صادق سنجرانی بمقابلہ یوسف رضا گیلانی: پی ٹی آئی پرامید کیوں؟

اراکین کم ہونے کے باوجود تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے پر امید ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں ضرورت سے زیادہ سینیٹرز کی حمایت کے باوجود مخالف کیمپ سے بھی ووٹوں کی آس لگائے بیٹھی ہیں۔

حکومت نے موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو ہی میدان میں اتارا ہے جبکہ حزب اختلاف نے یوسف رضا گیلانی کو امید وار بنایا ہے (اے پی پی/ اے ایف پی)

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمینکے انتخابات کا دنگل آج ( جمعے کو) لگ رہا ہے، جس میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف 47 اراکین کے ساتھ پرامید دکھائی دے رہی ہے۔

حکومتی اور حزب اختلاف کے اتحاد دونوں سینیٹ میں اپنی اپنی عددی قوت سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ 

مارچ کے شروع میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والی جماعتوں اور حزب اختلاف کے سینیٹرز کی تعداد بالترتیب 47 اور 53 ہو گئی ہے۔ 

دلچسپ بات ہے کہ عددی کمی کے باوجود تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے پر امید ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں ضرورت سے زیادہ سینیٹرز کی حمایت کے باوجود مخالف کیمپ سے بھی ووٹوں کی آس لگائے بیٹھی ہیں۔ 

پارلیمانی امور کے ماہر صحافی ایم بی سومرو کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست کے انتخابات کے لیے حکومت کو قومی اسمبلی میں اکثریت کی وجہ سے جیت کا یقین تھا، جبکہ آج سینیٹ میں اراکین کی زیادہ تعداد کے بھروسے پر اپوزیشن پر امید ہے۔  

انہوں نے کہا: ’جب وہ نتیجہ عددی برتری کے برعکس آیا تو کیا شک ہے کہ آج کے نتائج بھی سینیٹرز کی تعداد کے الٹ آ جائیں، لیکن مقابلہ بہت سخت ہے اور ابھی کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔‘ 

حکومتی اتحاد نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے موجودہ چیئرمینمحمد صادق سنجرانی کو اسی عہدے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جبکہ ڈپٹی چیئرمینکے عہدے کے لیے ان کے امیدوار خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے سینیٹر مرزا محمد آفریدی ہیں۔  

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے چیئرمینسینیٹ کے امیدوار پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمینکے لیے جمیعت علمائے اسلام ف کے عبدالغفور حیدری ہیں۔ 

آئین پاکستان کے تحت سینیٹ کے چیئرمیناور ڈپٹی چیئرمینکے انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہوتے ہیں اور دونوں عہدوں کے لیے سادہ اکثریت حاصل کرنے والے امیدوار کامیاب قرار پاتے  ہیں۔ یوں سو ارکان پر مشتمل سینیٹ میں 51 ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار انتخابات میں جیت کا مستحق ٹھہرے گا۔ 

دونوں اطراف کیوں پر امید ہیں؟ 

سینیٹ میں کم اراکین کے باوجود حکومتی جماعت تحریک انصاف اور اس کے اتحادی پر امید ہیں کہ صادق سنجرانی اور مرزا محمد آفریدی ایوان بالا کا نظام سنبھالیں گے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزرا اور وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان اس سلسلے میں گذشتہ کئی روز سے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں اور اس کی وجہ صادق سنجرانی کی سینیٹ میں اچھی شہرت کو قرار دیتے ہیں۔ 

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر کا کہنا تھا: ’سنجرانی صاحب گذشتہ تین سال چیئرمینکے عہدے پر رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے حکومتی اور اپوزیشن سینیٹرز کے درمیان اچھی دوستیاں قائم کی ہیں، جو انہیں اب الیکشنز میں مدد دیں گی۔‘ 

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ ایسے امیدوار میدان میں اتارتی ہیں جو خود بھی چند ایک ووٹ اپنے لیے حاصل کر سکیں اور سنجرانی صاحب میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ 

حکومتی امیدوار صادق سنجرانی سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے ایک بیان کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا: ’وہ (سنجرانی) حکومت ہی کے نہیں ریاست کے بھی امیدوار ہیں۔‘ 

صحافی اور اینکر پرسن شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کے بیان سے بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے اور اس لیے حکومتی اتحاد کے سینیٹرز کم ہونے کے باوجود صادق سنجرانی کے جیتنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ 

سیاسی تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا: ’ذہن میں رکھیں کہ رائے شماری خفیہ ہو گی اور سینیٹرز ضمیر کی آواز کے مطابق رائے کا حق استعمال کریں گے، جس سے عددی برتری تبدیل ہو سکتی ہے۔‘ 

پی ڈی ایم کی اہم جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے ریاستی اداروں پر حکومتی امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔ 

پی ایم ایل این کے سینیٹر حافظ عبدالکریم نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بعض سرکاری افسران نے انہیں فون کیا اور حکومتی امیدواروں کو ووٹ دینے کا کہا۔ 

یاد رہے کہ چند ہفتے قبل فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے واضح کیا تھا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے ملکی سیاست میں مداخلت نہیں کرتے اور انہیں ان معاملات میں نہ گھسیٹا جائے، جبکہ یوسف رضا گیلانی بھی ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پر اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ 

دوسری طرف حزب اختلاف کی امید کی وجہ بہت واضح ہے جو ان کے سینیٹرز کی زیادہ تعداد ہے، جس کے باعث یوسف رضا گیلانی اور عبدالغفور حیدری کی جیت ظاہری طور پر یقینی نظر آ رہی ہے۔  

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں تحریک انصاف کی کارکردگی سے بہت زیادہ خوش نہیں ہیں اور ناراضگیاں بہت زیادہ ہے۔ ’اس لیے حکومتی بینچز پر بیٹھے سینیٹرز بھی ان کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ ’صادق سنجرانی کو لانے میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف زرداری کا ہاتھ تھا، اور یوسف رضا گیلانی کو بھی لانے والے آصف زرداری ہی ہیں اور اس سے بات کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔‘ 

سینیٹ کیوں اہم ہے؟ 

پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کی رکنیت ہر صوبے کی آبادی پر مبنی ہے جس کے باعث زیادہ آبادی والے صوبوں کے زیادہ ایم این ایز منتخب ہوتے ہیں اور چھوٹے صوبوں سے کم۔ 

ایوان بالا کی تشکیل کا بنیادی مقصد قومی اسمبلی کے برعکس سینیٹ میں تمام وفاقی یونٹوں کو یکساں نمائندگی دینا ہے، اور یوں یہاں مساوی صوبائی رکنیت قومی اسمبلی میں صوبائی عدم مساوات کو متوازن کرتی ہے اور محرومی اور استحصال سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرتی ہے۔ 

پاکستان میں قانون سازی کے آئینی طریقہ کار کے تحت ہر بل (منی بل کے علاوہ) کا سینیٹ سے منظور ہونا ضروری ہے، اور حزب اختلاف کی اکثریت کے باعث حکومتی جماعت کو قانون سازی میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔ 

یاد رہے کہ تحریک انصاف کو سینیٹ میں حزب اختلاف کی اکثریت کی وجہ سے قانون سازی میں مسائل کا سامنا رہا اور اسی لیے چند ماہ قبل حکومت کو فیٹف سے متعلق کئی بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانا پڑے تھے۔ 

چیئرمینسینیٹ سربراہ ایوان بالا ہونے کے علاوہ ایوان کی کارروائی چلانے اور انتظامی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ 

آئین پاکستان کے تحت صدر اور وزیر اعظم کے بعد چیئرمینسینیٹ تیسرا اہم آئینی عہدہ ہے، صدر کی غیر موجودگی میں یہ قائم مقام سربراہ مملکت تعینات ہو جاتتے ہیں، اور اسی حیثیت میں فوج کے قائم مقام سپریم کمانڈر کا عہدہ بھی سنبھالتے ہیں۔ 

دفاعی امور کے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ کسی ملک میں ریاستی ادارے معاملات کو کنٹرول کرنا چاہیں تو پارلیمان کا ایوان بالا ان اداروں کی فہرست میں شامل ہو گا جن کا نظام اپنے ہاتھوں میں رکھنا ضروری ہو۔ ’اس لحاظ سے اس ایوان کا سربراہ ایک اہم عہدہ بن جاتا ہے اور اس کو اپنے کنٹرول میں رکھا جانا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان میں سکیورٹی ادارے ایسی کوئی حرکت کرتے ہیں تو سینیٹ کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں اور ایسا ’اپنے بندے‘ کو چیئرمینسینیٹ بنا کر ہی ممکن ہو سکتا ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست