بچوں کے تحفظ کے قانون میں ترامیم پر سماجی کارکنوں کو تحفظات؟

صوبائی اسمبلی کے اراکین نے ’بچوں کے تحفظ اور فلاح وبہبود کا ترمیمی بل 2020‘ تیار کر لیا ہے مگر سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس ترمیی بل میں کچھ تجاویز آئین اور انسانی وقار کے منافی ہیں۔

(اے ایف پی)

بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں سول سوسائٹی اور عوام کے دباؤ پر ’بچوں کے تحفظ اور فلاح وبہبود کا ترمیمی بل 2020‘ تیار ہونے کے بعد صوبائی کابینہ میں پیش ہونے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔

یہ توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلد یہ ترامیم قانون کا حصہ بن جائیں گی۔ تاہم بچوں کے تحفظ اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے اداروں اور کارکنوں نے بل میں موجود ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایک سال قبل نوشہرہ میں ایک سات سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے بعد 2010 کے بچوں کے تحفظ کے قانون میں موجود نقائص ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ رکن صوبائی اسمبلی عائشہ بانو کے مطابق خیبر پختونخوا میں بچوں کے تحفظ کا ترمیمی بل آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش ہونے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترامیم پر کام کرنے  والے اراکین اسمبلی جن میں اپوزیشن اور حکومت دونوں شامل تھے نے یہ کوشش کی ہے کہ ترامیم کے ذریعے مجرمان کو قرار واقعی سزا دی جا سکے اور صوبے بھر کے بچوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

تاہم سول سوسائٹی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت اس ترامیمی بل کی منظوری میں جلد بازی سے کام نہ لے کیونکہ اس میں کچھ تجاویز عدالتی فیصلوں کے خلاف ہیں اور کچھ خامیاں ایسی ہیں جو اگر قانون کا حصہ بن گئیں تو انصاف کا عمل مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

پیر کو جاری ایک پریس ریلیز میں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے چلڈرن رائٹس موومنٹ نے کہا کہ قانون کے مجوزے میں تجویز دی گئی ہے کہ جنسی نوعیت کے جرائم میں اگر سزا موت سنائی جاتی ہے تو اس سزا کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے جو ضرورت پڑنے پر عوامی طور پر دستیاب ہو۔ مگر یہ تجویز سپریم کورٹ کے خلاف جاتی ہے کیونکہ اعلیٰ عدالت عوامی طور پر پھانسی دینے، چاہے کوئی بھی سنگین جرم ہو، کو آئین کے آرٹیکل 14 میں دیے گئے انسانی وقار  کے حق کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہے۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ تجویز کردہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 143 کے خلاف بھی جاتی ہیں جس کے مطابق صوبائی قوانین کو وفاقی قوانین سے متضاد نہیں ہونے چاہیے۔

تجویز کردہ ترامیم میں متضاد کیا ہے؟

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے بلیو وینز نے ایک خصوصی رپورٹ ترتیب دی ہے جس میں صوبائی قانون کے وفاقی قانون سے متضاد ہونے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات کچھ یوں ہیں۔

1- مجوزہ قانون میں بچوں کے اعضا سے جڑے جرائم پر سزائے موت، عمر قید اور 50 لاکھ تک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ سال 2010 کے ’ٹرانسپلانٹیشن، انسانی اعضا اور ٹشو ایکٹ‘ کی دفعہ نمبر 11 کے مطابق بچے کے اعضا کی خرید وفروخت ایک قانونی جرم ہے اور اس کی سزا دس سال قید اور دس لاکھ جرمانہ رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2- مجوزہ ترامیم میں بچوں کو جنسی طور پر بہکانے کے جرم کی سزا دس سال قید اور 20 لاکھ جرمانہ رکھا گیا ہے، جوکہ پاکستان کے وفاقی قانون یعنی پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 291-اے سے تصادم میں ہے۔ وفاقی قانون کے مطابق ایسے جرم کی سزا ایک سے سات سال کی قید اور ایک لاکھ سے سات لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔

3- مجوزہ قانون کے مطابق چائلڈ ٹریفیکنگ کے جرم میں ملوث افراد کے لیے کم سے کم 14 اور زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ ’پریونیشن آف ٹریفیکینگ ان پرسنز ایکٹ 2018‘ کی دفعہ تین کے مطابق اس قسم کے جرم کی سزا دو سے دس سال قید، دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔

وفاقی قانون میں ملک کے اندر اور باہر کسی شخص کی سمگلنگ کے حوالے سے بھی تفصیلی سزائیں اور ان کا اطلاق موجود ہے۔ تاہم صوبائی قانون میں اس جرم کی تشریح نہیں کی گئی ہے۔

4- مجوزہ ترمیم میں جنسی زیادتی کی سزا 14 سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانہ رکھا گیا ہے۔ تاہم 1860 پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 377-بی کے مطابق اس جرم کی سزا کم سے کم چودہ سال قید ہے اور اس میں پچیس سال تک توسیع بھی ہو سکتی ہے مزید برآں، اس جرم کی پاداش میں جرمانہ دس لاکھ روپے سے کم نہیں ہوگا۔

5- مجوزہ ترمیمی بل میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی نازیبا ویڈیو کا مقدمہ ہائی کورٹ کے تحت قائم ہونے والی خصوصی ماڈل عدالتوں میں چلانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ’جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018‘ ہدایت دیتا ہے کہ اگر جنسی زیادتی کا مقدمہ 18 سال سے کم عمر یا نابالغ بچوں پر ہے تو وہ ’جووینائل عدالتوں‘ میں چلایا جائے گا۔

مجوزہ ترامیم کی مخالفت کی وجہ کیا ہے؟

مختلف ماہرین اور تجزیہ نگار میڈیا پر ان ترامیم کو تنقید کا نشانہ اس بنیاد پر بھی بنا رہے ہیں کہ ان کی نظر میں سال 2010 میں بننے والا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ ایک جامع قانون تھا، جس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

اس تنقید کا خلاصہ یہ ہے کہ 2010 کے قانون کے تحت ایک کمیشن کے قیام عمل میں لانے کے ساتھ ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں اور یونٹس بنانے کی بات کی گئی تھی، اور یہ کہا گیا تھا کہ سوشل ویلفئیر افسران بچوں کے واقعات اور معاملات کی ذمہ داری سرانجام دیں گے  اور ہر چار ماہ بعد ایک اجلاس کا اہتمام کریں گے جس میں تمام واقعات، مشکلات اور رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ جائزہ رپورٹ مزید غوروخوض کے لیے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کو بھیجی جائے گی اور کمیشن اس رپورٹ کو حکومتی عہدیداروں کے ساتھ زیر بحث لائے گی۔

اس قانون میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہر ضلعے میں ہائی کورٹ کے زیر اہتمام ’چائلڈ پروٹیکشن  کورٹس‘ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ کمیشن بچوں کے تحفظ کی خاطر نئے قوانین کا جائزہ بھی لے گا اور اس حوالے سے پہلے سے دستیاب اعداد و شمار جمع کرے گا، تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں جدت کو ممکن بنایا جا سکے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ تمام ضلعوں میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ فعال ہیں اور وہاں پر ڈسٹرکٹ سوشل ویلفئیر افسران اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ تاہم بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے اور دس سال گزرنے کے باوجود قانون پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ان کے بقول اگر یونٹس بحال  ہیں تو ان کے چار ماہی اجلاسوں کی تفصیلات کہاں ہیں؟

بلیو وینز ادارے کے بانی اور بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے معروف سماجی کارکن قمر نسیم نے انڈپینڈنٹ بتایا کہ بچوں کو تحفظ دلانے کے لیے نہ تو ترامیم کارگر ثابت ہو سکتی ہیں اور نہ ہی کوئی نیا قانون متعارف کرنے سے ان مسائل کی بیخ کنی ہوگی۔

انہوں نے کہا: ’2010 میں متعارف کروائے گئے بچوں کے تحفظ کے صوبائی قانون پر آج دس سال گزرنے کے بعد بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اس قانون میں بتایا گیا تھا کہ ضلعی سطح پر یونٹس بنیں گے اور سوشل ویلفئیر آفیسر ان معاملات اور واقعات کی خبر لیں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘

سماجی کارکنوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت قائم کیے گئے یونٹس کو اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسیف چلاتا آرہا تھا، جس کو خود حکومت  نے انتظام اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی تھی، تاہم دسمبر 2018 میں یونیسیف کا ان یونٹس کے ساتھ تعاون ختم ہوا۔ اس کے بعد جون 2019 میں صوبائی حکومت نے ان 12 یونٹس کے لیے چار کروڑ 61 لاکھ روپے منظور کرائے، اور نومبر 2019 میں ان یونٹس کے لیے درکار افسران کے لیے اخبارات میں اشتہارات بھی دیے گئے۔ مگر ان یونٹس میں درکار سٹاف کو آج تک بھرتی نہیں کیا گیا۔

اس ضمن میں ایک حاضر سروس ضلعی سوشل ویلفئیر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت نے ان  کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپ دی لیکن نہ تو ان کے پاس وسائل ہیں، نہ سٹاف اور نہ وقت کہ آئے دن بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات  کی جانچ پڑتال کر سکیں۔

چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے چیف  کی تقرری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ پچھلے چار سے زائد سالوں سے کمیشن کے چیف کے عہدے پر تقرری کیوں نہیں ہورہی ہے۔

بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والے خیبر پختونخوا کے معروف سماجی کارکن عمران ٹکر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صوبائی حکومت کو بچوں کی تحفظ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے اور وہ طریقے دریافت کیے جائیں جو بچوں کو شکاریوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ایک ایسا نظام ہو جو ایسے واقعات میں فوری رد عمل دے سکے۔ اس کے علاوہ تحقیقات کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ اس میں کوئی دباؤ یا کمی اس کیس کو خراب نہ کر سکے۔‘

عمران ٹکر نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات کے خلاف کارروائی میں پولیس کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے، مگر نہ تو پولیس کے پاس تحقیقات کے لیے وسائل ہیں نہ ضروری ٹریننگ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اکثر قریبی لوگ ملوث ہوتے ہیں لہذا مجوزہ ترامیم میں پھانسی اور ریکارڈنگ جیسی سخت سزاؤں کے خوف سے لوگ ایسے جرائم پر پردہ ڈالیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان