مغربی بنگال: واحد ریاستی خاتون رہنما مودی کے لیے خطرہ کیسے؟

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی ممتا بینرجی کے ریاستی انتخابات میں ہارنے کی صورت میں ملک واحد خاتون وزیراعلیٰ کھو دے گا۔

30 مارچ 2021 کی اس تصویر میں مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی ایک مبینہ حملے کے  بعد کلکتہ میں ایک انتخابی ریلی میں   وہیل چیئر پر  موجود ہیں۔ اس حملے میں ان کی ٹانگ زخمی ہوگئی تھی (فائل تصویر: اے ایف  پی)

وہ بھارت کی سب سے طاقتور خواتین میں سے ایک ہیں، لہذا جب ممتا بینرجی نے اعلان کیا کہ ان پر مردوں کے ایک گروپ نے انتخابی مہم کے دوران حملہ کیا ہے جس میں ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے تو اس نے پورے بھارت کو صدمے سے دوچار کر دیا۔

البتہ وہ واحد جگہ جہاں اس حملے کو اہمیت نہیں دی گئی وہ خود مغربی بنگال ہی تھا، جہاں بینرجی ہفتے سے شروع ہونے والے ایک اہم ریاستی انتخاب میں وزیراعلیٰ کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے کے لیے کھڑی ہیں۔ وہاں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقامی رہنما نے مذاق میں کہا کہ بینرجی کو اپنی زخمی ٹانگ دکھانے کے لیے برمودا شارٹس پہننے چاہییں کیونکہ ’لوگ ان کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

مغربی بنگال ان پانچ ریاستوں اور علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں آنے والے دنوں میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں، لیکن مغربی بنگال کو بھارتی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کی ترقی کے لیے خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں مرد اقتدار پر حاوی ہیں اور جہاں اس طرح کے جنسی بنیاد پر تبصرے انتخابی مہم کا معیار ہیں۔

1947 میں بھارت کی آزادی کے بعد سے صرف 16 خواتین ریاستی رہنما بن سکی ہیں اور اگر بینرجی ہار جاتی ہیں تو 30 سال میں یہ پہلا موقع ہوگا جب ہندوستان کی 28 ریاستوں میں سے کسی ایک کی بھی خاتون وزیراعلیٰ نہیں ہوں گی۔

بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل مغربی بنگال میں انتخابات گذشتہ سنیچر سے شروع ہوئے ہیں۔ ان انتخابات کا پیمانہ یہ ہے کہ ریاست کی آبادی 90 ملین سے زیادہ ہے۔ 29 اپریل کو ختم ہونے والے انتخابات میں آٹھ مراحل میں ووٹنگ تقسیم کی جائے گی۔ اس کے بعد دو مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

یہ بینرجی کی آل انڈیا ترنمول کانگریس، وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد بشمول انڈین نیشنل کانگریس، گاندھی اور نہرو کی پارٹی کے، جو اب قومی سطح پر زوال کی افسوسناک حالت میں ہے، درمیان تین طرفہ لڑائی ہے۔

بینرجی نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں کانگریس پارٹی چھوڑ دی تھی جس کے بعد وہ مغربی بنگال آئیں اور 34 سال تک ریاست پر بلا تعطل حکومت کرنے والی بائیں بازو کی جماعتوں کو تخت سے اتارنے کے لیے طویل جنگ لڑنے سے پہلے ترنمول قائم کی۔ انہوں نے 2011 کے ریاستی انتخابات میں مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کی کل 294 نشستوں میں سے 185 کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ پانچ سال بعد 2016 میں انہوں نے اپنی پارٹی کی پوزیشن میں مزید بہتری لائی اور اسے 211 نشستوں تک پہنچا دیا۔

بینرجی کے لیے جنہیں ان کے چند ناقدین بھی ممتا دی (بہن) کہتے ہیں، اقتدار برقرار رکھنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ بی جے پی نے اپنی زبردست انتخابی مشینری متحرک کی ہوئی ہے، جس دوران وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر اعلیٰ وزرا کے علاوہ فلمی ستارے بھی مہم کے لیے ریاست آ رہے ہیں۔ مودی کے چند وزرا کو چھوڑ کر بڑی اکثریت مردوں کی ہے۔

پرتیما منڈل جو مسلسل دوسری مدت کے لیے پارلیمنٹ میں ترنمول کی نمائندگی کر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ ’تمام مرد صرف ایک عورت کو شکست دینے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس نے اکیلے ہی ان کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن ممتا دی کے لیے جدوجہد نئی بات نہیں ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ بی جے پی تعلیم اور ملازمتوں میں خواتین کے لیے نشستیں محفوظ بنانے سمیت بہت سی چیزوں کا وعدہ کر رہی ہے لیکن قومی سطح پر حکمرانی کرنے والی پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ دہلی پارلیمنٹ میں ایسا کرنے میں کیوں ناکام رہی ہیں۔ بھارت کی پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں 33 فیصد نشستیں محفوظ کرنے کے بل کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن یہ برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔

مغربی بنگال کے 73.2 ملین رائے دہندگان میں سے ایک اندازے کے مطابق 49 فیصد خواتین ہیں۔ بینرجی نے اپنی پارٹی سے انتخابات لڑنے کے لیے 50 خواتین امیدواروں کو نامزد کیا ہے۔

مونڈل جو خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے لیے قومی پارلیمنٹ کی مشاورتی کمیٹی کی رکن بھی ہیں، کہتی ہیں کہ ’ممتا دی کے بارے میں قابل ستائش بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ انتخابات میں خواتین امیدواروں کی حمایت کی ہے- اس کی عکاسی ان خواتین امیدواروں سے ہوتی ہے جنہیں انہوں نے نامزد کیا ہے، چاہے وہ پنچایت (گاؤں)، ریاست یا پارلیمنٹ کے انتخابات کے لیے ہوں۔‘

دہلی سے تعلق رکھنے والی سیاسی تجزیہ کار منیشا پریم کا کہنا ہے کہ بینرجی نے اپنی پوری پارٹی میں خواتین رہنماؤں کی حمایت اور ترقی کی ہے- جس کا ’کوئی اور جماعت یا رہنما دعویٰ نہیں کر سکتا۔‘

’ہندوستان میں خواتین وزرائے اعلیٰ ایک نایاب چیز ہیں نہ کہ معمول کی بات۔ یہاں تک کہ بھارت میں خواتین وزرائے اعلیٰ میں بھی ممتا بینرجی واحد ہیں جنہوں نے شروع سے ہی پارٹی بنانے میں سیاسی ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

پریم کا کہنا ہے کہ ’وہ مٹی کی بیٹی کے طور پر کھڑی ہوئیں جبکہ بھارتی سیاست میں عام اصول مٹی کے بیٹوں کے بارے میں تھا۔ 2011 میں وہ سب کچھ کرنے میں کامیاب رہی تھیں اور 2016 کے انتخابات میں بہتر تعداد ان کے کرشمے کو ظاہر کرتی ہے۔‘

تاہم مغربی بنگال کے انتخابات کی اہمیت بینرجی کی خواتین کی نمائندگی سے زیادہ ہے۔ پریم کا کہنا ہے کہ وہ مودی حکومت کے سب سے زیادہ واضح ناقدین میں سے ایک ہیں۔ ’ان کی کامیابی یا ناکامی مجموعی طور پر بھارتی سیاست کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ بی جے پی اور وزیراعظم مودی کے خلاف سخت زبان میں بولتی ہیں جو کوئی اور وزیراعلیٰ استعمال نہیں کرتا۔ اگر وہ جیت جاتی ہیں تو وہ اپوزیشن جماعتوں کی بنیاد بن جائیں گی لیکن اگر وہ ہار جاتی ہیں تو ملک میں بی جے پی کے خلاف حزب اختلاف کی کوئی مضبوط آواز باقی نہیں رہے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سیاسی تجزیہ کار اور مودی کے سوانح نگار نیلانجن مکھوپادھیائے نے 2021 کے مغربی بنگال انتخابات اور بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش (یوپی) میں 2017 کے انتخابات کے درمیان مماثلت واضح کی تھی۔

’2017 کے یوپی انتخابات نوٹ بندی کے چند ماہ بعد آئے تھے، جب مودی حکومت کی جانب سے راتوں رات سب سے زیادہ استعمال ہونے والے دو بینک نوٹ واپس لینے کے بعد گہری بے چینی پیدا ہوگئی تھی، لیکن (یوپی میں) زبردست جیت نے بی جے پی اور نریندر مودی کی کسی بھی مخالفت کو بےاثر کر دیا تھا۔‘

وہ دی انڈیپینڈنٹ کو بتاتے ہیں کہ ’2021 کا مغربی بنگال (ووٹ) اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ حال ہی میں (بی جے پی) کو اپوزیشن کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر بی جے پی مغربی بنگال کے انتخابات جیت جاتی ہے تو وہ ایک قوم، ایک پارٹی کا مظہر اور شناخت کی سیاست کی قائم کرنے جا رہی ہے۔‘

’لیکن اگر ممتا جیت گئیں تو اس سے دیگر ریاستوں خصوصاً اترپردیش میں 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے حزب اختلاف کو توانائی ملے گی۔‘

مکھوپادھیائے نے جن پریشانیوں کا ذکر کیا ہے، ان میں کسانوں کے مظاہرے بھی شامل ہیں، جب نومبر میں شروع ہونے کے بعد سے شمالی بھارت بھر سے ہزاروں کسانوں کو دہلی کے نواح میں کیمپ لگائے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

اس طرح کے دباؤ میں اس ہفتے کے اوائل میں جاری ہونے والے تازہ ترین سروے میں بی جے پی ترنمول سے پیش گوئی کردہ 112 کے مقابلے میں بینرجی کی 148 نشستوں پر پیچھے ہے۔ اس کے باوجود یہ بڑا فرق نہیں ہے اور بی جے پی اب بھی 2016 میں اپنی تین نشستوں پر پوزیشن مضبوط کر رہی ہے۔

اس کے برعکس بینرجی نے اپنے پورے دور میں کسانوں کے اراضی کے حقوق کی حمایت کی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی قیمت پر بھی، جو دوسرے وزرائے اعلیٰ اپنی معیشتوں کو فروغ دینے اور اپنے لیے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

کسانوں کے ساتھ بینرجی کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے منڈل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’سنگور کے کسانوں کے لیے جدوجہد کی، جن کی زمین صنعتی منصوبوں کے لیے چھین لی گئی تھی۔۔۔ وہ کسانوں کے موجودہ احتجاج کی وجوہات کو بھی سمجھتی ہیں۔‘

مودی حکومت کی مخالفت کرنے والے امید کر رہے ہیں کہ وہ مغربی بنگال میں بی جے پی کے لیے فیصلہ کن شکست کو ہوا دینے کے لیے کسانوں کی بدامنی کو استعمال کریں گے، جس سے ملک بھر میں پیغام جائے گا اور کچھ کسان قائدین پہلے ہی ریاست کا سفر کر چکے ہیں تاکہ لوگوں پر زور دیا جا سکے کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں۔

منڈل کا کہنا ہے کہ اگر یہ کام ہو جاتا ہے تو یہ بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہوسکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’مغربی بنگال کے انتخابات سے یہ ظاہر ہوگا کہ 2024 میں بھارت کے قومی انتخابات میں بی جے پی کو مرکزی حکومت سے کیسے ہٹایا جائے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین