کشمیری رہنما آسیہ اندرابی پر دہشت گردی، بغاوت کی فرد جرم عائد

قانونی ماہرین کے مطابق آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں اور اگر عدالت نے انہیں قصور وار قرار دیا تو انہیں اپنی باقی زندگی جیل میں گزارنا پڑ سکتی ہے۔

آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھی خواتین رہنما چھ جولائی، 2018  سے قید ہیں۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے منگل کو کشمیری خواتین کی تنظیم ’دختران ملت‘ کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی اور ان کی دو قریبی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نصرین پر دہشت گردی، بغاوت اور دیگر سنگین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کر دی۔

ان تینوں پر بھارتی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش رچانے جیسے سخت اور سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 59 سالہ آسیہ اندرابی اور ان کی دونوں ساتھیوں نے الزامات سے انکار کر دیا، جس کے بعد خصوصی جج پروین سنگھ نے ٹرائل کے احکامات جاری کیے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کے خلاف سخت نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اگر عدالت نے انہیں قصور وار قرار دیا تو انہیں اپنی باقی زندگی جیل میں گزارنا پڑ سکتی ہے۔

بھارت میں تحقیقات کے سب سے بڑے قومی ادارے نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر آسیہ اور ان کی دو قریبی ساتھیوں کے خلاف 2018 میں ایک مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد اُسی سال اپریل میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

این آئی اے نے بعد ازاں تینوں خواتین رہنماؤں کو چھ جولائی، 2018 کو سری نگر کی سینٹرل جیل میں اپنی حراست میں لے کر نئی دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کیا جہاں وہ ہنوز قید ہیں۔

آسیہ اندرابی اور ’دختران ملت‘

آسیہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ایک علیحدگی پسند رہنما اور ’دختران ملت‘ نامی کشمیری خواتین کی تنظیم کی بانی و سربراہ ہیں۔ وہ دختران ملت کو 1987 میں معرض وجود میں لائیں جس کا مقصد کشمیر کی بھارت سے آزادی نیز ’نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے لیے‘ کام کرنا ہے۔

دختران ملت ایک پاکستان حامی تنظیم ہے، جس کا موقف ہے کہ کشمیر چونکہ ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے اس لیے اس کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہیے۔ یہ تنظیم کشمیر کے بزرگ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس سے منسلک تھی۔

ابتدا میں یعنیٰ 1980 کی دہائی میں دختران ملت سے جڑی برقعہ پوش خواتین نے، جن میں اکثریت نوجوان لڑکیوں کی تھی، کشمیر میں اخلاقی بے راہ روی، بے حیائی، عریانیت، سینیما، بیوٹی پارلرز، شراب نوشی اور عورتوں کے استحصال کے خلاف نیز پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں خواتین کے لیے علیحدہ سیٹیں مختص رکھنے کے مطالبے کو لے کر عملی طور پر مہمات چلائیں جن کا غیر معمولی اثر دیکھنے میں آیا۔ نیز دختران ملت کو حکومتی کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اسی کی دہائی کے اواخر میں کشمیر میں ‘مسلح جدوجہد’ شروع ہونے کے ساتھ ہی دختران ملت نے اس کی کھل کر حمایت کی اور مزید حکومتی کارروائیوں کو دعوت دی۔

آسیہ اور ان کی تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کشمیری خواتین کو اسلامی تعلیمات کی طرف راغب کرنے اور ‘صحیح راہ سے بھٹکنے والی خواتین کو عزت کی زندگی کی طرف لے جانے’ میں نمایاں کردار ادا کیا، جن میں ایک مثال مبینہ سیکس ریکٹ چلانے والی ‘صبینہ’ نامی خاتون کی ہے، جنہوں نے اپنے چند ایک انٹرویوز میں اعتراف کیا تھا کہ آسیہ انہیں ‘باعزت’ زندگی کی طرف لے گئیں۔

بھارت کی وزارت داخلہ نے دختران ملت کو ‘کالعدم دہشت گرد تنظیم’ قرار دے رکھا ہے اور 2018 میں بھارتی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے بعد سے اس تنظیم کی سرگرمیاں تقریباً معطل ہیں۔ اس تنظیم پر پہلی بار 1990 میں پابندی لگائی گئی تھی۔

آسیہ نے 2015 کے بعد بیشتر وقت مختلف قید خانوں میں گزارا جس کے ان کی صحت پر منفی اثرات پڑے اور وہ کئی مرتبہ علیل ہوئیں۔ این آئی اے میں آسیہ اور ان کی دو قریبی ساتھیوں کے خلاف درج مقدمے میں ان پر علیحدگی پسند سرگرمیاں چلانے، بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور ‘دہشت گردوں’ کی مالی معاونت کرنے کے الزامات لگائے گئے۔

این آئی اے نے 10 جولائی، 2019 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے صورہ علاقے میں واقع آسیہ کے گھر کو بھی سیل کیا۔ ان کے گھر کے دروازے پر این آئی اے نے جو نوٹس چسپاں کیا تھا اس میں متعلقین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر مذکورہ جائیداد کو منتقل یا فروخت کرنے سے اجتناب کریں۔

این آئی اے کے چیف تحقیقاتی افسر وکاس کٹاریہ کے جاری اس نوٹس میں کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اس جائیداد کو اٹیچ (سیل) کیا گیا۔ اس میں مزید کہا گیا تھا کہ دختران ملت کی سربراہ کا گھر ‘عسکری سرگرمیوں’ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

آسیہ کی تنظیم ‘دختران ملت’ ہر سال 14 اگست یعنیٰ یوم آزادی پاکستان اور 23 مارچ یعنیٰ یوم پاکستان کے موقعے پر سری نگر میں خفیہ مقامات پر تقریبات منعقد کرتی تھی جن میں پاکستان کا قومی ترانہ ‘پاک سرزمین’ گایا جاتا تھا اور پاکستان کا پرچم لہرانے کے علاوہ پاکستان کی تعریف میں نغمے بھی گائے جاتے تھے۔

ان تقریبات کے دوران مبینہ طور پر ‘اسلام کی نسبت سے، اسلام کے تعلق سے، ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے’ اور ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ جیسے نعرے بھی لگائے جاتے تھے۔

کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں 23 مارچ، 2018 کو منعقدہ ‘یوم پاکستان’ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آسیہ نے کہا تھا کہ ‘برصغیر کا ہر ایک مسلمان پاکستانی ہے اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔’

جموں و کشمیر پولیس نے دختران ملت کی اس تقریب کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تنظیم کے خلاف پولیس تھانہ صورہ میں مقدمہ درج کیا تھا۔

پولیس کے بیان میں کہا گیا تھا: ‘پولیس کو دختران ملت تنظیم کی کچھ غیرقانونی حرکتوں کے بارے میں سوشل میڈیا ویڈیوز اور دوسرے قابل اعتماد ذرائع سے پتہ چلا۔ اس تنظیم کی حرکتوں نے غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون کی مختلف دفعات کو دعوت دی ہے۔ انہوں (تقریب کے شرکا) نے اینٹی نیشنل نعرے لگا کر اور نفرت انگیز و اشتعال انگریز تقریر کر کے پینل کوڈ کی مختلف دفعات کو بھی دعوت دی۔’

آسیہ اندرابی کی ذاتی زندگی

آسیہ کشمیر کے ایک تعلیمی اور ‘بااثر اندرابی سید’ گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد پیشے سے ڈاکٹر اور دلچسپی کے اعتبار سے عربی زبان کے ایک سکالر تھے۔

آسیہ نے کشمیر یونیورسٹی سے ہوم سائنس میں گریجویشن اور اسلامک سٹڈیز میں پوسٹ گریجویشن کی۔ وہ گریجویشن کے بعد بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے بظاہر ہوم سائنس میں پوسٹ گریجویشن کرنا چاہتی تھیں لیکن اپنے بڑے بھائی کی مخالفت کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائیں۔

کشمیر کی نیوز ویب سائٹ ‘کشمیر لائف’ نے ان کے حوالے سے لکھا ‘میرا خیال تھا کہ سید ہونے کی وجہ سے میں جہنم کی آگ سے مستثنیٰ ہوں۔ میں پابندی سے عبادت نہیں کرتی تھی لیکن مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکس) کی زندگی کی کہانی نے میری بھی زندگی بدل دی۔

‘میں مریم جمیلہ کی زندگی کی کہانی کا آخری حصہ پڑھ رہی تھی کہ مجھے مغرب کی اذان سنائی دی۔ یہ پہلی اذان تھی جو میرے دل کو چھو گئی۔ میں نے اللہ سے گناہوں کی معافی مانگی اور اس طرح زندگی گزارنی شروع کردی جس طرح ایک مسلمان خاتون کو گزارنی چاہیے۔’

انہوں نے عربی زبان اپنے والد سے سیکھی اور 1982 میں ایک مقامی درسگاہ میں بحیثیت استانی پہلے چھوٹی بچیوں اور بعد ازاں ہر عمر کی عورتوں کو اسلام کی تعلیمات پڑھانا شروع کر دیں۔

ان کے مطابق 1982 میں درس گاہ سے شروع کی گئی مہم کے ساتھ 1987 تک 10 ہزار خواتین جڑ چکی تھیں جو بقول ان کے اسلام کی تعلیمات پڑھنے کے علاوہ ‘معاشرے کی اصلاح’ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔

آسیہ نے اکتوبر 1990 میں کشمیری نوجوان قاسم حسین فکتو عرف ڈاکٹر محمد قاسم سے شادی کر لی۔ فکتو اُس وقت ایک مقامی مسلح تنظیم جمعیت المجاہدین کے ترجمان تھے اور وہ اس وقت سب سے زیادہ وقت جیل میں گزارنے والے کشمیری علیحدگی پسند رہنما ہیں۔ شادی کے محض ڈھائی سال بعد آسیہ کو اپنے شوہر قاسم حسین فکتو اور ایک سالہ بیٹے محمد بن قاسم کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم انہیں اور ان کے بیٹے کو 14 ماہ بعد رہا کر دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سری نگر کے ذالڈگر علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر قاسم ایک انسانی حقوق کے کارکن ہردھئے ناتھ وانچو کے قتل کیس کے سلسلے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور گذشتہ قریب 27 برس سے قید ہیں۔ بعض حلقوں میں ‘نیلسن منڈیلا آف کشمیر’ کے نام سے مشہور ڈاکٹر قاسم نے جیل ہی میں اسلامک سٹڈیز میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔

انہوں نے جیل میں ایام اسیری کے دوران قریب 20 کتابیں تحریر کی ہیں جن میں سے آدھ درجن انگریزی اور باقی اردو زبان میں ہیں۔ یہ کتابیں انہوں نے اسلام کے مختلف موضوعات پر لکھیں۔ آسیہ اور ان کے شوہر نے بمشکل ہی چار سال ایک ساتھ گزارے۔ ان کے دو بیٹے محمد بن قاسم اور احمد بن قاسم ہیں جن کی عمر بالترتیب 27 اور 25 ہے۔

بڑا بیٹے محمد بن قاسم ملائیشیا میں اپنی خالہ کے ساتھ رہتے ہیں جہاں انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت اختیار کر لی۔ چھوٹے بیٹے احمد بن قاسم پاکستان میں مقیم آسیہ کی ایک اور بہن کے ساتھ رہتے اور زیرتعلیم ہیں۔

آسیہ کے زیادہ تر رشتہ دار پاکستان، سعودی عرب، انگلینڈ، ملائیشیا اور آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ ان کے ایک بھتیجے ذوالقرنین نے پاکستانی فوج میں کچھ عرصے تک کام کرنے کے بعد آسٹریلیا ہجرت کی جہاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

دوسرے بھتیجے ارتیاض النبی، جو ایروناٹیکل انجینیئر اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں لیکچرار تھے، 2013 سے لاپتہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا