فل آپشن آلسوین لیومیئر کی قیمت فائلر کے لیے 26 لاکھ جبکہ نان فائلر کے لیے 26 لاکھ 50 ہزار ہے۔

(فائلر وہ پاکستانی شہری ہوتے ہیں، جو سالانہ ٹیکس کے گوشوارے فیڈرل بورڈ آف روینیو کے پاس جمع کرواتے ہیں جبکہ نان فائلر ٹیکس گوشورے نہ جمع کرنے والے شہری ہوتے ہیں۔)

کیا نئی سیڈان ٹویوٹا کی یارس اور ہنڈا سٹی کا مقابلہ کر پائے گی؟

پاکستان میں ٹویوٹا اور ہنڈا  کمپنی کی گاڑیاں گذشتہ چار دہائیوں سے موجود ہیں اور پاکستان کی سڑکوں پر سب سے زیادہ گاڑیاں ان دو کمپینوں کی ہی نظر آتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق چانگن کمپنی کی نئی سیڈان گاڑی ٹویوٹا کی پچھلے سال لانچ کی گئی یارس گاڑی اور ہنڈا سٹی کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

تاہم اگر نئی لانچ کی گئی گاڑی کی قیمت کو دیکھا جائے تو یہ یارس اور سٹی کی قیمتوں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہنڈا سٹی کی 1500 سی سی ویرینٹ کی گاڑی کی آج کل قیمت 28 لاکھ 50 ہزار سے اوپر ہے جبکہ آلسوین میں بہت سے ایسے فیچرز موجود ہیں، جو سٹی میں نہیں ہیں، جس میں بنیادی فیچر سیفٹی کے حوالے سے ہے۔ ہنڈا سٹی گاڑی میں سیفٹی کے حوالے سے کوئی ایئر بیگ موجود نہیں ہے جبکہ آلسوین میں دو ایئر بیگز موجود ہیں۔

اسی طرح آلسوین کی فل آپشن ویرینٹ میں موجود سن روف، کروز کنٹرول، ریئر کیمرہ، ڈے لائٹ لیمپس اور پارکنگ سینسر جیسے فیچرز سٹی میں موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دونوں گاڑیوں کا انجن ٹارک 145 ہے جبکہ سٹی کی انجن کی ہارس پاور 120 جبکہ آلسوین کی 105 ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کے حوالے سے مشہور ویب سائٹ پاک وہیلز نے آلسوین کا ٹویوٹا کی یارس کے ساتھ بھی موازنہ کیا ہے۔ اس ویب سائٹ کے مطابق آلسوین کی فل آپشن 1500 سی سی آلسوین لیومیئر کی انجن ہارس پاور 105 جبکہ یارس کی 106 ہے۔ اسی طرح آلسوین کی انجن ٹارک 145 اور یارس کی 140 ہے۔

یارس میں سات سپیڈ کے سی وی ٹی گیئر جبکہ آلسوین میں جدید ٹیکنالوجی کے پانچ سپیڈ کے ڈی سی ٹی گیئر لگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح آلسوین میں سن روف اور کروز کنٹرول موجود ہے جو یارس میں موجود نہیں ہے۔ ریئر کیمرہ  اور ڈے ٹائم رننگ لیمپ یارس اور آلسوین دونوں میں موجود ہیں جبکہ پارکنگ سینسزر صرف آلسوین میں موجود  ہیں، یارس میں یہ فیچر نہیں ہے۔

یارس اور آلسوین کی قیمتوں کا اگر موازنہ کیا جائے تو ٹویوٹا کی نئی یارس فل آپشن گاڑی 30 لاکھ روپے میں ملتی ہے جبکہ آلسوین فل آپشن یعنی آلسوین لیومیئر کی قیمت 25 لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔

'چائنہ گاڑی کیسے مقابلہ کرے گی؟'

جب بھی کسی چینی کمپنی کی پروڈکٹ کے حوالے سے بات کی جاتی تو یہ فقرہ ضرور سننے کو ملتا ہے کہ 'چائنہ کا مال ہے۔' یہی بات چانگن کی نئی سیڈان گاڑی کے حوالے سے بھی شروع ہوگئی ہے کہ یہ کیسےجاپان کی ٹویٹا گاڑی کا مقابلے کرے گی۔

محمد خضر ریاض پشاور کے رہائشی ہیں اور گذشتہ 18 سالوں میں ہنڈا اور ٹویوٹا کی گاڑی استعمال کر چکے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'اس نئی گاڑی کے فیچرز میں دیکھ چکا ہوں، یہ ہنڈا سٹی اور یارس کے مقابلے میں کافی اچھی ہے تاہم بحیثیت گاہک میں اس کی ری سیل ویلیو کو دیکھوں گا۔'

خضر نے بتایا: 'چائنہ کی پروڈکٹس کے حوالے سے ایک عام تاثر یہی ہے کہ یہ اتنی اچھی نہیں ہوتیں۔ اس گاڑی کے فیچرز تو اچھے ہیں لیکن کوئی بھی خریدار دو تین لاکھ زیادہ دے کر اس قیمت میں ٹویوٹا اور سٹی لے سکتے ہیں تاکہ پھر بیچنے میں کوئی مسئلہ نہ ہوں۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کن شرائط پر یہ نئی گاڑی خریدیں گے؟ تو انہوں نے بتایا کہ 'اگر گاڑی کی قیمت 20 لاکھ تک ہو تو شاید میں اس کو خرید لوں کیونکہ اس رینج میں پھر مجھے کوئی دوسری بڑی سیڈان گاڑی نہیں مل سکتی جس میں اتنے فیچرز موجود ہوں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خضر نے بتایا: 'میں ذاتی طور پر گاڑی کی ری سیل اور ان کے سپیئر پارٹس کی آسان دستیابی کو دیکھتا ہوں۔ اب اگر یہ نئی چائنہ گاڑی آجائے تو شاید اس کے سپیئر پارٹس کی دستیابی کا مسئلہ ہو اور  شروع میں ری سیل کا مسئلہ بھی ہوگا، لیکن بعد میں جب گاڑی سڑک پر آجائے تب ہی پتہ لگے گا کہ کیا یہ اپنے لیے مارکیٹ میں جگہ بنا پائے گی یا نہیں۔'

پشاور  کے نارتھ ڈرائیو موٹر شو روم کے مالک محمد سلیمان  گذشتہ 20 سالوں سے گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ زیادہ تر نئی گاڑیاں جاپان سے برآمد کرتے ہیں، تاہم استعمال شدہ گاڑیوں میں ٹویوٹا کے خریدار زیادہ ہیں۔

سلیمان نے بتایا کہ نئی آلسوین گاڑی بظاہر تو اچھی ہے اور اس کے فیچرز بھی اچھے ہیں جبکہ قیمت کے لحاظ سے بھی یہ ٹویوٹا اور سٹی سے بہتر ہے۔

مارکیٹ میں جگہ بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں سلیمان کا کہنا تھا کہ 'چائنہ گاڑیوں میں یہ مشہور ہے کہ اگر چلی تو چلی اور  اگر نہ چلی تو وہ مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہیں۔'

انہوں نے بتایا: 'سڑک پر آنے کے بعد پتہ لگے گا کہ گاڑی کی کوالٹی کیسی ہے۔ اگر کوالٹی کے لحاظ سے گاڑی اچھی ثابت ہوگئی تو مارکیٹ میں جگہ بنا پائے گی کیونکہ فیچرز کے لحاظ سے یہ گاڑی بہتر ہے اور خریداروں کی ڈیمانڈ کے مطابق اس کے فیچرز بنائے گئے ہیں۔'

پاکستان آٹو میٹیو مینو فیکچر ایسوسی ایشن کے اعدادو شمار کے مطابق 2019 اور 2020 میں 1300 سی سی اور اس کے اوپر سیڈان گاڑیوں کی فروخت میں پاکستان میں ٹویوٹا سرفہرست رہا ہے۔ ٹویوٹا کرولا اور یارس کی اس سال مجموعی طور پر 23 ہزار سے زائد گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر ہنڈا کی سوک اور سٹی گاڑی ہے، جن کی اس سال 14 ہزار سے اوپر گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں۔

2019 اور 2020 کے اعدودوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے میں سیل اور پروڈکشن دونوں میں کرونا (کورونا) وبا کی وجہ سے کمی آئی ہے۔ 2018 اور 2019 میں ٹویوٹا کرولا کی 1300 سی سی سے زائد گاڑیوں کے مجموعی طور پر 56 ہزار سے زائد یونٹس فروخٹ کیے گئے جبکہ دوسرے نمبر پر ہنڈا سٹی اور سویک کے 40 ہزار سے زائد یونٹس فروخت کیے گئے تھے۔

کیا چانگن کمپنی پہلے بھی پاکستان میں گاڑیاں بنا چکی ہے؟

چانگن (Changan) کا شمار چین کی چار بڑی آٹو مینو فکچرنگ  کمپنیوں میں کیا جاتا ہے، جو مسافر بردار گاڑیوں سمیت سیڈان اور  سامان لے جانے والی گاڑیاں بھی بناتی ہے۔ اس کمپنی نے 2018  میں پاکستان کی ماسٹرز موٹرز، جو پاکستان میں گاڑیاں بناتی ہے، کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیا، جس کے تحت  ماسٹر موٹرز نے اس کمپنی کے لیے پاکستان میں گاڑیاں بنانی شروع کردیں۔

آلسوین سے پہلے پاکستان میں اس کمپنی کی پہلی گاڑی چانگن کاروان وین گاڑی تھی جس کا سوزوکی بولان کیری ڈبے کے ساتھ موازنہ کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کمپنی نے اب تک پاکستان میں دو دیگر گاڑیاں چانگن ایم ایٹ اور ایم نائن، جو پک اپ گاڑیاں ہیں، بھی لانچ کی ہیں۔

چانگن کمپنی کی بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق اس کمپنی نے چین میں پہلی گاڑی 1959 میں لانچ کی تھی اور اس کے بعد اس نے مختلف ماڈلز کی گاڑیاں بنانے کا آغاز کیا اور پہلی سیڈان گاڑی 2011 میں لانچ کی۔کمپنی ویب سائٹ کے مطابق ہر روز اس کمپنی کی آٹھ ہزار سے اوپر گاڑیاں دنیا کے 60 ممالک میں بیچی جاتی ہیں۔

جون 2018 میں اس کمپنی نے پاکستان کی ماسٹر موٹرز کے ساتھ معاہدہ کرکے پاکستان میں پروڈکشن پلانٹ بنانے کا فیصلہ کیا، جس کی سالانہ 30 ہزار گاڑیاں بنانے کی صلاحیت ہوگی۔ اس پلاںٹ میں چانگن کمپنی کی گاڑیاں معاہدے کے تحت بیرون ملک بھی برآمد کی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت