’40 سے 60 فیصد خفیہ معلومات‘ پر کیا جانے والا ایبٹ آباد آپریشن

دو مئی کو فوجی آپریشن سے سات ماہ قبل امریکہ کو اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں موجود ہونے کی پہلی اطلاع ملنے کے بعد کی کہانی امریکی ایڈمرل ولیم میک ریون کی زبانی۔

فلم ’سیل ٹیم 6‘ میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کا ایک منظر (اے ایف پی)

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی میں ہلاکت کوئی یکایک معلومات ملنے اور اچانک کارروائی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس شہر میں ان کی موجودگی کی پہلی کچی اطلاع امریکہ کو سات ماہ قبل موصول ہوئی تھی۔

یہ بات امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) ولیم ایچ میک ریون نے امریکہ کے انسدادِ دہشت گردی مرکز سی ٹی سی کے جریدے ’سینٹینل‘ کو ایک حالیہ تفصیلی انٹرویو میں بتائی۔

’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب پہلی مرتبہ ایبٹ آباد کا امکان کے طور پر ذکر سامنے آیا۔ یہ اطلاع سی آئی اے کے ایک ڈائریکٹر نے 10 ستمبر، 2010 کو صدر براک اوباما کو ایک بریفنگ میں دی تھی۔‘

میک ریون کو اسامہ کے خلاف کارروائی کا منصوبہ ساز اور لیڈ کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

دو مئی، 2011 کو ایبٹ آباد آپریشن کی ایک دہائی ہو چکی ہے لیکن امریکہ کیسے القاعدہ کے رہنما تک پہنچا؟ یہ آج بھی ایک فلمی کہانی محسوس ہوتی ہے۔

اس آپریشن پر کئی کتابیں لکھی اور فلمیں بنائی جا چکی ہیں لیکن بعض نئی سامنے آنے والی تفصیلات انتہائی دلچسپی کی حامل ہیں۔

ایڈمرل ولیم میک ریون نے انٹرویو میں اس معلومات کی نوعیت ظاہر نہیں کی کہ وہ کیا تھی لیکن واقعے کے بعد سینیئر صحافیوں کو راولپنڈی میں ایک بریفنگ میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا بتایا تھا کہ وہ چند ٹیلیفون کالیں تھیں جن کی وجہ سے انہیں شک ہوا اور انہوں نے یہ معلومات خود امریکہ سے شیئر کی تھیں۔

امریکی کہتے ہیں کہ وہ اسامہ کے ایک سہولت کار کو ٹریک کر کے ان تک پہنچے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ بیرون ملک کالز کی نگرانی کرتے ہوئے شاید امریکی اسامہ تک پہنچے تھے لیکن اس کے بعد امریکہ نے پاکستانی حکام کے ساتھ کوئی معلومات شیئر نہیں کیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ خود ہی ان کی کھوج میں لگ گیا۔

ایڈمرل ولیم میک ریون کہتے ہیں صدر اوباما کو پہلی اطلاع دیے جانے کے کئی ماہ بعد یعنیٰ اسی سال دسمبر میں جب چیئرمین آف جائنٹ سٹاف ایڈمرل مائیک مولن افغانستان میں بگرام کے دورے پر آئے کہ انہوں نے ان سے سی آئی اے کی تفتیش کے بارے میں بات کی اور کہا کہ انہیں شک ہے کہ یہ معلومات اسامہ بن لادن کے بارے میں ہیں۔

’انہوں نے کہا کہ سی آئی اے اہلکار آپ کو فون کریں گے۔‘ چند ہفتوں بعد ایڈمرل ولیم کو کال آئی اور انہیں سی آئی اے کے امریکہ میں ہیڈکواٹرز طلب کر لیا گیا۔

’وہاں مجھ سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو اس طرح کے کمپاؤنڈ کو ختم کرنا ہو تو کیسے کریں گے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ تو کمپاؤنڈ ہے اور ہم عراق اور افغانستان میں اس طرح کے کمپاؤنڈز کو شب و روز نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ یہ باقیوں سے تھوڑا بڑا ہے لیکن کوئی زیادہ چیلنجنگ نہیں۔‘

اس کے بعد جنوری اور فروری کے دوران سی آئی اے نے ایبٹ آباد کے بارے میں مزید معلومات اکھٹی کر کے تصویر مکمل کرنے کی کوشش جاری رکھی جس سے پاکستان بقول اس وقت کی قیادت کے مکمل طور پر بےخبر رہی۔

کچھ عرصے بعد ایڈمرل ولیم میک ریون دوبارہ سی آئی اے آئے اور انہیں ایبٹ آباد کی عمارت کے بارے میں مزید خفیہ معلومات بتائی گئیں، جن کی روشنی میں انہیں آپریشن کا منصوبہ تیار کرنا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ شروع ہی سے ان کی کوشش تھی کہ اس کارروائی کو انتہائی سادہ رکھا جائے۔

’میں اپنے ذہن میں کئی آپشنز پر غور کیا کرتا: کیا ہم پیراشوٹ استعمال کر سکتے ہیں، کیا ہم ٹرک میں (امریکی) سفارت خانے سے جا سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔‘

لیکن جب صدر اوباما نے ان سے پہلی مرتبہ پوچھا کہ ’مسٹر ریون آپ کا کیا پلان ہے؟ تو میں نے کہا سر، ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم چند ہیلی کاپٹر لے کر افغانستان سے جائیں گے اور کمپاؤنڈ پر قبضہ کر کے اسامہ کو زندہ یا مردہ گرفتار کریں گے۔‘ یہ میٹنگ چار مارچ، 2011 کو منعقد ہوئی تھی۔

اس کے بعد سی آئی اے نے انہیں پاکستانی فضائی دفاعی نظام کے بارے میں زبردست معلومات فراہم کیں۔

’میرے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ تھی کہ جلال آباد (افغانستان) سے 162 میل دور سے کیسے ایبٹ آباد جیسے اہم عسکری شہر تک فوجیوں کو لے کر جاؤں گا۔

’یہ کمپاؤنڈ پاکستانی فوجی احاطے سے تین یا چار میل کی دوری اور پولیس سٹیشن سے ایک میل کی دوری پر تھا۔ مجھے سب سے زیادہ تشویش پاکستانی ایئر ڈیفنس نظام کی تھی۔ لیکن ماہرین سے مشوروں کے بعد میں پراعتماد تھا کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔‘

اس امریکی اہلکار کے ذہن میں یہ سوال بھی تھا کہ اگر پاکستانیوں نے مزاحمت کی تو ان کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔

ایڈمرل ولیم ریون کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی شک نہیں تھا کہ انہیں لڑ کر بھی اگر وہاں سے نکلنا پڑا تو وہ لڑیں گے۔

اس منصوبے کے پر عمل درآمد سے چھ ہفتے قبل کس طرح احتیاط برتی گئی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان اجلاسوں کا کوئی تحریری ایجنڈا نہیں ہوتا تھا۔

انتہائی محدود اعلیٰ حکام کی ڈائری میں اس مقصد کے لیے منعقد اجلاس کو محض ’میٹنگ‘ کا عنوان دیا جاتا تھا۔ یہ تمام اجلاس بغیر کسی کاغذ کے استعمال کے ہوتے تھے، یعنیٰ محض زبانی بات چیت۔

بہت سے نامعلوم عوامل

اس کارروائی کے لیے جتنی زیادہ خفیہ معلومات دستیاب تھیں اتنی ہی نامعلوم باتیں بھی تھیں۔

کیا کمپاؤنڈ کو بارودی سرنگوں سے بھرا گیا ہے، کیا اسامہ نے فرار ہونے کے لیے اتنے بڑے کمپاؤنڈ میں کوئی سرنگ بھی کھود رکھی ہے اور کیا اسامہ نے خودکش جیکٹ پہنی ہوگی یا نہیں؟

ایڈمرل میک ریون نے بتایا کہ انہوں نے افغانستان سے تین ہفتے کی چھٹی پر آنے والے نیوی سیلز یا فوجیوں کا انتخاب کیا۔

’میں انہیں لے کر تربیت کے لیے آیا کیونکہ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ سب سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔‘

کسی نامعلوم مقام پر کمپاؤنڈ کی نقل تیار کی گئی جہاں تین ہفتے تک یہ فوجی تربیت حاصل کرتے رہے۔

موسم کتنا اہم تھا؟

منصوبہ سازوں کے لیے ضروری تھا کہ گرم موسم کی آمد سے پہلے پہلے اور ایسی رات میں کارروائی کی جائے جب مکمل تاریکی ہو اور چاند بھی نہ ہو۔

’گرمی پڑنے لگی تھی اور ہمیں معلوم تھا کہ اگر ہم نے مئی کے پہلے دو ہفتوں میں یہ کارروائی نہ کی تو پھر ہمیں چار ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔‘

2011 کے اپریل کی آخری بدھ صدر اوباما نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہیں بتایا گیا کہ سی آئی اے کی حاصل شدہ معلومات کے مطابق اسامہ کے ایبٹ آباد میں موجود ہونے یا نہ ہونے کا 40 سے 60 فیصد امکان تھا۔

ایڈمرل میک ریون کہتے ہیں کہ انہوں نے جب 40 فیصد کا سنا تو وہ سمجھ گئے کہ یہ مشن نہیں ہو گا۔ کون اپنے فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے گا۔ تو ’جب میں میٹنگ سے نکلا تو میرا خیال تھا کہ اس کارروائی کا اب ففٹی ففٹی چانس ہے۔‘

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن نے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ اگر اسامہ تک پہنچنے کا یہ 50-50 امکان بھی ہوں تو یہ امریکہ کے لیے بہترین موقع تھا۔ ’صحیح وقت پر بالکل صحیح خطرہ موہ لینا تھا۔‘

’جیرانیمو‘

لیکن صدر براک اوباما نے سخت فیصلہ کیا جس نے دنیا میں تہلکہ مچا دینا تھا اور وہ تھا کہ کارروائی کی جائے گی۔

آپریشن کے دوران اسامہ کا کوڈ ورڈ ’جیرانیمو‘ رکھا گیا۔ جیرانیمو اپاچی قبیلے کا ایک مایہ ناز جنگجو سردار تھا جس نے 1850 سے 1886 کے دوران امریکی اور میکسیکن فوجی مہمات کے خلاف بھرپور مزاحمت کی تھی۔

آپریشن کے دوران کیا ہوا؟

’مائی لائف ان سپیشل آپریشنز‘ جیسی کئی کتابوں کے مصنف ایڈمرل میک ریون کہتے ہیں کہ انہوں نے اس مشن کا دورانیہ 30 منٹ رکھا تھا۔

’پھر تقریبا 20 یا 25 منٹ کے مارکر پر مجھے گراؤنڈ فورس کمانڈر کا فون آیا اور وہ کہتے ہیں ’ارے صاحب، ہمیں دوسری منزل پر معلومات کا خزانہ مل گیا ہے اور ہم اس کو جمع کرنا شروع کر رہے ہیں۔‘

میں نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا اور میں سوچ رہا تھا، لیکن میں نے کہا، ’ٹھیک ہے، جتنا آپ اکٹھا کر سکتے ہیں کر لیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’30 منٹ گزرے، پھر 35، 40، اور یقیناً 40 منٹ پر۔ میں نے انہیں واپس کال کی اور کہا، ’ارے، میں ایمانداری کے ساتھ اب تھوڑا گھبرا رہا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں، ’سر، یہاں بہت ساری چیزیں ہیں۔ ہم اسے ردی میں پھینک رہے ہیں۔‘ آخر میں 45 منٹ کے نشان پر میں نے انہیں حکم دیا، ’سب وہاں سے نکلو۔‘

’یقیناً یہ مواد درحقیقت انٹیلی جنس کا ایک خزانہ تھا جو بالآخر سی آئی اے کو واپس کر دیا گیا جسے سی آئی اے اور ایف بی آئی نے بہت زیادہ استعمال کیا۔‘

اس کارروائی کے وقت پاکستان میں آدھی رات کے وقت ایبٹ آباد میں کسی ہیلی کاپٹر کے گرنے کی خبر آئی، اس کے سوا کسی کو کچھ علم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔

مقامی لوگوں نے بھی جب امریکی فوجیوں سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں تو ان کا جواب تھا معمول کی تربیت۔

لیکن اس ’تربیت‘ کو دو مئی کی الصبع صدر اوباما نے ایک خطاب میں امریکی انٹیلجنس اور فوجیوں کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دی۔

وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’میں امریکی عوام اور دنیا کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ہم نے اسامہ بن لادن، القاعدہ کے رہنما، کو ہلاک کر دیا ہے۔‘

اس کے بعد انہوں نے اپنی کتاب ’اے پرامسڈ لینڈ‘ میں لکھا کہ انہوں نے اس اعلان کے بعد اس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کو فون کیا اور ان کا خیال تھا کہ کافی مشکل گفتگو ہو گی کیونکہ پاکستان کی ’سالمیت کی تضحیک‘ ہوئی لیکن انہیں پرمسرت حیرت ہوئی جب زرداری نے کہا کہ یہ تو خوشی کی خبر ہے۔

اسامہ کے قتل کے بعد القاعدہ کافی کمزور ہوئی اور ان کے جانشین ڈاکٹر ایمن الظوہری کے بارے میں آج بھی معلوم نہیں کہ زندہ ہیں یا نہیں۔ اسامہ کا تاہم باب ختم ہوا، القاعدہ کا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ