لندن کی مسجد جہاں پورا سال عبادت نہیں، میتوں کو غسل دیا گیا

کرونا وائرس کی وجہ سے گذشتہ ایک سال سے بند مسجد ابراہیم میں میتوں کو غسل دینے کے ساتھ ساتھ فوڈ بینک بھی کام کر رہا ہے۔

کرونا (کورونا) وائرس نے گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے دنیا کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، جس کی وجہ سے تقریباً ہر شعبہ زندگی متاثر ہوا۔

ہسپتالوں کے علاوہ ہر جگہ بند ہو گئی جس میں مساجد بھی شامل ہیں۔ ایسی ہی ایک مسجد لندن میں واقع ہے، جہاں مارچ 2020 سے جاری لاک ڈاؤن میں ابھی تک مسلمانوں کے جنازوں کو غسل دیا جا رہا ہے۔ مسجد ابراہیم کی انتظامیہ یہ خدمت بلا معاوضہ فراہم کر رہی ہے، جس کے لیے اس کا انحصار عطیات پر ہوتا ہے۔

مسجد کے جنرل سیکریٹری عاصم الدین نے بتایا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے لوگوں کو اپنے رشتہ داروں کی میتوں کو غسل دینے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ عاصم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس سلسلے میں مسجد ابراہیم کے دروازے کھول دیے گئے۔ ہمارے پاس رضاکار ہیں جنہیں ہم نے غسل دینے کی تربیت دی ہے، جو دن میں چار سے پانچ جنازوں کو غسل دیتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ مسجد کے اندر فوڈ بینک بھی بنایا گیا ہے جہاں کھانے پینے کی اشیا جمع کرکے تھیلے بنا کر ضرورت مندوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ ان تھیلوں میں روزمرہ کے استعمال کی اشیا شامل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مسجد میں رات کو تازہ کھانا بنا کر ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

’الحمدللہ ہم مارچ 2020 سے لے کر اب تک تقریباً پانچ لاکھ پاؤنڈز کی غذائی اجناس اور رات کا کھانا تقسیم کر چکے ہیں۔ جو بھی مسجد کے دروازے پر آتا ہے ہم اسے کھانا دیتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’یہ سہولت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ مشرقی لندن میں موجود مشکل کے شکار ہر فرد کے لیے ہے۔ کووڈ19 کی وجہ سے کوئی بے روزگار ہو گیا تو کسی کی آمدنی کم ہو گئی، ہماری مسجد کے دروازے ایسے سب لوگوں کے لیے کھلے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ