ہونڈا 125 اور گھوڑا: سواریاں جو صرف بالغان کے لیے تھیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے پچیس سال سے ہونڈا صرف سٹیکر بدل کے 'نیا ماڈل' ہر سال مارکیٹ میں پھینک رہی ہے لیکن، اب ایک چیز سدا بہار ہو تو بندہ کیسے اس سے جان چھڑائے؟ آپ کو نہیں پسند تو وہ ڈیلکس والا ماڈل سی بی 125 لے لیں یا سیلف سٹارٹ والا دیکھیں۔

(ہونڈا 125 کا وہ ماڈل جو اپنا فیورٹ ہے۔ تصویر: سوشل میڈیا)

آواز، اس والے ہونڈے کی جو آواز ہے نا، وہ مار جاتی ہے استاد بندے کو! ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ، ساڈے دل تے چھریاں چلائیاں، ڈگ ڈگ ڈگ، آج بھی کہیں گلی سے آواز آتی ہے تو دل ادھری بائیک کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ 

ہونڈا 125 نرا تھرل ہے۔ بلکہ میرے خیال میں تو گھڑسواری اور ون ٹو فائیو سواری میں صرف اونچائی کا فرق ہے، باقی کام سارے ایک جیسے ہیں۔ اسے کک مارنے کا اپنا مزا ہے، اسے بھی ایڑ مار کے بھگانے کی اپنی شوخی ہے۔ اس کی ڈگ ڈگ اور بھاگتے گھوڑے کی ٹاپ، رومانس دونوں میں برابر ہے۔ گھوڑا ہو یا ون ٹو فائیو، لے گا وہی بندہ جسے اپنی سواری بھگانے کا شوق ہے۔ ون ٹو فائیو کے پیچھے کیریر یا ہینڈل پہ شیشے لگوا لینا بالکل ویسی ہی بدذوقی ہے جیسے ریس کے گھوڑے کو تانگے میں جوت دیں۔ گھوڑا جیسے جیسے دوڑے گا ویسے ویسے چال میں ہمواری آتی جائے گی، اسے بھی تھوڑا دوڑا لیں تو گرم ہو کے انجن سمود ہوتا جائے گا۔

اچانک روکیں تو گھوڑا گرا بھی سکتا ہے، اس کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جس طرح زیادہ لمبا سفر گھوڑے پہ کریں تو باگیں سنبھالتے ہاتھ اور گھوڑے پہ چوڑی ہو کے پھیلی ٹانگیں تھک جاتی ہیں، ون ٹو فائیو پہ بھی وائبریشن تھکا دیتی ہے، ہاتھوں پیروں میں سنسناہٹ دوڑنے لگتی ہے۔ تو کل ملا کے جس طرح کم فاصلے پہ ریسوں میں بھاگنے کے لیے شوقینوں کو ڈان، ترکمان یا عربی نسل کے گھوڑے چاہیے ہوتے ہیں عین اسی طرح شوقین مزاج بائیکر مڈل کلاسیے کی پہلی اڑان ہونڈا 125 ہوتی ہے۔ 

ہمارے علاقے میں کسی کے پاس پیسے آ جائیں تو اس کی سب سے بڑی عیاشی ہوتی ہے چٹا کلف والا کاٹن کا سوٹ، نئی ہونڈا 125 اور پیسے بچ جائیں تو دوسری شادی۔ 

یہ بات ڈاکٹر زری اشرف نے لکھی تھی کبھی فیس بک پہ، میں خود ملتان سے ہوں تو بس دماغ میں اٹک گئی۔ حق سچ ہے۔ 

ون ٹو فائیو خود مجھے بہت پسند تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ سواری صرف 'بالغان' کے لیے تھی۔ 

آٹھویں سے شوق ہوا، کئی بار ابو سے کہا، جواب ہر دفعہ یہی ملتا کہ یار بڑے ہو جاؤ گے تو لے لینا۔ انہیں یہ بدمعاش سواری لگتی تھی۔ ان کے خیال میں کاواساکی اور ہونڈا 125 صرف چوروں اور ڈاکو لوگوں کے لیے بنی تھیں، واردات کرو اور فرار ہو جاؤ۔ 

تب تک بھائی اپنی سی ڈی سیونٹی بھگاتا تھا اور اس کا خیال تھا کہ یہ سپورٹس موٹر سائیکل لگتی ہے۔ تھوڑا پیچھے ہو کے بیٹھنا، ہاتھ چوڑے کر کے ہینڈل تھامنا،  کہیں موڑ مڑنا تو ایسے گھٹنا زمین کی طرف موڑنا جیسے کڑی مصری خان پورا ریس ٹریک ہے۔ دوستوں کے ساتھ ریسیں لگانا، پیر زمین پہ رکھ کے ٹائروں سے زمین پہ تین چار اکٹھے دائرے بنانا، آٹھ بنانا، سبھی کچھ اسی پہ پورا کر لیا۔ 

ہونڈا 125 کی لیکن اپنی شان ہے، وہ تب بھی برقرار تھی۔ پہلا ون ٹو فائیو جو مجھے بڑا پسند تھا وہ کوئی 1978 ماڈل تھا شاید، فیروزی سے رنگ کا، گول بتی والا۔ چار پانچ گھر چھوڑ کے ایک مکان تھا، ادھر ایک انکل کبھی کبھار آتے تھے اپنی ون ٹو فائیو پہ، آہا! وہ خود ذرا بھاری بھرکم سے تھے تو انہیں بائیک سجتی بھی تھی۔ اپن لوگ دور سے واہ واہ کرتے تھے۔ پھر نویں نکور ون ٹو فائیو کئی محلے داروں نے لی، دوستوں نے لی، اپنی حرکتیں ایسی تھیں کہ اچھا ہوا نئیں ملی ورنہ آج کوئی نشانی ساتھ لیے گھوم رہا ہوتا۔ 

نوکری اور شادی کے بعد جب سارا دف مر گیا تو لی بھائی نے 125، اپنے پسندیدہ ماڈل کی۔ اب لیکن وہ تھکا دیتی تھی۔ کام زیادہ تھا، ششکے دکھانے کی عمر نہیں تھی، مصروفیت بڑھتی گئی، پھر مالک نے پہلی گاڑی کمپنی سے دلوا دی، بھائی بالکل ہی آرام طلب ہو گیا۔ آخر سال بعد ہی اونے پونے اسے بیچ دیا۔ جب چلانا نہیں تھا تو رکھنے کا فائدہ؟

لیکن  آواز، اس والے ہونڈے کی جو آواز ہے نا، وہ مار جاتی ہے استاد بندے کو! ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ، ساڈے دل تے چھریاں چلائیاں، آج بھی کہیں گلی سے آواز آتی ہے تو دل ادھری بائیک کے ساتھ نکل جاتا ہے۔

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں 

ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا 

جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر 

جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا 

لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں 

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں 

خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے 

آج میلہ لگا ہے اسی شان سے 

آج چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں 

آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں 

نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں 

پر وہ چھوٹا سا الھڑ سا لڑکا کہاں

ہم سب ابن انشا کی طرح کبھی نہ کبھی ایسے چھوٹے سے لڑکے رہے ہوں گے۔ بات اتنی سادہ نہیں تھی۔ آج مجھ سے میری اولاد اگر ون ٹو فائیو مانگے تو میں بھی اسے نہ لے کر دوں۔ تھرل اپنی جگہ لیکن اس کے لیے مجھے یہ لائسنس ٹو کل زیادہ نظر آئے گی۔ اس کی عمر کے حساب سے مجھے واقعی یہ گھوڑا اسے دینا مناسب نہیں لگے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پر گھوم گھام کے دل کا کیا کریں صاحب، ہم اسی پہ مرتے ہیں! مطلب خدا نے اوقات سے بڑھ کر نعمتیں چکھا دیں مگر جہاں دیکھی ون ٹو فائیو، بھائی مچل مچل جاتا ہے۔ جوانی انگڑائیاں لیتی ہے، دل اس کی ڈگ ڈگ کے ساتھ دھک دھک کرتا ہے اور بس، واقعی بس نہیں چلتا۔ لے لوں تو چلاؤں گا کب، کھڑی کر دوں تو کہاں کروں۔ وہی مسئلہ جس کی وجہ سے پرانی والی بیچی تھی، آج بھی اپنی جگہ کھڑا ہے، جب چلانی نہیں ہے تو رکھنے کا فائدہ؟ 

اور ہاں، اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے پچیس سال سے ہونڈا صرف سٹیکر بدل کے 'نیا ماڈل' ہر سال مارکیٹ میں پھینک رہی ہے لیکن، اب ایک چیز سدا بہار ہو تو بندہ کیسے اس سے جان چھڑائے؟ آپ کو نہیں پسند تو وہ ڈیلکس والا ماڈل سی بی 125 لے لیں یا سیلف سٹارٹ والا دیکھیں جس کا ٹاپا سٹیل نما ہے، پر یار ۔۔۔ ایمانداری سے بتائیں کاواساکی 125 کے بعد ہونڈا کی کلاسک 125 کے علاوہ کوئی سواری ہے جو ہمارے شہدے مزاج اور پاکستانی موسم کے حساب سے بنی ہو؟ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ