چارسدہ میں کوہ طور کے پتھر سے بنا ’اصلی‘ سرمہ

چارسدہ کے علاقے دلدار گڑھی میں ایک خاندان پچھلے سو سال سے مصر سے آئے پتھر کو پیس کر سرمہ بنانے کا کام کر رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کا علاقہ دلدار گڑھی سرمے کی وجہ سے مشہور ہے اور یہاں کے زیادہ تر لوگ اسی کام سے جڑے ہیں۔

یہاں ایک خاندان ایسا بھی ہے جو پچھلے سو سال سے زیادہ عرصے سے یہ کام کر رہا ہے اور وہ سالانہ تقریباً 50 من سے زیادہ سرمہ تیار کرتا ہے۔ پورے علاقے میں صرف اسی خاندان کے پاس سرمے کا پتھر پیسنے کی مشین ہے، جہاں سے سینکڑوں علاقہ مکین سرمہ لے کر ملک کے مختلف شہروں میں فروخت کرتے ہیں۔

دلدار گڑھی میں بعض خواتین گھروں کے اندر پرانے طریقے سے پتھر کو دوسرے پتھر سے رگڑ کر سرمہ تیار کرتی ہیں لیکن یہ مشکل اور وقت طلب طریقہ ہے۔ سرمے کے پتھر کو مشین سے پیسنے کا کام کرنے والے محمد حمزہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سرمے کی تیاری ان کے خاندان کا کسب ہے اور ان کے پردادا نے علاقے میں سرمے کی تیاری کا کام شروع کیا تھا۔ ’ہمارا خاندان سو سال سے زیادہ عرصے سے سرمے کی تیاری کا کام کر رہا ہے لیکن اب کئی سو خاندان اس روزگار سے وابستہ ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ سرمے کے لیے پتھر مصر میں موجود کوہ طور کے پہاڑ سے آتے ہیں۔ یہ پتھر مصر سے کراچی، لاہور اور پشاور آتے ہیں، جہاں سے وہ انہیں خرید کے گھر میں لگی مشین سے پیس کر پاؤڈر بناتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرمہ سنت طریقہ ہے اور یہ پاکستان کے علاوہ افغانستان، دبئی اور سعودی عرب بھی جاتا ہے۔

حمزہ کے مطابق وہ ایک گھنٹے میں چار سے پانچ کلو پتھر کا سرمہ پاؤڈر بنا لیتے ہیں، ایک کلو سرمے کی قیمت ساڑھے سات سو روپے تک ہے۔’ہم آرڈر پر سرمہ تیار کرتے ہیں جو اصلی ہوتا ہے، اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ کوئی 50 کلو اور کوئی 100 کلو سرمہ لے جاتا ہے، پورے مہینے میں ہم تقریباً ڈیڑھ، دو سو کلو فروخت کر لیتے ہیں۔ دلدار گڑھی کے سارے لوگ ہم سے تیار سرمہ لے جا کرفروخت کررہے ہیں۔‘

حمزہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان کی مدد کرے تاکہ وہ بڑی مشینیں لگا کر اس کام کو وسیع کر سکیں۔

دلدارگڑھی کے 70 سالہ جمشید خان نے بتایا کہ ان کے دادا نور حمد نے، جو علاقے میں ’کہ خیرئی بابا‘ کے نام سے مشہور ہیں، یہ کام شروع کیا۔ ’پہلے ہم اس (پتھر) کو ہاتھوں سے رگڑ کر سرمہ تیار کرتے تھے، بعد میں میرے بھائی نے مشین لگائی۔ ہمارے زمانے میں یہ سرمہ آٹھ روپے فی کلو بکتا تھا۔‘

شبقدر بازار میں سرمہ فروخت کرنے والے محمد ارشاد کہتے ہیں کہ پہلے ان کے والد یہ کام کرتے تھے لیکن ان کے ضعیف ہونے کے بعد انہوں نے یہ کام سنبھال لیا۔ ’میں آدھا کلو سرمہ لیتا ہوں اور 20 روپے تولہ کے حساب سے فروخت کرتا ہوں جبکہ ساتھ تین چار پیکٹ کاجل بھی لے جاتا ہوں، یوں 2000 روپے سیل ہونے پر چھ، سات سو روپے دیہاڑی بن جاتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پچھلے 30 سال سے پشاور میں سرمے کا کاروبار کرنے والے شاہ زادہ نے بتایا کہ سرمے کے لیے کوہ طور کا پتھر زیادہ آتا ہے کیونکہ دوسرے ملکوں کے پتھر لوگ پسند نہیں کرتے جبکہ وہ آنکھوں میں استعمال کے دوران بھی اچھا محسوس نہیں ہوتے۔ ’سرمے کا پاؤڈر تیار ہونے کے بعد ہم خود بھی چیک کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ پتھر کراچی پہنچنے کے بعد پشاور کی پیپل منڈی آتا ہے، بڑے ڈیلر کوہ طور کے پتھر کوعرب ممالک مثلاً مراکش اور مصر سے مختلف پیکنگ میں درآمد کرتے ہیں، جو ایک پیکٹ 25 کلو کا ہوتا ہے۔

شاہ زادہ نے کہا کہ کوہ طور پتھر کی پہچان وہ اس کے پیکٹ پر لگے لیبل سے کرتے ہیں۔ ’افغانستان سے بھی ایک پتھر آتا ہے لیکن ایک دفعہ خریدنے کے بعد لوگ اسے دوبارہ نہیں لیتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا