ایران سے قطر جیسا معانقہ ممکن ہے؟

قطر کے ساتھ مصالحت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرب بالخصوص خلیجی ممالک ایسی ہی صلح جوئی کا مظاہرہ ایران کے ساتھ کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے العُلا میں تاریخی ملاقات (ایس پی اے)

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی تاسیس کے بعد سے اب تک سعودی عرب 10 مرتبہ تنظیم کی سربراہ کانفرنس کی میزبانی کا شرف حاصل کر چکا ہے۔ اس مرتبہ سمٹ کی میزبانی کا اعزاز تاریخی العُلا وادی کو ملا جو کسی دور میں دادان اور لہیان تہذیبوں کا مسکن رہی ہے۔ یہ راستہ بحیرہ روم سے ہندوستان اور شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔

وادی العُلا میں جی سی سی سربراہ کانفرنس پانچ جنوری کو آئینے سے ڈھکے ’المرایا‘  کنسرٹ ہال میں منعقد ہوئی۔ اسی نسبت سے اسے ’المرایا‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے گرد جڑے آئینے حیرت انگیز مناظر کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔ شیشے سے مزین اس ہال کی ساخت کے باعث اسے’آئینہ دار حیرت‘ کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ ہفتے جی سی سی سمٹ کے موقع پر پیش آنے والے واقعات نے بھی دنیا کو حیران کر دیا۔

قطر کے ساتھ خلیجی ملکوں کا اختلاف نظریاتی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا تھا۔ اس لیے مصالحت کو کسی کی پسپائی یا شکست قرار دینا قرین انصاف نہیں ہو گا۔ خلیجی ملکوں نے 5 جون 2017 کو قطر کے سفارتی، معاشی اور سماجی بائیکاٹ کا آغاز کیا جو بالآخر 5 جنوری 2021 کو اپنے انجام کو پہنچا، جس کے بعد خطے کے اہم ملکوں کے درمیان تعلقات از سر نو بحال ہو گئے۔ العُلا اعلامیہ اس بات کی غمازی نہیں کرتا کہ جی سی سی رکن ملکوں کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کا فیصلہ غلط تھا۔

اس میں بھی دو رائیں نہیں کہ ماضی میں خلیجی ملکوں کو پیش آنے والے بحرانوں کی نسبت حالیہ تنازع کی مدت زیادہ طویل ثابت ہوئی۔ ماضی میں ایسے علاقائی تنازعات ہمیشہ خون ریزی سے عبارت ہوتے تھے تاہم اس مرتبہ ہمہ جہتی بائیکاٹ کی شدت کے باوجود اس تنازع کے دوران سرحدوں کے آر پار ایک بھی گولی نہیں چلی۔ اس کی بجائے تنازع کی حدت ذرائع ابلاغ، معیشت، سفارت کاری اور سوشل میڈیا کے میدان تک محدود رہی۔

تینالیس 43 ماہ پر مشتمل بائیکاٹ کے دوران میں سمجھتا ہوں کہ قطر نے وہ سب پورا کیا جس کی بائیکاٹ کرتے وقت اس سے ناراض خلیجی ملک توقع کر رہے تھے۔ خلیجی ملکوں کے مخالف اخوان المسلمون کے رہنما تادیر دوحہ کی میزبانی کا لطف اٹھاتے رہے ہیں، بائیکاٹ کی مدت کے دوران وہ سب قطر سے رخت سفر باندھ چکے ہیں۔ قطر نے امریکی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر اپنے بینکنگ سسٹم کی خاطر خواہ حد اصلاح کر لی ہے جس کے بعد مبینہ طور پر انتہا پسند تنظیموں کی مالی امداد کے سوتے خشک ہونے جا رہے ہیں۔

قطر نے اپنے متعدد ذرائع ابلاغ کو دوحہ سے دوسرے ملکوں کو منتقل کر دیا ہے۔ نتیجتاً یہ کہنا غلط نہیں کہ دوحہ نے خلیج کے چار ناراض ملکوں کے ساتھ معاملات درست کرنے کی جانب قابل قدر پیش رفت کی۔ العُلا سمٹ نے اس ضمن میں رہی سہی کسر پوری کرنے کا امکان روشن کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں زندگی معمول کی جانب لوٹنے کو بیتاب ہے۔

مسائل میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب آپ حقیقت کی دنیا سے ہٹ کر بہت زیادہ توقعات باندھ لیتے ہیں۔ عملی اور حقیقی زندگی کے اپنے ہمہ جہت تلخ پہلو ہوتے ہیں۔ مصالحت سے بسا اوقات ہماری تمام توقعات پوری نہیں ہوتیں، تاہم روزمرہ زندگی میں مصالحت کا ڈول ڈالنا بھی ایک مثبت عمل ضرور شمار ہوتا ہے۔

آنے والے دنوں میں پانچ ملکوں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین کے درمیان تعلقات کا درجہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس مصالحت کے علاقائی سیاست کے حوالے سے مثبت مضمرات سامنے آنے کا امکان بھی ہے کیونکہ خلیج تعاون کونسل کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہ بڑے پیمانے پر متاثر رہی ہے۔

العُلا سمٹ سے اپنے خطاب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ ’جی سی سی رکن ملک جان لیں کہ سعودی عرب کی پالیسی مسلمہ اصولوں پر مبنی ہے ۔۔۔ خلیج تعاون کونسل کی وحدت اور مضبوطی الریاض کی اولین ترجیح ہے۔‘

العُلا اعلامیے میں سامنے آنے والی روح اور پیغام اگر خلیج تعاون کونسل اپنا لے تو خطے کے ان اہم اور مضبوط ملکوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں مصالحت سے وابستہ توقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہتا، تاہم اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے۔ اسے خلیجی ریاستوں کے اندر اور باہر خرابی پیدا کرنے والوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ عناصر برس ہا برس سے ملکوں کے درمیان تعلقات میں رخنہ اندازی کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

ایران سے صلح؟

قطر کے ساتھ مصالحت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرب بالخصوص خلیجی ممالک ایسی ہی صلح جوئی کا مظاہرہ ایران کے ساتھ کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ سعودی ایرانی تنازع اور باہمی رقابت کو مغربی دنیا بہت چھوٹا کر کے صرف مسالک کی بنیاد پر سنی شیعہ اختلافات کا نتیجہ سمجھتی ہے حالانکہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

1920 کے عشرے میں جب ایران اور سعودی عرب کے مابین تعلقات قائم ہوئے تو شاہ رضا پہلوی اور شاہ ابن سعود ان دونوں ریاستوں کو جدید بنانا چاہتے تھے۔ 1929 میں ان دونوں ممالک کے مابین دوستی کا ایک معاہدہ بھی طے ہوا تھا۔ 1950 کی دہائی کے اوائل میں ایرانی بادشاہ محمد رضا پہلوی اور اس دور کے سعودی شاہ دونوں ہی امریکہ کے حلیف تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی ایران تھا جس کی پہلوی بادشاہت کی سعودی خاندان سے کوئی سنگین سیاسی رقابت نہیں رہی۔ حالانکہ ایران کے اسرائیل سے سفارتی و اقتصادی تعلقات بھی تھے۔

تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تاریخ میں پہلی بار اوپیک نے تیل کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ کیا تو سعودی شاہ فیصل مرحوم اور ایرانی رضا شاہ نے اس معاملے پر مثالی یکتائی دکھائی۔ شاہ ایران کے دور میں عرب ملکوں کے تہران سے بقائے باہمی کی بنا پر اچھے تعلقات استوار رہے۔

ایران میں ملائیت پر مبنی خود ساختہ ’اسلامی انقلاب‘ کے بعد سے تہران نے خطے میں نفوذ کے لیے اپنے توسیع پسند ایجنڈے کو ہوا دینا شروع کی جس کے بعد سے ایران کے عربوں سے تعلقات بگڑتے چلے گئے۔انقلاب کی باقیات کو دنیا بالخصوص عرب دارالحکومتوں تک اپنی ’پراکسیز‘ کے ذریعے برآمد کرنے پالیسی حالیہ ایران عرب تنازع کی بنیاد ہے۔

آج بھی اگر ایران اپنے اس ’مشن‘ سے پیچھے ہٹنے کا عزم کر لے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کی خاطر دوسرے ملکوں میں پراکسی وار کے فلسفے کو خیرباد کہہ دے تو میں سمجھتا ہوں کہ اعلان العُلا کی تاریخ، ایران سے پرامن بقائے باہمی کا معاہدہ کر کے دہرائی جا سکتی ہے۔

تین برس قبل امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی کے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی گرم جوش جپھی سے استقبال کا خیال ایک ناقابل یقین بات تھی، لیکن قطر نے اپنے سلوک اور رویے میں لچک دکھا کر بظاہر ناممکن معانقہ کو ممکن بنایا ہے تو ایران بھی کسی ایسی انھونی کو ہونی بنا سکتا ہے!

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ