غضب کیا ترے ’فتوے‘ پہ اعتبار کیا!

فتووں اور سیاسی بیانیے پر یو ٹرن کلچر دیکھ کر اسرائیل اور عرب ممالک مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام اور خطے میں گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت کو بھی ایران سے کسی مجوزہ سمجھوتے میں شامل کیا جائے۔

حال ہی میں ایرانی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے سے روکا گیا (فائل تصویر: اے ایف پی)

ایرانی رجیم ایک عرصے سے یہ دعویٰ کرتی چلی آ رہی ہے کہ تہران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کا حصول نہیں بلکہ تہران چاہتا ہے کہ دنیا ان کے اس دعوے کو درست تسلیم کر لے کیونکہ ماضی میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای ایک ’فتوے‘ کے ذریعے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو ’ممنوع‘ قرار دے چکے ہیں۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

یادش بخیر! تخفیف اسلحہ سے متعلق 2010 میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے نام اپنے مبینہ خط میں خامنہ ای نے اس رائے کا اظہار کیا: ’ہم ان (جوہری) ہتھیاروں کا استعمال حرام سمجھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بڑی تباہی سے انسانیت کو بچانے میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘ اسی نوعیت کا پرچار رہبر اعلیٰ کی سرکاری ویب گاہ پر بھی بکثرت دیکھنے کو ملتا ہے۔

عالمی رہنماؤں سے اپنی ملاقاتوں میں ایرانی قیادت تواتر کے ساتھ علی خامنہ ای کے فرمودات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات باور کرانے کی کوشش میں رہتی ہے کہ ایران جوہری بم نہیں بنانا چاہتا۔ امریکی سینیٹر رینڈ پال سے 2019 کو ایک ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بتایا کہ رہبر اعلیٰ کے فتوے کی روشنی میں تہران جوہری بم بنانے کے لیے تیار نہیں۔

ایران کی غیرقانونی جوہری سرگرمیوں سے اگر ایک لمحے کے لیے صرف نظر کر لیا جائے تو بدقسمتی سے ایران اور بیرونی دنیا دونوں ہی تہران کے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دینے کے لیے رہبر اعلیٰ کے فتوے پر ہی اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) پر دستخط کے وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 2013 میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’رہبر اعلیٰ نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف فتویٰ دے رکھا ہے۔‘ سابق امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری بھی کہہ چکے ہیں کہ ’سپریم لیڈر نے ایک فتویٰ دیا ہے جس میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے دو ٹوک الفاظ میں منع کیا گیا ہے۔‘

ہیلری کلنٹن نے ایرانی انتظامیہ کے بیانیے کو آگے بڑھایا۔ ہیلری کے مطابق: ’آپ نے ایک اور دلچسپ پیش رفت دیکھی ہو گی جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بار دگر یہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ انہوں نے جوہری اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف فتویٰ دے رکھا ہے۔۔ میں نے اس معاملے پر بہت سے ماہرین اور مذہبی قیادت سے بات کی ہے۔‘

ایران کی بعد ازخود ساختہ انقلاب کی تاریخ پر نظر رکھنے والا کوئی بھی زیرک مبصر بخوبی جانتا ہے کہ سپریم لیڈر کے فتاویٰ، مذہبی مینڈیٹ کی بجائے زیادہ تر سیاسی بیانیے ہوتے ہیں۔ ایران کے بانی اور پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے ایک فتویٰ جاری کیا، جس میں بعد ازاں انہوں نے خود ہی تبدیلی کر دی۔ اس تاریخی ’یو ٹرن‘ کے بعد وہ کون سی ایسی چیز ہے کہ جو خامنہ ای کو جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے سے متعلق اپنا فتویٰ تبدیل کرنے سے روکے۔

ایرانی دستور کے آرٹیکل 167 کے مطابق: ’ہر جج مدون قانون کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرنے کوشش کرے گا۔‘ مزید یہ کہ ’کسی مدون قانون کی عدم دستیابی کی صورت میں جج مسلمہ اسلامی مآخذ اور مستند اسلامی فتویٰ کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنائے گا۔‘ اسلامی جمہوریہ میں قانون شریعت پر زور دیا جاتا ہے مگر ساتھ ہی ایرانی دستور میں حکومت کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ مدون قوانین کو مذہبی فتوے پر ترجیح دے سکتی ہے۔

حال ہی میں ایرانی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے سے روکا گیا۔ مجلس شوریٰ بعینہ ایک اور ایسا قانون منظور کرنے کی بھی مجاز ہے، جس کے بموجب ’اسلامی جمہوریہ کی بقا کی خاطر حکومت جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی اجازت دے سکتی ہے۔‘ دستور کے مطابق اگر ایسا کوئی قانون مدون ہوتا ہے تو اس کے بعد ایرانی انقلاب کے بانی خمینی کا اولین فتوی اپنی اہمیت کھو دے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب تک کی بحث سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ ایران کے دستور کا مقصد اسلامی شریعت کا نفاذ نہیں بلکہ ملک میں ملائیت پر مبنی اسٹیبلشمنٹ کو دوام بخشنا ہے۔ پہلے سپریم ایرانی رہنما خمینی کئی مرتبہ بیان کر چکے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر اسلامی قوانین سے صرف نظر کیا جا سکتا ہے۔

ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ ’حکومت لوگوں کے ساتھ کیے گیے شرعی معاہدے یک طرفہ طور پر ختم کرنے کی مجاز ہے بالخصوص وہ معاہدات اگر ملکی مفاد یا اسلام کے خلاف ہوں۔‘ ایک اور موقع پر خیمنی کا یہ موقف بھی شد ومد سے بیان کیا جاتا رہا ہے کہ ’حکومت حج جیسے بنیادی فریضے کی ادائیگی پر بھی عارضی طور پر پابندی لگا سکتی ہے بالخصوص اگر وہ اسلامی ملک کے مفادات کے خلاف ہو۔‘

ایرانی رہبر اعلیٰ کے قریبی مشیر اور محکمہ سراغ رسانی کے وزیر محمود علوی نے ایک بیان میں اس امر کی جانب نشاندہی کی ’کہ ایران سپریم لیڈر کے فتوے کے باوجود جوہری ہتھیار تیار کرنے کا مجاز ہے۔‘ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’مجھے کہنے دیجیے کہ بلی کو اگر دیوار سے لگایا جائے گا تو اس کا رویہ کھلے عام پھرتی بلی سے مختلف ہو گا۔ ایران کو اگر دیوار سے لگایا گیا تو یہ تہران کی نہیں بلکہ اسے دیوار سے لگانے والوں کی غلطی ہو گی۔‘

ایرانی قیادت کے فتووں اور بیانیے کے علی الرغم قرآئن اور شواہد بتاتے ہیں کہ تہران کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے نہیں ہے۔ اسی حقیقت کو بھانپ کر اسرائیل اور عرب ممالک اب امریکہ پر یہ زور دے رہے ہیں کہ ایران سے آئندہ بات چیت میں انہیں بھی شامل کیا جائے اور اس سے کسی مجوزہ سمجھوتے میں دوسرے امور یعنی اس کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام اور خطے میں گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت کو بھی شامل کیا جائے۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ