ن لیگ، پی پی پی کے بعد جے یو آئی کا ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ

جے یو آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اسلم غوری نے آج دوپہر میں کہا تھا کہ ان کی پارٹی ضمنی الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی، تاہم شام کو ایک اجلاس میں پارٹی نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔

کوئٹہ میں پی ڈی ایم جلسے کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کے بینر دکھائی دے رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مخالف سیاسی پارٹیوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) میں شامل دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد جمعیت علمائے اسلام نے بھی جمعرات کو انتخابات لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اسلم غوری نے آج دوپہر انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا تھا کہ ان کی پارٹی ملک کے آٹھ قومی اور صوبائی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔ تاہم شام کو ہونے والے ایک اجلاس میں پارٹی نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔

غوری نے دوپہر میں کہا تھا: ’پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ لی رہی ہوں گی، جو ان کی صوابدید ہے، مگر جے یو آئی نے اصولی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی کیوں کہ اگر اس حکومت کے خلاف جاری تحریک میں استعفے ہی دینے ہیں تو پھر الیکشن کیوں لڑیں؟'  

ان کا دعوٰی ہے کہ ضمنی انتخابات میں سے دو نشستیں جے یو آئی کی ہیں کیونکہ خیبر پُختونخوا کے ضلع کرم میں قومی اسمبلی کی نششت این اے 45 پر جیتنے والے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کا تعلق جے یو آئی سے تھا، وہ دو جون، 2020 میں کرونا وائرس سے چل بسے تھے جبکہ بلوچستان کے علاقے پشین میں صوبائی اسمبلی کی نششت پی بی 20 جے یوآئی کے رہنما سید فضل آغا کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 

آج شام پارٹی اجلاس کے بعد غوری نے بتایا کہ جے یو آئی نے این اے 45 اور پی بی 20 پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، این اے 45 پر حاجی جمیل جب کہ پی بی 20 پر عزیزاللہ پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

واضح رہے کہ یکم جنوری کو رائیونڈ میں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا تھا کہ پی ڈی ایم جس دن استعفے دینے کا اعلان کرے گے اس سے ایک دن پہلے بھی اگر کوئی ضمنی الیکشن ہوا تو وہ اس ’جعلی حکومت‘ کے لیے راستہ کھلا نہیں چھوڑے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الیکشن کمیشن نے سندھ کی تین اور بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی ایک، ایک صوبائی نشست جبکہ قومی اسمبلی کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ایک، ایک نشست پر ضمنی الیکشن کا اعلان کیا ہے۔  

صوبائی اسمبلی کی جن حلقوں پر ضمنی انتخاب ہوگا ان میں سندھ کے حلقے پی ایس-52 عمر کوٹ، پی ایس-88 ملیر اور پی ایس-43 سانگھڑ جبکہ پی پی-51 گوجرانوالہ (پنجاب)، پی کے-63 نوشہرہ (کے پی) اور پی بی-20 پشین (بلوچستان) شامل ہے۔ قومی اسمبلی کی جن دو نشستوں پر ضمنی انتخاب ہونا ہے ان میں این اے-75 سیالکوٹ اور این اے-45 کرم شامل ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ کی ایک صوبائی نششت پی ایس 52 پر پورے ایک سال بعد ضمنی انتخاب 19 جنوری کو ہوگا۔ یہ نشست 19 جنوری، 2020 کو سید علی مردان شاہ کے انتقال پر خالی ہوئی تھی مگر کرونا وبا کے سبب الیکشن کمیشن نے ضمنی الیکشن ملتوی کر دیا تھا۔ باقی حلقوں میں ضمنی الیکشن 19 فروری کو ہوں گے۔ خیال رہے کہ سندھ میں ن لیگ نے پی پی پی امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست