نہر سوئز میں پھنسا مال بردار جہاز ’جزوی طور پر ہٹا دیا گیا‘

بحری ٹریفک سے متعلق ویب سائٹ پر موجود سیٹلائٹ ڈیٹا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاز کے دیوقامت اگلے حصے کو نہر کے مشرقی کنارے سے تھوڑا سا دور کر دیا گیا تاہم وہ ابھی تک تہہ سے الگ نہیں کیا جا سکا۔

میکسار ٹیکنالوجیز کی فراہم کردہ اس تصویر میں نہر سوئز میں پھنسے بحری جہاز کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پیر کو انجینیئر اسے جزوی طور پر ہٹانے میں کامیاب ہوئے (اے ایف پی)

مصر کی سوئز کینال میں سروسز فراہم کرنے والی ایک فرم نے کہا ہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے نہر سوئز میں پھنسے مال بردار بحری جہاز کو ’جزوی طور پر ہٹا‘ لیا گیا ہے۔

تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ جہاز کب تک دوبارہ مکمل طور پر سفر کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

بحری ٹریفک سے متعلق ویب سائٹ میرین ٹریفک ڈاٹ کام پر موجود سیٹلائٹ ڈیٹا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاز کے دیوقامت اگلے حصے کو نہر کے مشرقی کنارے سے تھوڑا سا دور کر دیا گیا تاہم وہ ابھی تک تہہ سے الگ نہیں کیا جا سکا۔

ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جہاز کا اگلا حصہ نہر کے کنارے سے دور ہونے کے بعد اس کا پچھلا حصہ بھی گھوم گیا جس کے بعد جہاز آبی گزر گاہ کے وسط میں آ گیا ہے۔

تقریباً ایک ہفتہ پہلے ’ایورگیون‘ نامی یہ دیوقامت بحری جہاز ترچھا ہو کر نہر سوئز کی اہم گزرگاہ میں پھنس گیا تھا جس کے بعد بحری ٹریفک بڑے پیمانے پر جام ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس رکاوٹ سے نو ارب ڈالر یومیہ کی عالمی تجارت بند ہو گئی جب کہ سپلائی کا سلسلہ دباؤ کا شکار ہو گیا جو پہلے ہی کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔

خام تیل اور مویشیوں سے لدے کم ازکم 367 بحری جہاز اب بھی نہر سوئز گزرگاہ کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ متعدد بحری جہاز افریقہ کے جنوبی حصے میں کیپ آف گڈ ہوپ کے خشک علاقے کے گرد گھوم کر جانے والا متبادل بحری راستہ اختیار کر چکے ہیں جس سے ان کے سفر میں تقریباً دو ہفتے کا اضافہ ہو گیا ہے اور سامان کی بروقت فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

مصر کی شپ اینڈ آف شور ایجنسی ’لیتھ ایجنسیز‘ کا کہنا ہے کہ نہر سوئز میں پھنسے جہاز کو 10 ٹگ بوٹس کی مدد سے سخت کوشش سے کھینچا گیا۔ اس دوران پورے چاند کی بدولت نہر میں پانی کی سطح بھی بلند ہو گئی جس سے نمایاں پیشرفت کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں ٹگ بوٹس کو ایورگرین کو نہر کے کنارے سے دور ہٹانے میں کامیابی کی خوشی میں ہارن بجاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 
 
پیر کی صبح ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک نمائندے نے دیکھا کہ جہاز کی پوزیشن تبدیل ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے جہاز کا صرف پچھلا حصہ دکھائی دے رہا جب کہ اب کی ایک سائیڈ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

سوئز کینال اتھارٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل اوسامہ ربی نے تصدیق کی ہے کہ جہاز کو کھینچ کر جزوی طور پر کنارے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے جہاز کو اس کے راستے پر تقریباً بالکل سیدھا کر دیا ہے۔ جہاز کا بچھلا سرا نہر کے کنارے سے 102 میٹر دور ہٹا دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا