لاہور: بوڑھے باپ کی دو ذہنی معذور بیٹیوں کو قتل کرنے کے بعد ’خود کشی‘

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق 67 سالہ ضیا کے معاشی حالات خراب تھے اور وہ فکر مند تھے کہ ان کے بعد ان کی بچیوں کا کیا ہوگا۔

(اے ایف پی فائل فوٹو)

لاہور میں ایک باپ نے مبینہ طور پر اپنی دو ذہنی معذور بیٹیوں کو تیز دھار آلے سے قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لی۔

متعلقہ پولیس سٹیشن نے اہل محلہ کے حوالے سے بتایا کہ 67 سالہ ضیا اور ان کا خاندان لمبے عرصے سے راج گڑھ علاقے میں رہائش پزیر تھے، ضیا گھر کے اکیلے کفیل اور محنت مزدوری کرتے تھے۔ ایس پی انویسٹی گیشن عبدالوہاب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضیا کی دونوں بیٹیاں 34 سالہ سعدیہ اور 30 سالہ اقصیٰ ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہونے کی وجہ سے ذہنی و جسمانی طور پر معذور تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ضیا کے معاشی حالات خراب تھے اور وہ فکر مند تھے کہ ان کے بعد ان کی بچیوں کا کیا ہوگا۔ تینوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے بھجوا دی گئی ہیں جبکہ دیگر پہلوؤں سے بھی کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایس پی عبدالوہاب نے مزید بتایا کہ واقعے کے وقت بچیوں کی والدہ بھی گھر پر موجود تھیں مگر فی الحال ان کی حالت ایسی نہیں کہ وہ کوئی بیان قلم بند کروا سکیں البتہ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ضیا اپنے گھر کے حالات اور بچیوں کو لے کر ہر وقت پریشان رہتے تھے۔

عبدالوہاب کے مطابق ملزم ضیا نے معذور بیٹیوں کو مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے  پے در پے وار کر کے قتل کیا، جس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر خود کو بھی چھریوں کے وار سے زخمی کر لیا۔ ضیا کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ جان بر نہ ہو سکے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی اور انہیں حکم دیا کہ وہ کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کریں۔

قتل اور خود کشی کے اس واقعے کے مبینہ محرکات پر ماہر نفسیات ڈاکٹر شفقت ہما نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ڈاؤن سنڈروم یا کوئی بھی ایسی ذہنی معذوری جو مستقل ہو اور خاص طور پر اگر مریض لڑکیاں ہیں اور آپ کے پاس کوئی سوشل سپورٹ سسٹم نہیں تو ممکن ہے مریض کی دیکھ بھال کرنے والے برن آؤٹ ہو جائیں یا یوں کہیں کہ وہ ذہنی و جسمانی طور پر تھک جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ایسے مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال میں مختلف اقسام کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں جسمانی، نفسیاتی اور معاشرتی صورتحال شامل ہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہوتا ہے اس عمل میں ادویات بھی آجاتی ہیں جن کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مریض کو جو مسلسل ذہنی مسائل درپیش ہوتے ہیں ان کو بھی خاص طریقے سے ہینڈل کرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاؤن سنڈروم یا اسی طرح کی ذہنی بیماریوں کے شکار مریض چیزوں کو سمجھ نہیں پاتےجیسے کہ انہیں دوائی کب لینی ہے یا انہیں کس وقت کس چیز کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر شفقت کا کہنا ہے کہ ڈاؤن سنڈروم کے مریضوں کا آئی کیو(IQ) لیول کافی کم ہوتا ہے انہیں نہیں پتا چلتا کہ کیسے بات کرنی ہے، اسی طرح دوسرے لوگوں کو ان کے ساتھ برتاؤ کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان