’عدالت آپ کی خواہش کے مطابق گواہوں کے بیان نہیں لے سکتی‘

سپریم کورٹ میں دائر گلوکارہ میشا شفیع کی درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ تمام گواہوں کے بیانات پہلے ایک ساتھ لیے جائیں اور پھر بعد میں جرح ہو۔

میشا شفیع نے علی ظفر پر گذشتہ برس اپریل میں جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا، جس پر علی ظفر نے ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا تھا۔تصویر: سوشل میڈیا

پاکستان کی سپریم کورٹ میں آج گلوکارہ میشا شفیع کی گلوکار علی ظفر کے خلاف درخواست پر سماعت کی گئی، جس کے دوران عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ گواہوں کے بیانات کیسے لینے ہیں اور جرح کیسے کرنی ہے اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔

واضح رہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر گذشتہ برس اپریل میں جنسی طور پہ ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت میں کیس کیا تھا۔ بعدازاں علی ظفر نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا، جس پر سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے میشا شفیع کے خلاف علی ظفر کے ہرجانہ کیس کا فیصلہ تین ماہ میں سنانے کا حکم دیا تھا، تاہم گلوکارہ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

میشا شفیع کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ تمام گواہوں کے بیانات پہلے ایک ساتھ لیے جائیں اور پھر بعد میں جرح کی جائے۔

تاہم قانون شہادت کے مطابق پہلے ایک گواہ کا بیان ریکارڈ ہوتا ہے، پھر اُس پر جرح ہوتی ہے اور اس کے بعد اگلے گواہ کی باری آتی ہے۔ سب کا ایک ساتھ بیان نہیں لیا جاسکتا۔ 

قانون شہادت 1984 گواہوں سے متعلق کیا کہتا ہے؟ 

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل علی سبطین فضلی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گواہی کے مختلف درجے ہوتے ہیں اور قانون شہادت آرڈر 1984 کے باب نمبر 10 میں گواہی ریکارڈ کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار بتایا گیا ہے۔

نیز یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ کس گواہ کا بیان کب لے اور جرح کرے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طریقہ کار کے مطابق اگر پانچ گواہ ہیں تو پہلے ایک گواہ کا بیان ریکارڈ ہوگا، پھر اُس پر جرح ہو گی۔ پھر اُس کے بعد دوسرے اور تیسرے گواہ کی باری آئے گی۔ ہر گواہ کا بیان ریکارڈ ہونے کے بعد پہلے اُس پر جرح کی جاتی ہے اور پھر دوسرے گواہ کی باری آتی ہے۔ 

میشا شفیع کے وکیل اور جج اعجاز الحسن کے درمیان مکالمہ:

میشا شفیع کی درخواست پر سماعت آج جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے میشا شفیع کے وکیل سے استفسار کیا: ’آپ کیا چاہتے ہیں کہ تمام گواہان کے بیان ایک ساتھ ہوں اور تمام گواہان پر جرح بھی ساتھ ہو؟‘

ساتھ ہی انہوں نے ریمارکس دیے: ’آپ کس قانون کے تحت چاہتے ہیں کہ تمام گواہان کے بیان ایک ساتھ ہوں۔ عدالت آپ کی خواہش کے مطابق گواہوں کے بیان نہیں لے سکتی۔‘

میشا شفیع کے وکیل حارث عظمت نے عدالت کے روبرو کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ واضح ہو سکے کہ جیمنگ سیشن میں درحقیقت کیا ہوا ہے۔‘

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’بیانات کیسے ریکارڈ کروانے ہیں اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس اعجاز الاحسن نے میشا شفیع کے وکیل سے استفسار کیا:’ آپ کو وکالت کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے؟‘

وکیل میشا شفیع نے بتایا کہ انہیں وکالت کرتے ہوئے 11 سال ہوگئے ہیں۔ 

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’کیا آپ نے 11 سال میں کبھی دیکھا ہے کہ پہلے سب کے بیان ریکارڈ ہوں اور اس کے بعد جرح کی جائے؟ میرے 30 سالہ عدالتی تجربے میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔‘

جس پر میشا شفیع نے کہا کہ ’کئی فیصلوں میں عدالت یہ بات کر چکی ہے۔‘

تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا: ’عدالتی فیصلہ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا، فیصلہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’گواہوں کے بیانات کیسے لینے ہیں اور جرح کیسے کرنی ہے اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔‘

سپریم کورٹ میں گواہوں کے بیانات کے معاملے پر میشا شفیع کی درخواست پر سماعت اب آئندہ ہفتے ہوگی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی فن