’دسمبر سے ٹکٹ تبدیل کروا رہا ہوں، پاکستان جانے کا امکان نہیں‘

برطانوی حکومت نے دنیا بھر سے تقریبا تین درجن ممالک کو سفر کی سرخ فہرست کا حصہ بنایا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ 

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

برطانیہ میں زیر تعلیم اسلام آباد کی سمبل خان چھٹیوں پر اپنے گھر آئی ہوئی ہیں، لیکن اب ان کی واپسی کھٹائی میں پڑ گئی ہے، کیونکہ برطانوی حکومت نے کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کی خاطر پاکستانیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے سمبل خان نے کہا کہ وہ اپنی واپسی کے سلسلے میں بہت پریشان ہیں، کیونکہ اگر وہ بر وقت واپس نہیں جاتیں تو ان کی پڑھائی میں حرج ہو گا۔ ’مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کر سکتی ہوں، ابھی مجھے گھر آئے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا اور یہ بری خبر آ گئی۔‘ 

سمبل خان جیسے چھٹیوں پر برطانیہ سے آئے ہوئے ہزاروں پاکستانیوں کے لیے واپس جانا ناممکن نظر آرہا ہے، جس کی وجہ برطانوی حکومت کا پاکستان کو کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی غرض سے سفری پابندیوں سے متعلق سرخ فہرست (ریڈ لسٹ) میں شامل کرنا ہے۔ 

اس فیصلے کی وجہ سے انگلینڈ اور آئرلینڈ میں مستقل رہائش کے حقوق رکھنے والوں کے علاوہ دوسرے پاکستانی شہری 9 اپریل (صبح چار بجے) کے بعد برطانیہ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔  

برطانیہ میں کرونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے لگایا گیا لاک ڈاون 12 اپریل سے مرحلہ وار اٹھایا جا رہا ہے اور اسی لیے برطانوی حکومت نے دنیا بھر سے تقریبا تین درجن ممالک کو سفر کی سرخ فہرست کا حصہ بنایا ہے۔ 

بعض برطانوی اخبارات کے مطابق وہاں پہنچنے والے پاکستانی مسافروں کی بڑی تعداد میں کرونا وائرس مثبت پایا گیا ہے جس کی وجہ سے برطانوی حکام نے پاکستان کو سرخ فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 

برطانیہ کے شہر لندن میں پریکٹس کرنے والے پاکستانی نژاد وکیل قمر بلال ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کے نمودار ہونے کے بعد سے برطانوی پاکستانیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ خود گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان آنے کا پروگرام بنا رہے ہیں، لیکن کرونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث ایسا نہیں کر پا رہے۔ 

انہوں نے واٹس ایپ کے ذریعے بات کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں گزشتہ سال دسمبر سے اپنا ٹکٹ تبدیل کروا رہا ہوں، ابھی بھی کوئی امکان نظر نہیں آ رہا کہ میں پاکستان جا سکوں گا۔‘ 

یاد رہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں برطانیہ سمیت دوسرے کئی یورپی ممالک میں ایسٹر اور گڈ فرائیڈے کی چھٹیاں ہوتی ہیں، جس دوران برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد چھٹی گزارنے ملک واپس آتے ہیں۔ 

پی آئی اے کا اقدام 

برطانوی حکومت کی طرف سے اس پابندی کے بعد اکثر ائیر لائنز نے پاکستان سے برطانیہ کے ہوائی ٹکٹ کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ 

پشاور کے رہائشی شمس القمر نے بتایا کہ انہوں نے پرائیویٹ ائیر لائن سے چار لاکھ روپے میں لندن کا ٹکٹ خریدا ہے۔ 

دوسری طرف پی آئی اے نے پاکستان سے واپس جانے والے پاکستانیوں کی سہولت کے لیے اضافی فلائٹس کا اعلان کیا اور آئندہ ایک ہفتے کے دوران سات فلائٹس چلائی جا رہی ہیں۔ 

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ فلائٹس کا فیصلہ ہوا تھا، جو ایک دن میں بک ہو گئیں، جس کے بعد مزید دو فلائیٹس کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ 

فارن پالیسی 

برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو سرخ فہرست کا حصہ بنانے کے اعلان کے بعد تحریک انصاف حکومت کے بعض وزرا نے اسے فارن پالیسی کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ہونے کے شک کا اظہار کیا۔ 

اس سلسلے میں وفاقی وزرا اسد عمر اور چیریں مزاری نے ٹوئیٹر پیغامات میں افسوس کا اظہار کیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں وزرا نے برطانوی پارلیمان کی بریڈ فورڈ سے پاکستانی نژاد رکن ناز شاہ کے ایک خط کا حوالہ دیا جو انہوں نے 30 مارچ کو برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک راب کو لکھا تھا۔ 

ناز شاہ نے اس خط میں پاکستان کو سرخ فہرست میں ڈالے جانے والے ممکنہ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوسرے کئی ممالک جہاں کرونا وائرس زیادہ تیزی سے پھیل رہا پر پابندی عائد نہیں کی جا رہی۔ 

اس سلسلے میں انہوں نے خصوصا فرانس، بھارت اور جرمنی کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی سے امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ 

تاہم بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کو برطانوی حکومت کا فیصلہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے زیر اثر لیا گیا نہیں لگتا۔ ’میرا نہیں خیال کہ برطانیہ کی پاکستان سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سفر کے حوالے سے سرخ فہرست میں شامل کرنا  خالصتا پاکستان میں اور برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسز کی وجہ سے ہی ہے۔ 

’اگر اس کا موصد صرف پاکستان کو ٹارگٹ کرنا ہوتا تو اس فہرست میں دوسرے ملک شامل نہ ہوتے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان