’امریکی فیصلے سے حوثیوں کا حوصلہ بڑھا، حملوں میں اضافہ ہوا‘

سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے حوثیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے کے بعد حوثی ملیشیا نے اس کے جواب میں سعودی عرب اور عدن حکومت پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

المالکی  2017 سے اس عرب  اتحاد کے ترجمان چلے آ رہے ہیں (اے ایف پی)

سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے حوثیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے کے بعد حوثی ملیشیا نے اس کے جواب میں سعودی عرب اور عدن حکومت پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے دہشت گردی کی فہرست سے نکالے جانے کا مطلب عدن حکومت اور سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کی اجازت سمجھا ہے۔ 

بریگیڈئیر جنرل ترکی المالکی نے عرب نیوز کو دیے جانے والے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ واشنگٹن کے حوثیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے کے بعد حوثی ملیشیا نے سعودی عرب اور عدن حکومت پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

رواں سال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 19 جنوری کو حوثی ملیشیا (جسے انصاراللہ بھی کہا جاتا ہے) کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالا تھا۔ یہ قدم سابق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران اور اس کی حمایت یافتہ قوتوں کے خلاف استعمال کی جانے والی ’بھرپور دباؤ‘ کی پالیسی کے آخری اقدامات میں سے ایک تھا۔ 

نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے 15 فروری کو اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے حوثی ملیشیا کو اس فہرست سے نکال دیا تھا۔

جنرل المالکی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی واپسی کے بعد سے حوثی ملیشیا نے یمنی حکومت کی فورسز اور سعودی عرب میں شہری آبادیوں اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

جنرل المالکی کا کہنا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ حوثیوں نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے کا غلط مطلب اخذ کیا ہے۔ جس کے بعد انہوں نے اپنے جارحانہ حملوں کی تعداد بڑھا دی ہے اور یمن سے اپنے ہمسایوں کے خلاف ڈرونز اور بلاسٹک میزائلوں کا استعمال کر رہے ہیں۔‘

المالکی جو سال 2017 سے اس اتحاد کے ترجمان چلے آ رہے ہیں کا ماننا ہے کہ حوثی ملیشیا کو اپنے رویے کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں رہنا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ ’اس ملیشیا کا یہ رویہ خطے میں موجود القاعدہ اور داعش کی سرگرمیوں سے ملتا جلتا ہے۔ اگر آپ سال 2016 کی بات کریں تو حوثی ملیشیا نے ایک امریکی جہاز کو نشانہ بنایا تھا جس کا نام یو ایس ایس میسن تھا۔ امریکی انتظامیہ نے اس کے جواب میں یمن میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ یمن میں موجود جزیرہ عرب کی القاعدہ اور حوثی ملیشیا کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ سال 2000 میں القاعدہ نے بھی امریکی جہاز یو ایس ایس کول کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ صرف مملک سعودی عرب کے لیے خطرہ نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حوثی ملیشیا اور دوسرے دہشت گرد گروہوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ حوثی وہ پہلا گروہ ہیں جنہوں نے بلاسٹک اور کروز میزائلوں، مسلح ڈرونز اور بغیر پائلٹ اڑنے والے طیاروں تک رسائی حاصل کی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی دہشت گرد گروہ نے اتنی صلاحیتیں حاصل کر لی ہوں۔‘

جنرل المالکی کے مطابق حوثی اپنی سرگرمیوں کو یمنی حکومت کی چھتری تلے چھپانا چاہتے ہیں جبکہ دوسرے گروہ جیسے کہ داعش اور جزیرہ عرب میں القاعدہ زیادہ تر آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی دخل اندازی یمن میں معاملات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے کیونکہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کے خواہاں ہیں اور یمن کو بطور کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ حوثی بھی اس بات کو سمجھتے ہیں۔ وہ اس وقت ایرانی حکومت اور ایرانی انقلابی گارڈز کے ہاتھ میں ایک مہرہ بن چکے ہیں جنہیں ایران مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہی ہار دے گا۔‘

یمن میں جنگ میں اضافہ اس وقت ہوا تھا جب سال 2015 میں حوثی ملیشیا نے یمنی صدر عبدالربو منصور ہادی کی اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ جس کے بعد سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد نے خطے اور عالمی طاقتوں کی حمایت سے یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا