خیبر پختونخوا: ذاتی عناد نے تین خاندانوں کی 14 جانیں لے لیں

گذشتہ تین دن کے دوران ضلع چارسدہ، نوشہرہ اور ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی چار خواتین سمیت 14 افراد کو قتل کیا گیا اور تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

تینوں واقعات میں تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے، جبکہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج ہو چکی ہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

صوبہ خیبرپختونخوا میں ذاتی عناد اور دشمنی کے تین الگ واقعات میں گذشتہ تین دن کے دوران چار خواتین سمیت 14 افراد کو قتل کردیا گیا، جن کا تعلق ضلع چارسدہ، نوشہرہ اور ایبٹ آباد سے ہے۔

تینوں واقعات میں تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے، جبکہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج ہو چکی ہے۔

پولیس تفصیلات کے مطابق پہلا واقعہ ضلع نوشہرہ کے تھانہ اضاخیل کی حدود شیخ بانڈہ میں پیش آیا، جہاں سرکاری ٹیوب ویل پر چوکیدار کے عہدے کے تنازعے پر دو خاندانوں کے مابین جھگڑا ہوا اور فائرنگ کے نتیجے میں سات افراد قتل ہوئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) دفتر کے تعلقات عامہ کے آفیسر عدنان درانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ واقعہ اتوار کو سرکاری ٹیوب ویل پر ملازمت کے تنازعے کے نتیجے میں پیش آیا، جس میں دو بھائیوں نے اپنے سگے بھائی کے اہل خانہ پر گولیاں چلائیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق اصل خان اور سردار علی نے اپنے سات بیٹوں سمیت اپنے بھائی مثل خان کے گھر پر آتشیں اسلحے سے حملہ کیا اور مثل خان کو ان کے تین بیٹوں، بہو، بیٹی اور ایک رشتہ دار زاہد سمیت قتل کردیا، جب کہ مثل خان کے بیٹے انور علی اور سید انور اس حملے میں زخمی ہوئے، جن کے بیان پر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔‘

علاقہ مکینوں کے مطابق پاکستان کے سابق فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے اپنے ڈرائیور سردار علی کے گاؤں میں ایک سرکاری ٹیوب ویل قائم کیا تھا، جس پر سردار علی کے دو بھائی مثل خان اور فضل خان کو کلاس فور کی سرکاری نوکری بھی عطا کی گئی تھی۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اس وقت تمام بھائیوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ فضل خان اور مثل خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سردار علی اور اصل خان کی اولاد کو ان اسامیوں پر بھرتی کیا جائے گا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ معاہدے کا پاس نہ رکھا جاسکا اور دونوں بھائیوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد فضل خان کا بیٹا اپنی والد کی جگہ ملازمت کرنے لگا جب کہ مثل خان بھی اپنی جگہ بیٹے کو لانے کے خواہاں تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس حکام نے بتایا کہ مذکورہ معاملے پر سردار علی اور اصل خان کا اپنے بھائی مثل خان کے ساتھ تنازعہ ہوا، جو اس قدر بڑھ گیا کہ دونوں خاندانوں نے مل کر اتوار کو مثل خان کے گھر پر حملہ کرکے گھر کے ایک ایک فرد کو قتل کر ڈالا۔

تھانہ اضاخیل کے مطابق یہ سب ایک باقاعدہ منصوبے کے ساتھ کیا گیا کیونکہ ملزمان واقعے سے قبل اپنے اہل وعیال کو نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر چکے تھے۔

وقوعے کے فوراً بعد ڈی پی او نوشہرہ ڈاکٹر محمد اقبال نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے کر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

فائرنگ کا دوسرا واقعہ ضلع چارسدہ کے تھانہ سٹی کی حدود حسین آباد میں ڈیڑھ مرلہ زمین کے تنازعے پر پیش آیا، جہاں پڑوسی خاندانوں نے ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں چار افراد قتل اور دو زخمی ہوئے۔

تھانہ سٹی پولیس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزمان میں سے ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ باقی فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں، جن کی تاحال تلاش جاری ہے۔

تیسرا واقعہ بھی رواں ہفتے ضلع ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں میں پیش آیا، جہاں رشتے کے تنازعے پر دو خواتین سمیت تین افراد قتل جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئیں۔

حویلیاں پولیس کے مطابق حویلیاں یونین کونسل کے گاؤں ناڑہ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ملزم موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، جبکہ مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان