مدینہ دنیا کے صحت مند ترین شہروں میں شامل

مدینہ کو یہ اعزاز عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے دورے کے بعد حاصل ہوا جن کا کہنا تھا کہ یہ شہر صحت مند ترین معیار کے لیے درکار تمام عالمی معیارات پر پورا اترتا ہے۔

(پکسابے)

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مکہ کے بعد دوسرے مقدس ترین مقام سعودی عرب کے شہر مدینہ کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا کے سب سے زیادہ صحت مند شہروں میں شامل کر لیا ہے۔

مدینہ کو یہ اعزاز عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے دورے کے بعد حاصل ہوا جن کا کہنا تھا کہ یہ شہر صحت مند ترین معیار کے لیے درکار تمام عالمی معیارات پر پورا اترتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مدینہ پہلا 20 لاکھ کی آبادی والا شہر ہے جسے تنظیم کی جانب سے صحت مند شہر تسلیم کیا گیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق مجموعی طور پر 22 سرکاری، کمیونیٹی، چیریٹی اور رضاکار ایجنسیوں نے ڈبلیو ایچ او کی منظوری میں مدد فراہم کی ہے۔

تنظیم کے جائزے کے لیے شہر کے مربوط پروگرام میں الیکٹرانک پلیٹ فارم پر حکومتی ضروریات کو ریکارڈ کرنے کے لیے طیبہ یونیورسٹی کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری  بھی شامل رہی۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کو اس پروگرام میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھنے والی دیگر قومی شہروں کی ایجنسیوں کو بھی تربیت فراہم کرنا چاہیے۔

پروگرام کے تحت یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالعزیز آسارانی کی زیرصدارت ایک کمیٹی نے 22 سرکاری، شہری، چیرٹی اور رضاکار ایجنسیوں کی نمائندگی کرنے والے 100 ممبروں کی قیادت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مطلوبہ معیار میں مدینہ ریجن سٹریٹیجی پروجیکٹ کے طے کردہ اہداف کو پورا کرنا اور ’ہیومنائزنگ سٹیز‘ پروگرام شامل ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ’ایک صحت مند شہر کے لیے مادی اور معاشرتی ماحول کو مستقل طور پر تخلیق کرنا اور بہتر بناتا ہوتا ہے اور معاشرتی وسائل کو وسعت دے کر شہریوں کو زندگی کے تمام امور کو انجام دینے اور ان کی زیادہ سے زیادہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں تعاون فراہم کرتا ہے۔‘

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے مدینہ کو ’صحت مند شہر‘ کا سرٹیفکیٹ وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے گورنر مدینہ شہزادہ فیصل بن سلمان کو پیش کیا۔

عالمی ادارہ صحت نے ’صحت مند شہر‘ کے لیے جتنےعالمی معیار مقرر کیے تھے، مدینہ اس سب پر پورا اترا ہے۔

اس کا اہم پہلو یہ تھا کہ شہر میں سپیشلسٹ فلاحی انجمنیں قائم کی گئیں۔ سرکاری اداروں کی شراکت سے خصوصی صحت پروگرام پر عمل کیا گیا۔

اس سلسلے میں ’ای صدقہ‘ پروجیکٹ قابل ذکر ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ تھا- اس کے علاوہ فلاحی انجمنوں کی مدد سے صحت پروگرام چلائے گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا