خاتون پولیس افسر کی ساس امریکہ سے واپسی پر گھر سے بے دخل

لاہور پولیس نے متاثرہ بزرگ خاتون کی درخواست پر انکوائری کے بعد سب انسپکٹر بشریٰ عزیز کو معطل کرکے محکمانہ کاروائی شروع کر دی۔ دوسری جانب خاتون پولیس افسر نے اپنی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔

(ارشد چوہدری)

لاہور کے معروف زمیندار چوہدری مبارک علی کی بیوہ نسیم بی بی اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات کے بعد اپنی بیٹی کے ساتھ علاج کرانےامریکہ گئیں اور جب واپس آئیں تو ان کی پولیس افسر بہو نے گھر داخل ہی نہ ہونے دیا۔

والٹن روڑ پر واقعہ کروڑوں روپے مالیت کی اس کوٹھی میں سب انسپکٹر پولیس بشریٰ عزیز جو کہ چوہدری عزیز الرحمن کی بیوہ ہیں رہائش پذیر ہیں۔

پولیس حکام نے متاثرہ بزرگ خاتون کی درخواست پر انکوائری کے بعد بشریٰ عزیز کو معطل کرکے محکمانہ کاروائی شروع کر دی دوسری جانب خاتون پولیس افسر نے اپنی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔

معاملہ ہے کیا؟

نسیم بی بی کے مطابق ان کے خاوند چوہدری مبارک علی والٹن روڑ کوڑے پنڈ کے بااثرچوہدری تھے جن کی زرعی اور سکنی کافی جائیداد تھی ۔ ان کے اکلوتے بیٹے چوہدری عزیز الرحمن نے پولیس سب انسپکٹر بشریٰ عزیز سے شادی کی، ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں۔ بشریٰ نے شادی کے کچھ عرصہ بعد طلاق لے کر دوسری شادی کر لی اور آٹھ سال بعد خلع لے کر دوبارہ عزیز الرحمن سے نکاح کر لیا۔

نسیم بی بی کے مطابق بشریٰ عزیز نے ان کے بیٹے کو نشہ پر لگادیا تاکہ وہ جلد فوت ہو جائے اور وہ ساری جائیداد حاصل کر سکیں۔ ان کا بیٹا 2018 میں فوت ہوگیا جب کہ خاوند پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔ ان کی طبیعت خراب ہوئی تو ان کی بیٹی انہیں اپنے ساتھ امریکہ لے گئیں جہاں ان کا علاج کرایاگیا اور وہ کچھ عرصہ پہلے واپس آئیں لیکن ان کی پولیس افسر بہو نے گھر داخل نہیں ہونے دیا اور انہیں بے عزت کر کے نکال دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ان کا بیٹیوں کے علاوہ کوئی سہارا نہیں جب کہ جائیداد بھی ساری ان کی بہو کے قبضہ میں ہے۔ انہوں نے تقسیم جائیداد کا دعوی بھی دائر کررکھاہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سب انسپکٹر سابق ایس ایچ او تھانہ ریس کورس بشریٰ عزیز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے سسر کی وفات کے بعد ان کی ساس نسیم بی بی ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں لیکن انہوں نے اپنی بیٹیوں کے کہنے ہر تقسیم جائیداد کا دعوی دائر کردیا اور خود ہی اپنی بیٹی کے ساتھ امریکہ چلی گئیں، ہم نے انہیں گھر سے بے دخل نہیں کیا۔ ’انہوں نے میرے خلاف درخواستیں دے کر مجھے معطل کرادیا اور ابھی بھی مجھے دھکمیاں دی جارہی ہیں۔‘

بشریٰ عزیز کے وکیل اسد کیانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ والٹن روڑ کوڑے سٹاپ پر واقع ڈھائی کنال کوٹھی شام لاٹ سکیم کے تحت چوہدری مبارک علی کو الاٹ ہوئی جس کی رجسٹری موجود نہیں تاہم ایک سٹامپ پیپر موجود ہے جس میں چوہدری عزیز الرحمن نے یہ کوٹھی اپنی اہلیہ بشریٰ عزیز اور دونوں بیٹیوں کے نام کر دی تھی لیکن اب نسیم بی بی اور ان کی دو بیٹیوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص عدالت میں دعوی دائر کردیا ہے کہ اس کوٹھی اور دیگر جائیداد کو تقسیم کر کے انہیں حصہ دار بنایاجائے۔

قانونی کارروائی:

ڈی آئی جی ایڈمن لاہور امین بخاری کے مطابق پولیس کے پاس جو درخواست آئی اس پر انکوائری جاری ہے اور ایس آئی بشریٰ عزیز کو معطل کر دیاگیاہے۔

اس معطلی کے خلاف بشریٰ عزیز نے بھی عدالت سے رجوع کر کے بحالی کی درخواست کر رکھی ہے۔

نسیم بی بی کی جانب سے سی سی پی او لاہور کو دی گئی درخواست میں کہاگیاکہ ان کی بہو پولیس افسر ہونے کے باعث ان کی کروڑوں روپے کی کوٹھی اور جائیدادپر قابض ہیں اور ان کے بااثر ہونے کے باعث محکمہ پولیس کارروائی سے گریزاں ہے۔ اس معاملہ پر متعلقہ تھانہ ڈیفنس میں درخواست دی لیکن پولیس نے کوئی مدد نہیں کی انہوں نے اپنے محکمہ کی خاتون افسر کے اثرورسوخ پر کارروائی سے گریز کیا لہذا ان کو قانونی مدد فراہم کی جائے۔

فریقین کی جانب سے مختلف عدالتوں میں بھی درخواستیں دی گئی ہیں جن پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان