سوات کیپ ہاؤس جہاں ملکہ الزبتھ کے لیے ٹوپی اور پرس تیار کیا گیا تھا

ریاستی دور میں قائم ہونے والی دکان سوات کیپ ہاؤس کے مالک کا کہنا ہے کہ یہاں نہ صرف سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان اور سابق صدر ایوب خان کے لیے قراقلی ٹوپی اور چوغہ تیار کیا گیا بلکہ ملکہ الزبتھ کے لیے بھی ٹوپی اور پرس تیار کیا گیا۔

مینگورہ شہر میں سوات کیپ ہاؤس کے نام سے گارمنٹس کی ایک دکان موجود ہے جو ریاست سوات کے دور میں یعنی تقریباً 80 سال قبل قائم کی گئی تھی۔

یہاں سابق وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان اور سابق صدر ایوب خان کے لیے قراقلی ٹوپی اور چوغہ بھی تیار کیا جاتا تھا جبکہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم سمیت دیگر ریاستی مہمانوں اور نواب دیر و ہنزہ کے لیے تحائف بھی تیار کیے جاتے تھے۔

 اس چھوٹی سی دکان میں ریاست سوات کی فوج کے سپاہیوں کی وردیاں، ٹوپیاں اور بیجز وغیرہ تیار کیے جاتے تھے۔

سوات کیپ ہاؤس کے مالک اورنگزیب کے مطابق 1949 میں والی سوات میاں گل عبدالحق جہانزیب کی رسمِ تاج پوشی کے بعد انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سوات کی بھی اپنی ایک الگ ٹوپی ہونی چاہیے جو آگے چل کر ریاست سوات کے باسیوں کی پہچان بنے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’والی سوات کی تاج پوشی کے ایک سال بعد سواتی ٹوپی تیار کی گئی جسے پہننے میں آج تک اہل سوات خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہاں سواتی قراقل اور سواتی پی کیپ بھی تیار کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’جب لیاقت علی خان والی سوات کی تاج پوشی کے موقع پر سوات آئے تو میرے والد ملک فضل کریم جان نے ایک قراقلی ٹوپی اور چوغہ تیار کر کے ان کی خدمت میں پیش کیا تھا۔‘

اس کے علاوہ ملکہ الزبتھ دوم جب سوات آئیں تو والی سوات کے حکم پر ملکہ کے لیے ٹوپی کے ساتھ ایک عدد پرس بھی تیار کیا گیا۔

ملک فضل کریم جان کے پوتے محمد نواز کے مطابق صدر ایوب خان جب بھی سوات تشریف لاتے، تو والی سوات کے حکم کے مطابق چار سواتی قراقلی ٹوپیاں تیار کی جاتی تھیں۔ دو ٹوپیاں صدر ایوب خان کی خدمت میں پیش کی جاتیں، باقی دو میں سے ایک ان کے ملٹری سکریٹری اور دوسری ان کے ڈاکٹر کی ہوا کرتی تھی۔

1969 میں جب ریاست سوات پاکستان میں ضم ہوا تو اس کے بعد ریاست سوات کی فوج، سپاہیوں اور سڑکیوں سے متعلق کام ختم ہو گیا لیکن سوات کیپ ہاؤس میں سواتی پی کیپ، سواتی ٹوپی اور سواتی قراقل اب بھی تیار ہوتی ہے اور مذکورہ ہنرمند خاندان کی تیسری نسل اب اس کام سے وابستہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا