’ویکسین والے فون نہیں اٹھاتے‘، پنجاب حکومت بھی کیا کرے؟

مبین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میں نے جب انڈپینڈنٹ اردو پر دیکھا کہ ایک ہوم ویکسین موبائل یونٹ حکومت پنجاب نے متعراف کروایا ہے تو ہم بہت خوش ہوئے کیونکہ ہمیں لگا کہ ہمارا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘

مبین احمد چغتائی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے ہیں ، ان کے گھر میں ان کی والدہ، بیگم اور ایک بچہ ہے۔ مبین کی والدہ 78 برس کی ہیں اور بیماری کے سبب وہ زیادہ چل پھر نہیں سکتیں۔

مبین کے خیال میں ان کے ہاں ان کی والدہ کو کرونا کا خطرہ سب سے زیادہ ہے اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اس وائرس کے خلاف ویکسینیشن جلد از جلد مکمل ہو جائے۔

حکومت پنجاب نے گذشتہ دنوں 80 برس اور اس سے زائد عمرکے بزرگوں اور وہ افراد جو کسی بیماری یا جسمانی معذوری کے سبب گھر سے باہر نہیں جا سکتے، کے لیے ایک ہوم ویکسین موبائل یونٹ متعارف کروایا۔

کہا یہ گیا کہ آپ کو صرف اس موبائل ویکسینیشن یونٹ کی ہیلپ لائن 1033 پر کال کرنا ہو گی اور گھر بیٹھے محکمہ صحت پنجاب کا عملہ جس میں ایک ڈاکٹر اور ایک ویکسینیٹر شامل ہے کرونا کے خلاف ویکسینیشن لگا جائے گا اور ایسا ہوا بھی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے بھی چند روز قبل اس موبائل یونٹ کی کارکردگی پر ایک رپورٹ چلائی تھی۔ ہماری اسی رپورٹ کو دیکھ کر مبین کو اپنی والدہ کے لیے ویکسینیشن کا ایک راستہ دکھائی دیا۔

مبین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میں نے جب انڈپینڈنٹ اردو پر دیکھا کہ ایک ہوم ویکسین موبائل یونٹ حکومت پنجاب نے متعاراف کروایا ہے تو ہم بہت خوش ہوئے کیونکہ ہمیں لگا کہ ہمارا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘

’میری والدہ کولہے کی ہڈی کے مسئلے کی وجہ سے چل نہیں سکتیں۔ میں ان کے پاس ہوں بھی نہیں اور میری اہلیہ انہیں ویکسین لگوانے اکیلے وہیل چیئر پر ایکسپو سینٹر یا کسی اور سینٹر نہیں لے کر جا سکتیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے 1033 اور 1066 جو حکومت پنجاب نے دیا تھا پر بھی کال کرنا شروع کر دیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا یا نمبر مصروف تھا یہ کوشش انہوں نے سات سے آٹھ دن جاری رکھی۔

مبین نے بتایا کہ ان کے گھر میں کرونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ گھر کے ملازمین بھی گھر سے باہر نہیں جاتے، گھر کا سامان بھی آن لائن آرڈر کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ موبائل اور گھر کی لینڈ لائن سے یہ کوشش کرتی رہیں۔ پھر میری بیگم نے ویکسینیشن کے لیے قائم مختلف سینٹرز میں بھی کال کی کہ کوئی مدد یا رہنمائی مل سکے۔

’ان سینٹرز میں ایک پاکستان لیور اینڈ کڈنی انسٹیٹیوٹ بھی تھا جبکہ ایک سینٹر ملتان اور ایک گجرانوالہ کا تھا مگر وہاں سے بھی مایوسی ہوئی، کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ ہم نے یہ فون بار بار کیے اور دن کے مختلف اوقات میں کیے لیکن افسوس کسی نے جواب نہیں دیا جو کہ بہت ہی عجیب سی بات تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مبین کے اس دعوے کو چیک کرنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے بھی پورا ایک دن خود 1033 ہیلپ لائن اور کچھ ویکسینیشن سینٹرز پر کالز کیں مگر زیادہ تر فون نمبر مصروف ملے۔ دن کے مختلف اوقات میں بار بار فون کرنے کے بعد ہماری کوشش کامیاب ہوئی اور 1033 پر کال لگ گئی۔

لائن کی دوسری طرف سے بات کرنے والے صاحب کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہوم ویکسینیشن سروس فی الوقت صرف 80 برس کے بزرگ اور معذور افراد کے لیے ہے۔ 70 برس والے انتظار کریں جبکہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ ہفتے دس دن میں 40 سال سے اوپر کے معذور افراد کے لیے بھی ہوم ویکسینیشن کی سہولت میسر کر دی جائے گی بس تھوڑا سا انتظار کریں۔

جب ان سے فون نہ اٹھانے کا پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’نہیں ایسا نہیں ہوتا ہم سب کا فون اٹھاتے ہیں۔ آپ کا اٹھایا ہے نہ۔‘ اس کے بعد انہوں نے لائن کاٹ دی۔

اس کے بعد مبین نے ہمیں فون کر کے بتایا کہ ایک ہفتہ مسلسل کوششوں کے بعد 1033 پر ان کی اہلیہ کی کال کا بھی جواب دے دیا گیا ہے۔ جب مبین کی اہلیہ نے انہیں بتایا کہ ان کی والدہ چل کر ویکسینیشن سینٹر تک نہیں جاسکتیں اور وہ انہیں گھر آکر ویکسین لگا دیں تو انہیں جواب ملا کہ ان کی والدہ کی عمر 78 برس ہے لیکن پھر بھی وہ کوائف لکھوا دیں، جب 70 سال کے بزرگوں کی ویکسینشن شروع کی جائے گی تو انہیں بھی ویکسین لگ جائے گی۔

مبین کہتے ہیں کہ انہیں تو یہ معلوم تھا کہ ہوم ویکسین سروس 80 برس کے بزرگ اور معذور افراد کے لیے تھی مگر ایسا نہیں ہے۔ اتنے انتظار اور کوشش کے بعد انہیں جو جواب ملا اس سے وہ بہت مایوس ہوئے۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے گھر میں موجود اپنی بزرگ والدہ کو کسی طرح اس وائرس سے محفوظ کر سکتے لیکن فی الحال یہ ممکن نہیں ہوسکا۔

اس شکایت کے حوالے سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے محکمہ صحت پنجاب سے رابطہ کیا تو ترجمان محکمہ صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ ہر کوئی ویکسین لگوانا چاہتا ہے۔ لوگ بلک میں کالز کر رہے ہیں اس میں یہ شکایت بھی آرہی ہے کہ انہیں کوئی جواب نہیں ملا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کو ویکسین نہیں لگائیں گے۔‘

ترجمان محکمہ صحت پنجاب کہتے ہیں کہ ’فرض کریں 80 سال سے زائد عمر کے دس لاکھ لوگ رجسٹر ہو گئے ہیں۔ سب سے زیادہ کرونا کا خطرہ بھی 80 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہے۔ اس لیے پہلا حق ان کا بنتا ہے۔ اسی طرح جب ہم نے 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین لگانی شروع کی تھی تو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ویکسین لگوائی جس کے بعد ہم پر دباؤ آیا اور ہم نے ایک آپشن دیا کہ جو 70 یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ ہیں وہ بغیر کسی کوڈ کے سینٹرز میں آکر ویکسین لگوا لیں اورجو بزرگ 60 سے 70 برس کے درمیان ہیں وہ بغیر ہمارے دیے گئے کوڈ کے سینٹرز پر تشریف نہ لائیں۔‘

’اس کے بعد اب ہم نے 50 سے 60 کے درمیان لوگوں کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب کی 12 سے 13 کروڑ کی آبادی کی ویکسینیشن ہم مرحلہ وار کریں گے تو سلسلہ چلے گا۔ ایک ہی مرتبہ ہم ساری عوام کو ویکسین نہیں لگا سکتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت