ایران بائیڈن کا منتظر لیکن ٹرمپ کے ساتھ جنگ اب بھی ہوسکتی ہے؟

ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے میں طے شدہ یورنیم افزودہ کرنے کی حد کو 20 فیصد تک بڑھا رہا ہے مگر اس کا بھی اشارہ کیا کہ وہ یہ قدم واپس لے سکتا ہے اگر بائیڈن صدر ٹرمپ کی عائد پابندیوں کو ہٹا دیں۔

سال 2018 میں جوہری معاہدے سے امریکی انخلا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے(اے ایف پی فائل)

ایران نے نئے سال کا آغاز نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن پر دباؤ ڈالنے سے کیا ہے لیکن خدشات ہیں کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ابھی بھی تنازع چھڑ سکتا ہے جو ابھی تک امریکی افواج کے سربراہ ہیں اور اقتدار میں رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ سال 2015 میں صدر براک اوباما کے دور میں کیے جانے والے معاہدے میں طے کردہ یورینیئم افزودہ کرنے کی حد میں اضافہ کر رہا ہے۔ ساتھ ہی اس کی جانب سے اشارہ دیا گیا کہ وہ اس قدم کو واپس لے سکتا ہے اگر جو بائیڈن 20 جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ پابندیوں کو ختم کر دیتے ہیں۔

سال 2018 میں جوہری معاہدے سے امریکی انخلا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے جس میں حالیہ دنوں کے دوران امریکی بی 52 بمبار طیاروں کی خلیج پر پروازوں اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس نہ لانے کے فیصلے کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک غیر معمولی بیان، جو پینٹاگون کے بجائے وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ معلوم ہوتا ہے، میں امریکی وزیر دفاع کرسٹوفر ملر کی جانب سے اتوار کو کہا گیا کہ وہ یو ایس ایس نمٹز کو خلیج میں ہی رکھیں گے جس کی وجہ امریکی عہدے داروں خاص طور پر امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف ایرانی دھمکیاں بتائی گئیں ہیں۔

میسی چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں نیوکلئیر سٹریٹجی کے ماہر وپن نارنگ کا اس حوالے سے کہنا تھا: ’ہم نے ڈیٹرنس کی نئی قسم دیکھی ہے۔ شیزو فرینیک ڈیٹرنس، ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ نمٹز کو واپس نہ بلا کر مضبوط دکھائی دینے کے بجائے ایک غلط پیغام بھیجا جا رہا ہے یعنی کہ واشنگٹن میں اس وقت مکمل افرتفری ہے اور اگر آپ نشانہ لگانا چاہتے ہیں تو یہ درست وقت ہو گا جب آپ کو ایسا کرنا چاہیے۔‘

نارنگ کے مطابق امریکہ کی فوجی کارروائی کے امکانات کم ہیں لیکن صدر ٹرمپ اپنی الیکشن شکست کو بدلنے کے حوالے سے غیر متوقع رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

نارنگ کا کہنا ہے: ’اگر میں ایران ہوتا تو میں سوچتا کہ صدر ٹرمپ الیکشن نتائج پر غصے کے باعث تھوڑی سے اشتعال انگیز حرکت پر بھی بہت زیادہ رد عمل دیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر ٹرمپ بغداد میں امریکی سفارت خانے پر گذشتہ ہفتے ہونے والے راکٹ حملوں کے بعد تنبیہ کر چکے ہیں کہ کسی بھی امریکی کی ہلاکت کے لیے وہ ایران کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ ان حملوں کا الزام ایران کے اتحادی شیعہ پیرا ملٹری دستوں پر عائد کیا گیا ہے۔

لیکن اتوار کو ایران کے مشہور جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بننے کے بعد پہلی برسی پر مظاہروں اور ایران کے انتقام لینے کے بیانات کے باوجود پرامن انداز میں گزر چکی ہے۔

ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ یورینیئم افزودگی کو 20 فیصد تک بڑھا رہا ہے جو کہ جوہری معاہدے میں طے کردہ 3.67 فیصد سے زیادہ ہے۔

لیکن ماہرین کے مطابق یہ قدم فوری طور پر واپس لیا جا سکتا ہے اور صرف یورینیئم افزودگی میں اضافہ کرنا ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے قریب نہیں کر سکتا گو کہ ایران یہ مقصد حاصل کرنے کی تردید کرتا ہے۔ 

امریکی محکمہ توانائی میں سال 2015 کے دوران جوہری معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے والے کوری ہینڈرسٹین کا کہنا ہے کہ ایران کا مقصد معاملے کو اپنے جوہری پروگرام تک محدود رکھنا اور بائیڈن کی سفارتی کوششوں کو مزید وسعت دینے سے روکنا ہو سکتا ہے۔

جیک سلیوان جو کہ جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر ہوں گے نے ’سی این این‘ کے اتوار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آنے والی انتظامیہ ایران کی بلاسٹک میزائیل صلاحیت کو محدود کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ایران ان اقدامات سے ملے جلے پیغامات بھیج رہا ہے یعنی وہ جوہری سرگرمیوں کو فوری طور پر بڑھا سکتا ہے اور نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد وہ مذاکرات کو محدود کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں صدر ٹرمپ انتظامیہ کے باقی رہنے والے دنوں میں فیصلہ سازی کی وجوہات معلوم نہیں ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ اس کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔‘

سخت گیر دھمکیوں اور مکمل پابندیوں کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنی ناکام الیکشن مہم میں نئی جنگ نہ شروع کرنے کو ایک کامیابی بتایا ہے اور اپنے مشیروں کے مشورے کے باوجود 2019 میں ایران پر حملے سے اجتناب کیا۔

ایران کے خلاف طاقت کے استعمال پر اسرائیل زیادہ متذبذب نہیں ہے جو ایران کو اپنے اصل دشمن کے طور پر دیکھتا ہے اور نومبر میں تہران کے نواح میں ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادے کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ بھی اسرائیل پر ہی ظاہر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے ایک آبدوز کی خلیج روانگی کی خبریں بھی دی ہیں جبکہ وزیر دفاع بینی گانٹز نے غیر واضح ’حالات‘ کا انتباہ بھی جاری کیا ہے۔ لیکن ٹرمپ کے اتحادی بھی ایران کو بائیڈن کا منتظر دیکھتے ہیں۔

’فاکس نیوز‘ پر اکثر ظاہر ہونے والے جیک کائین، جنہیں صدر ٹرمپ بھی دیکھتے ہیں، کا کہنا ہے: ’جنگی جہازوں اور طیاروں کی حالیہ تعیناتی امریکہ کی فوجی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ایرانی کچھ کرنے جا رہے ہیں۔ وہ کچھ نہیں کرنا چاہیں گے تاکہ صدر بائیڈن کے ساتھ مذاکرات کا امکان باقی رہے جن سے انہیں امید ہے کہ وہ پابندیوں کو ختم کر دیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا