’انسانی تہذیب میں پتھروں کی پہلی تعمیر سعودی شہر العلا میں ہوئی‘

اس بات کا انکشاف ڈسکوری چینل نے خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ میں کیا۔

صحافی سعودی شہر العلا میں بیٹھے نظر آ رہے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

انسانی تاریخ و ترقی پر تحقیق کے حوالے سے معروف ٹیلی ویژن چینل ڈسکوری کے مطابق انسانی تہذیب میں پتھروں سے تعمیر ہونے والی پہلی عمارت سعودی عرب کے قدیم شہر العلا میں کی گئی۔

چینل کی ماہرین تاریخ پر مشتمل ٹیم نے خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ میں اس بات کا انکشاف کیا۔

ٹیم کی اس تحقیق نے خطہ عرب کی تاریخ کے حوالے سے پائی جانے والی عالمی سمجھ بوجھ کو تبدیل کر دیا ہے۔ 

اس تحقیق کو پس منظر میں بیان کرنے کے لیے اکیڈمی ایوارڈ، گولڈن گلوب ایوارڈ اور ایمی ایوارڈ سمیت کئی بین الااقوامی ایوارڈز حاصل کرنے والے جیرمی آئرنز کو چنا گیا ہے۔ دستاویزی فلم میں سعودی ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دانوں کے اس علاقے سے متعلق نئے تاریخی رازوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئے تھے۔

ڈاکومینٹری کے دوران علاقے میں ہزاروں مقامات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ بھی کیا گیا تاکہ انسانی تاریخ کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑتے ہوئے انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا جا سکے۔ 

العلا سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں ایک وسیع نخلستان ہے۔ یہ خطہ تین ہزار سال پرانی تہذیبوں کے دوران اس خطے کا ایک سفری اور رہائشی مرکز رہا ہے۔

حالیہ تاریخ میں کی جانے والی اہم تحقیقی سرگرمیوں نے العلا کی طویل تاریخ کے رازوں کو منکشف کیا ہے۔

یہ ڈاکومینٹری ڈسکوری چینل اور دی رائل کمیشن آف العلا کی باہمی معاونت سے بنائی گئی ہے۔

ڈاکومینٹری کے ایڈیٹر اور ایگزیکٹیو پروڈیوسر رابرٹ کیروان کا کہنا ہے کہ ’العلا میں عکس بندی کے لیے گزارا جانے والا وقت زندگی تبدیل کر دینے والا تھا۔ ایسا صرف میرے لیے نہیں بلکہ پورے عملے کے لیے تھا۔ میں نے اتنا خوبصورت علاقہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس علاقے میں موجود پتھر سے تیار کردہ ہزاروں تعمیرات کو ہزاروں سال سے چھوا نہیں گیا۔ ہم قدیم تاریخ کے بھوتوں کے درمیان گھوم رہے تھے اور محسوس کر رہے تھے کہ وہ اپنی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔‘

رائل کمیشن آف العلا کی ڈائریکٹر ربیکا فوٹی کا کہنا ہے کہ ’ہم حیجرہ جیسے اہم مقامات کے حوالے سے معلومات رکھتے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اس ٹیم کی ڈاکومینٹری ہمیں ان قبل از تاریخ چیزوں سے آگاہ کرے گی جو ہم نہیں جانتے جب معاشرے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔‘

’ماہرین آثار قدیمہ نے اس خوبصورت علاقے سے متعلق رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ یہاں جاننے کو بہت کچھ ہے اور ہم پرجوش ہیں کہ ہم اس ڈاکومینٹری کے ذریعے دنیا کو اپنے کام سے آگاہ کر سکیں گے۔‘

’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ نامی یہ ڈاکومینٹری مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے وقت کے مطابق 31 مارچ کو رات نو بجے دکھائی جائے گی۔

سعودی عرب کے شمال مغربی شہر مدینہ کے علاقے میں واقع العلا شہر کبھی لوبان کی تجارت کے وسیع راستے پر ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔

یہ راستہ بحیرہ روم سے بھارت اور شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اب اس کی آبادی پانچ ہزار سے کچھ زیادہ نہیں لیکن سعودی عرب اسے ثقافت و سیاحت کے اعتبار سے اہم مقام کے طور پر دیکھتا ہے۔

سعودی حکومت نے اس مقام اور اس کے دیواروں میں بند تاریخی شہر کو دنیا کے سب سے بڑے ایسے عجائب گھر میں تبدیل کرنے کے منصوبے تیار کیے ہیں جہاں ماضی کی جھلک دکھائی جائے گی۔

سعودی حکومت کو امید ہے کہ اس علاقے کو دیکھنے کے لیے سالانہ لاکھوں لوگ آئیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ