چین میں تین ہزار سال قدیم سونے کے ماسک پر میمز کیوں؟

چین میں آثار قدیمہ کی ایک غیر معمولی دریافت اس وقت آن لائن صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی جب تین ہزار سال قدیم سونے کے ماسک کو بطور میم نئی زندگی ملی۔

سونے کے اس ماسک کا وزن 280 گرام ہے اور این سی ایچ اے کے ایک تخمینے کے مطابق اس کی تیاری میں 84 فیصد سونا استعمال کیا گیا ہے (روئٹرز)

چین میں آثار قدیمہ کی ایک غیر معمولی دریافت اس وقت آن لائن صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی جب تین ہزار سال قدیم سونے کے ماسک کو بطور میم نئی زندگی ملی۔

ثقافتی طور پر اہمیت رکھنے والا انسانی ہنر کا یہ نمونہ چین کے جنوبی مغربی صوبے سیچوان سے ملنے والے اس بڑے ذخیرے کا حصہ تھا جس میں تانبے کے دور یعنی قبل از تاریخ کے پانچ سو آثار قدیمہ شامل تھے۔ یہ ذخیرہ شنزنگڈوئی کے کھنڈرات سے دریافت ہوا ہے جو دیومالائی شہرت رکھتا ہے۔

سونے کے ماسک کے ٹکڑوں کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ کو اس ذخیرے سے پرندوں کی شکل والے سونے کے زیورات، سونے کے ورق، تانبے سے تیار کی گئی تصاویر اور ہاتھی دانت، قیمتی پتھروں اور ہڈیوں سے تیار کردہ فن پارے بھی ملے ہیں۔ 

لیکن نصف چہرے کے سونے کے اس ماسک نے چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر زیادہ توجہ حاصل کر لی اور اس پر میمز اور ویڈیوز کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

بی بی سی نیوز کے مطابق ایک ہیش ٹیگ جس کا ترجمہ ’شنزنگڈوئی گولڈ ماسک فوٹو ایڈیٹنگ کا مقابلہ‘ تھا، شروع ہو گیا اور اب تک ویبو پر اس کو 40 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

کئی صارفین نے اس ماسک کو دوسرے معروف آئکونز پر چپکاتے ہوئے اس کی تعریف کی اور اسے ’حیرت انگیز‘ اور ’خوبصورت‘ قرار دیا۔ 

اس فیس ماسک کو جاپانی جنگجو کردار الٹرامین کے اوپر بھی ایڈٹ کیا گیا جب کہ جاپانی کارٹون کردار ہیلو کٹی، پانڈہ اور خلائی مخلوق کو بھی پہنایا گیا۔

شنزنگڈوئی میوزیم کے حکام نے بھی اس مقابلے کا لطف لیتے ہوئے اپنے طور پر بنائی گئی میم پوسٹ کی جس میں یہ ماسک ایک ٹیڈی بیئر کے چہرے پر پہنایا گیا تھا جب کہ ایک اینی میٹڈ ویڈیو بھی پوسٹ کی گئی جس میں اس ماسک اور باقی دستکاریوں کو دکھایا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میوزیم نے اپنی میم شیئر کرتے ہوئے اس کے عنوان میں لکھا کہ ’صبح بخیر، ہم ابھی ہی جاگے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب لوگ فوٹو شاپ میں مصروف رہے ہیں؟‘

محققین کا ماننا ہے کہ ان دستکاریوں کی دریافت قدیم شو تہذیب کے حوالے سے مزید آگاہی فراہم کر سکتی ہے جو اس علاقے میں 316 قبل از مسیح سے پہلے حکومت کرتی تھی لیکن اس بارے میں تحریری طور پر کم ہی مواد دستیاب ہے۔

یہ تمام اشیا چھ ’قربانی کے گڑھوں‘ سے ملی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ شو تہذیب سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں پر اپنے آباواجداد کے لیے اپنی قربانیاں پیش کیا کرتے تھے۔

نیشنل کلچرل ہیریٹیج ایڈمنسٹریشن (این سی ایچ اے ) کے مطابق مستطیل کی شکل کے یہ گڑھے نومبر 2019 سے مئی 2020 کے درمیان دریافت ہوئے تھے۔ 

سونے کے اس ماسک کا وزن 280 گرام ہے اور این سی ایچ اے کے ایک تخمینے کے مطابق اس کی تیاری میں 84 فیصد سونا استعمال کیا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل