کیا بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے غیر قانونی قبضوں کے خلاف کھڑی ہو گی؟

حلف برداری کے چند گھنٹوں کے اندر ہی بائیڈن انتظامیہ نے بڑی تبدیلیوں پر مبنی اقدامات لینے شروع کر دیے جس میں ٹرمپ کی کئی پالیسیوں کا خاتمہ کیا گیا۔ اب محسوس ہوتا ہے کہ دنیا امریکہ کو مزید سنجیدگی سے لے گی۔

بائیڈن کی حلف برداری نے ایک فوری پیغام بھیجا ہے کہ امریکہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے تیار ہے (اے ایف پی)

ایک دن کیا کچھ بدل سکتا ہے۔ امریکہ اس ہفتے ٹی وی سکرین سے چپکا ہوا بیٹھا تھا اور جو بائیڈن کی بطور 46ویں امریکی صدر حلف برداری کو امید اور خوشی سے دیکھ رہا تھا۔ باقی دنیا گو کہ مشترکہ طور پر سکون کا سانس لے رہی تھی۔ سفارتی آداب اور بین الااقوامی تعلقات کی واپسی اس سے جلدی نہیں آ سکتی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ چار سال کے دوران دنیا بھر میں امریکہ کی ساکھ کو برباد کر دیا تھا۔ اتحادیوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ایران سے جوہری معاہدے سے یک طرفہ علیحدگی اختیار کرنا ہو یا پیرس معاہدے سے انخلا، سابق صدر نے عالمی برادری کے مقابلے میں اپنے (اقلیتی) حامیوں کو خوش کرنے کی مسلسل کوشش جاری رکھی۔ ان کے اقدامات کے باعث 2016 سے دنیا بھر میں امریکہ پر اعتماد میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو کہ کسی بھی ملک کے لیے بہت زیادہ اور بہت تیز رفتار ہے۔

بائیڈن کی حلف برداری نے ایک فوری پیغام بھیجا ہے کہ امریکہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے تیار ہے۔ اب محسوس ہوتا ہے کہ دنیا امریکہ کو مزید سنجیدگی سے لے گی نا کہ اس طرح اس کا کھلے عام مذاق اڑائے گی جیسا سابقہ بد نظم انتظامیہ کے دور میں ورلڈ لیڈر اکثر کیا کرتے تھے۔ 

خراب ہونے والے بین الااقوامی تعلقات کے بارے میں آگاہی رکھنے والے بائیڈن نے کی حلف برداری کی تقریر میں اتحادیوں سے تعلق جوڑنے کی ایک کوشش کی۔ ’اپنی سرحدوں سے باہر‘ موجود لوگوں سے بات کرتے ہوئے بائیڈن نے دعویٰ کیا: ’امریکہ کا امتحان لیا گیا اور ہم اس میں مزید طاقتور ہو کر سرخرو ہوئے ہیں۔ ہم اپنے تعلقات بحال کریں گے اور دنیا سے ایک بار پھر رابطے قائم کریں گے۔‘

حلف برداری کے چند گھنٹوں کے اندر ہی بائیڈن انتظامیہ نے بڑی تبدیلیوں پر مبنی اقدامات لینے شروع کر دیے۔ سب سے اہم اور سب سے پہلے بائیڈن نے عالمی ادارہ صحت سے تعلق کو بحال کیا۔ آج ڈاکٹر فاؤچی ڈبلیو ایچ او کے اجلاس میں شرکت کر کے کووڈ 19 پر قابو پانے کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ جہاں اتنی ساری زندگیاں داؤ پر لگی ہیں، ویسے وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری جین پساکی نے کہا کہ نئی انتظامیہ ’وقت ضائع نہیں کر رہی۔‘

بائیڈن نے پیرس معاہدے میں واپس شمولیت کے حوالے سے بھی مزید وقت نہیں لیا اور ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس کی توثیق کر دی۔ اس اقدام نے دنیا کو بتایا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی سے مقابلے اور سر سبز مستقبل کے لیے سرگرم ہو گا۔

 ایک اور کم واضح تبدیلی جو کئی ٹوئٹر صارفین نے نوٹ کی وہ امریکی سفیر برائے اسرائیل کے ٹوئٹر پر نام کو ’امریکی سفیر برائے اسرائیل‘ سے بدل کر ’امریکی سفیر برائے اسرائیل، مغربی کنارہ اور غزہ‘ کرنا تھا گو کہ اس کو جلد ہی دوبارہ بدل دیا گیا۔ لیکن یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر اسرائیل کے غیر قانونی قبضوں کے خلاف کھڑا ہو گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے منظور کردہ ان اقدامات کی دنیا بھر کے ممالک مذمت کرتے رہے۔ یہ ایک بہت چھوٹا قدم ہے لیکن یہ امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ بائیڈن نے اقتدار کی منتقلی کے وقت کے دوران ایک ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے لیے امریکی سفیر کے بجائے فلسطین کے لیے ایک الگ کونسل متعین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دنیا بھر کے رہنماؤں نے امریکی انتظامیہ میں تبدیلی پر مثبت انداز میں ردعمل دیا ہے اور کچھ نے تو ٹرمپ پر بروقت لیکن جاندار حملے بھی کیے ہیں۔ یورپی یونین کمشن کی صدر ارسلا وون ڈر لین نے ٹویٹ کی ’امریکہ واپس آ چکا ہے اور یورپ تیار ہے کہ ہم اپنے پرانے قابل اعتماد دوست سے رابطہ بحال کریں اور اپنے مضبوط اتحاد میں نئی زندگی پھونکیں۔‘

ایران اس سے ایک قدم اور اگے گیا۔ ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے کابینہ اجلاس میں صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ وہ شکر گزار ہیں کہ ’ظالم کا دور اقتدار ختم ہو چکا ہے۔‘ 

امریکہ اور ایران کے درمیان غیر ضروری کشیدگی نے ٹرمپ کے دور میں تعلقات کو مکمل ختم کر دیا تھا اور دونوں جانب سے تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے تھے۔ روحانی کے کہنے کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ دونوں ممالک ٹرمپ دور کی بدترین پابندیوں میں عام ایرانی شہریوں کی حالت کے مزید خراب ہونے کے بعد اوباما دور کے بہتر تعلقات کی جانب واپس جائیں۔ 

اور وہ لوگ جو ابھی بھی امریکہ کو ’آزاد دنیا کے قائد‘ کے طور پر دیکھتے ہیں ان کے لیے ایک ایسا صدر جو سائنس، ڈیٹا اور حقائق میں یقین رکھتا ہے ایک اچھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔

بائیڈن قوم کی سوچ اور ساکھ کو بدلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکے ہیں لیکن یہاں مشکلات کافی بڑی ہیں۔ غیر ملکی رہنماؤں کے اعتماد کو قائم رکھنا مشکل ہو گا خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے پہلے دستخط شدہ معاہدوں کو آسانی سے چھوڑنے کے بعد۔

ٹرمپ کے دور کے فیصلوں کو واپس لینے کے بھی اپنے نتائج ہوں گے۔ یہ حقیقت کے بائیڈن نے متنازع کی سٹون ایکس ایل پائپ لائن کا منصوبہ اپنے پہلے دن ہی واپس لے لیا اور اس بارے میں کینیڈین حکام سے گفتگو نہیں کی، کینیڈا کے لیے مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے۔ گو کہ یہ نہیں لگتا کہ ایسا جان بوجھ کے کیا گیا ہے۔

بائیڈن کو ٹرمپ کے اقدامات کو واپس لیتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ہو گا اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ٹرمپ کی زیادہ تر بیان بازی کو دنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے سنجیدگی سے لیا گیا ہو گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر