کابل میں تیمور ابدالی کا مقبرہ عوام کے لیے کھول دیا گیا

تیمور شاہ ابدالی کو 49 سال کی عمر میں پشاور میں پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں ان کی لاش کو کابل منتقل کیا گیا اور اس مقام پر جسے تیمور شاہی کے نام سے جانا جاتا ہے، دفن کر دیا گیا۔

یہ مقبرہ افغان اور غیر ملکی انجینیئروں نے بڑی محنت سے تعمیر کیا تھا اور اس کا ہر حصہ دیکھنے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتا ہے ۔ (تصویر: بشکریہ کرسچیئن ریکٹرز/ اے کے ڈی این)

افغانستان کے دوسرے ابدالی بادشاہ، تیمور شاہ ابدالی کا مقبرے کا افتتاح کابل میں ایک سرکاری تقریب میں کر دیا گیا ہے اور اب ہر افغان شہری اس تاریخی عمارت کی سیر 30 افغانی (تقریبا 60 پاکستانی روپے) میں کر سکتا ہے۔

 سابق افغان بادشاہ کی قبر کابل کے قریب عائشہ درانی نامی لڑکیوں کے ایک سکول کے ساتھ واقع ہے۔ یہ مقبرہ افغان اور غیر ملکی انجینیئروں نے بڑی محنت سے تعمیر کیا تھا اور اس کا ہر حصہ دیکھنے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتا ہے کہ انہوں نے اس جگہ کو دلکش کیسے بنایا۔

تیمور شاہ ابدالی کا مقبرہ 1815 میں دو حصوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مقبرے کی چھت پر ایک بڑا گنبد ہے، جس نے مقبرے کے نظارے کو مزید خوبصورت بنا دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گنبد پکی ہوئی مٹی سے بنا گیا ہے۔

سیاسی پیشرفت

افغانستان میں کئی دہائیوں کی جنگ اور خاص طور پر اس ملک میں خانہ جنگی نے بیشتر تاریخی یادگاروں، ثقافتی ورثوں اور عمارتوں کو تباہ کیا۔ ان تباہ شدہ یادگاروں میں کابل میں واقع تیمور شاہ ابدالی کا مقبرہ بھی شامل تھا۔ اس کے کچھ حصے تباہ ہوچکے تھے جو منشیات کے عادی افراد کی پناہ گاہ بن گیا تھا۔

افغانستان میں سابق صدر حامد کرزئی کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت کے قیام کے بعد، حکومت اور غیرملکی اداروں نے اس تاریخی مقام کی تعمیر نو اور تباہی کو روکنے کی کوشش کی۔

تیمور شاہ ابدالی کے مقبرے کی تعمیر نو 2002 میں شروع ہوئی تھی اور یہ 2009 میں مکمل ہوئی۔ اب اسے سرکاری افتتاح کے لیے تیار کیا گیا۔

تیمور شاہ ابدالی کے مقبرے کے باغ کے ڈائریکٹر عبد المعارف حمیدزئی نے انڈپینڈنٹ فارسی کو بتایا کہ ’بدقسمتی سے خانہ جنگی میں تیمور شاہ ابدالی کا مقبرہ بری طرح متاثر ہوا تھا۔‘ مقبرے کی چار دیواری مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔ اور یہ جگہ منشیات کے عادی افراد کے رہنے کی جگہ بن چکی تھی۔‘

اس کے کچھ حصے لوگوں نے نجی دکانوں کے طور پر تعمیر کرکے کرائے پر لے لیے تھے۔ اس مقام کی تعمیر نو آغا خان کلچرل فاؤنڈیشن نے 2002 میں باضابطہ طور پر شروع کی تھی جو 2009 میں مکمل ہوئی۔

حمیدزئی نے مزید بتایا کہ ’جنگوں سے جس حصے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا وہ گنبد تھا۔ میری اپنے ملک کے شہریوں سے ایک اور درخواست ہے کہ وہ آ کر ان تاریخی مقامات کا دورہ کریں جہاں افغانستان کی مشہور شخصیات اور شہنشاہ سوئے ہوئے ہیں۔‘

جب میں نے حمیدزئی سے پوچھا کہ کیا صرف تیمور شاہ ابدالی کو ہی اس جگہ دفن کیا گیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ ’اس علاقے میں متعدد قبریں ہیں، جن میں سے کچھ اس خطے کے لوگوں کی ہیں۔ جنگوں کے دوران مقبرے کے اندر تیمور شاہ ابدالی کے ساتھ ان کے متعدد رشتہ داروں کو بھی دفن کیا گیا تھا، لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ تیمور شاہ کے کتنے قریب تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کابل کے رہائشی سلیم حمیدی، جو پہلی بار اس جگہ آئے، کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ان جگہوں کو محفوظ رکھنا چاہیے کیونکہ وہ ہماری سرزمین اور قوم کی شناخت اور تاریخ سے وابستہ ہیں۔ یہ مقام ہر آنے والے کو تیمور شاہ ابدالی کی زندگی اور کردار سے آگاہ کرنے پر مجبور کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اس نے افغانستان کے لیے کیا کیا۔

تیمور شاہ ابدالی ولد احمد شاہ ابدالی سن 1773 سے 1793 تک افغانستان پر حکمرانی کرنے والے دوسرے ابدالی بادشاہ تھے اور اپنے اقتدار کے دوران انہوں نے افغانستان کے دارالحکومت کو ملک کے جنوب میں قندھار سے کابل منتقل کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ جب تیمور پہلی بار کابل تشریف لائے تو انہیں اس صوبے کی آب و ہوا پسند آئی اور اسی وجہ سے انہوں نے دارالحکومت یہاں منتقل کیا۔ تب سے ہی کابل افغانستان کا دارالحکومت بنا ہوا ہے۔

تاریخ دانوں کے مطابق تیمور کے والد احمد شاہ ابدالی افغانستان میں ابدالی سلطنت کے بانی تھے اور ان کی پیدائش ملتان میں ہوئی تھی۔ احمد کے والد خان زمان ایک فوجی لشکر کے ساتھ افغانستان سے ملتان آئے تھے جہاں انہوں نے ایک مقامی خاتون سے شادی کر لی تھی۔ احمد شاہ ابدالی اسی خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔

آخر کار تیمور شاہ ابدالی کو 49 سال کی عمر میں پشاور میں پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں ان کی لاش کو کابل منتقل کیا گیا اور اس مقام پر، جسے تیمور شاہی کے نام سے جانا جاتا ہے، دفن کر دیا گیا۔

تیمور شاہ ابدالی کے بیٹے نے اپنے دور حکومت میں یہ مقبرہ تعمیر کیا جہاں ان کے والد کی تدفین ہوئی تھی، جس نے آہستہ آہستہ اس کی موجودہ شکل اختیار کرلی۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ