اسرائیلی وزیر اعظم کا حوثی حملے کے خدشے پر یو اے ای کا دورہ منسوخ

نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اردن کی جانب سے فضائی حدود پر پابندی اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے میزائل حملے کے خدشے کی بنا پر انہوں نے یو اے ای کا دورہ منسوخ کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو (اے ایف پی)

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اردن کی جانب سے فضائی حدود پر پابندی اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے میزائل حملے کے خدشے کی بنا پر انہوں  نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا دورہ منسوخ کیا تھا۔

ہمسایہ ملک اردن نے ایک تنازعے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کی پرواز کے لیے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی تھی۔

حوثی باغیوں کے حالیہ میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو نے اسرائیلی چینل 13 کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے سعودی فضائی راستوں میں مسائل تھے، اس لیے اردن کی فضائی بندش کے باعث انہوں نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال نہیں کی اور اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔

نیتن یاہو نے سعودی فضائی حدود میں خطرے کی مزید تفصیل نہیں بتائی اور نہ ہی انہوں نے کہا کہ ان کا طیارہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ہدف پر تھا۔

یمن کے دارالحکومت اور ملک کے شمال میں بیشتر حصوں کو کنٹرول کرنے والے حوثی باغیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے اہم انفراسٹرکچر پر سرحد پار سے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ تعلقات استوار ہونے کے نصف سال بعد نیتن یاہو پہلے اسرائیلی رہنما تھے جنہوں نے یو اے ای کا سرکاری دورہ کرنا تھا۔ انہیں امید تھی کہ اسرائیل میں 23 مارچ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل وہ یو اے ای کے ولی عہد کے ساتھ ملاقات کو اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کریں گے۔

وزیر اعظم کے دفتر نے بتایا کہ سکیورٹی معاہدے پر اختلاف رائے کی وجہ سے اردن کی فضائی حدود استعمال کرنے کے لیے رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان اختلافات کے باعث اردن کے ولی عہد نے بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔

وزیر اعظم نیتن ہاہو نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مثبت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اردن کو ہمارے ساتھ اچھے تعلقات کی اسی طرح ضرورت ہے جیسے ہمیں اردن کے ساتھ اچھے تعلقات کی ضرورت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا