پاکستان: کرونا وائرس سے ایک ہفتے میں چھ سو سے زائد ہلاکتیں

وزارت صحت کے مطابق ملک میں جاری وائرس کی تیسری لہر کے دوران 10 اپریل کو اب تک کی سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں جو 114 تھیں۔

کرونا کی تیسری لہر پر قابو پانے کے لیے کچھ حفاظی اقدامات میں عوامی اجتماعات اور ٹرانسپورٹ پر پابندی اور حفظان صحت کی سخت بندشیں شامل ہیں۔(اے ایف پی فائل)

پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور وزارت صحت کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے میں پاکستان میں کرونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 665 رہی۔

وزارت صحت کے مطابق ملک میں جاری وائرس کی تیسری لہر کے دوران 10 اپریل کا دن ایسا رہا جس میں ایک ہی دن میں اب تک کی سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ہفتے کو 5050 کیسز سامنے آئے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 114 رہی۔

’عرب نیوز‘ کے مطابق وبا سے نمٹنے کے لیے بنائی گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اتوار کا کہنا تھا کہ ’ملک بھر کے 630 ہسپتالوں کے کرونا وارڈز میں داخل مریضوں کی تعداد 4920 ہے۔‘

حکام نے کرونا کی تیسری لہر پر قابو پانے کے لیے زیادہ کیسز والے علاقوں میں ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ نافذ کرنے کی پالیسی بھی اپنا رکھی ہے۔ جبکہ کچھ حفاظی اقدامات میں عوامی اجتماعات اور ٹرانسپورٹ پر پابندی اور حفظان صحت کی سخت بندشیں شامل ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ جمعرات کو وزیر منصوبہ بندی اسد عمر جو کہ این سی او سی کی سربراہی بھی کرتے ہیں کا کہنا تھا کہ حکومت مئی کے وسط میں آنے والی عید الفطر کے بعد تمام شہریوں کے لیے کووڈ 19 کی ویکیسن رجسٹریشن کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں فروری سے طبی عملے اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا گیا تھا اور اس مہم میں چین سے ملنے والی سائنو فارم ویکسین استعمال کی جا رہی ہے۔ پاکستان نے چین سے سائنو فارم اور کین سائنو کی مزید خوراکیں بھی خریدیں ہیں جبکہ روس کی تیار کردہ سپتنک وی ویکسین کو ملک میں فارما سیوٹیکل کمپنیز نجی طور پر بھی درآمد کر رہی ہیں۔

ملک میں کرونا وبا کی تیسری لہر کا زور جاری ہے اور گذشتہ ہفتے کے اختتام یعنی اتوار کو 24 گھنٹوں میں 4584 نئے کیس سامنے آئے اور 58 اموات ریکارڈ ہوئیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان