وزیر اعظم کا سعودی ولی عہد کو خط، گرین منصوبے پر اظہار مسرت

خط کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور سعودی عرب کے اعلان کردہ گرین انیشیٹیوز کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے نام لکھے گئے اپنے خط میں 'گرین سعودی عرب' اور 'گرین مڈل ایسٹ' انیشیٹیو کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'مجھے ان منصوبوں کے متعلق جان کر دلی خوشی ہوئی ہے۔ ولی عہد کا یہ منصوبہ پاکستان کے 'کلین اینڈ گرین انیشیٹیو سے مطابقت رکھتا ہے۔'

خط کے مطابق پاکستان بھی سال 2023 تک اپنے میرین اور محفوظ علاقے میں بالترتیب 15 اور دس فیصد اضافے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے خط میں لکھا کہ ایسے منصوبے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی سے مقابلے بلکہ ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دیتے ہوئے نوجوانوں کے لیے مزید نوکریاں اور مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔

خط کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور سعودی عرب کے اعلان کردہ ان گرین انیشیٹیوز کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ پاکستان اپنے منصوبوں کے حوالے سے حاصل ہونے والے تجربات کو بخوشی سعودی عرب کے ساتھ شئیر کرنا چاہے گا۔

وزیر اعظم کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کا چیلینج بین الااقوامی اشتراک اور تعاون سے حل ہو سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے لکھا کہ '’دنیا کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اس سر سبز راہ پر چل کر اکیسویں صدی کے لیے ترقی کی ایک نئی مثال پیش کرے۔ میں دل کی گہرائیوں سے آپ کی اس تبدیلی کی سمت کی گئی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ '

وزیر اعظم نے اپنے خط میں سعودی فرمان روا، ولی عہد اور سعودی عرب کی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

سعودی ولی عہد نے گذشتہ ہفتے گرین سعودی اور گرین مشرق وسطیٰ اقدامات کا اعلان کیا تھا جس کے تحت خطے میں کاربن کے اخراج کو 60 فیصد تک کم کرنے اور 50 ارب درخت لگانے سمیت کئی پروگرام شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی ولی عہد نے گرین مڈل ایسٹ انیشیٹیو کے حوالے سے خطے کے مختلف ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو بھی کی ہے۔ ان ممالک میں قطر، کویت، بحرین، عراق اور سوڈان شامل ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق منصوبے کے تحت سعودی عرب میں دس ارب اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک میں میں چالیس ارب درخت لگائے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان اہم امور پر ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔

وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے مذہبی ہم آہنگی اور مشرق وسطی طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ 'یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان 15 ماہ میں پہلی گفتگو ہے۔'
طاہر محمود اشرفی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'مہینوں کی خاموشی کے بعد یہ بڑا رابطہ ہے۔ گفتگو کے دوران عمران خان نے سعودی عرب کے گرین انشیٹیوز، قطر کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور یمن میں امن کی کوششوں کی تعریف کی۔'
ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد نے عمران خان کی صحت دریافت کی جو ان دنوں کرونا وائرس سے متاثر ہیں جبکہ عمران خان نے بھی سعودی فرنروا شال سلمان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ 
ان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونگ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان گرم جوش تعلقات کی عکاس ہے۔ کل پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے بھی بات چیت کی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان جلد وفود کی سطح پر ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع  ہو جائے گا جو کرونا کے باعث تعطل کا شکار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات