نعمان علی پاکستان کے نئے ٹیسٹ آل راؤنڈر؟  

زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں نعمان نے پہلے شاندار 97 رنز بنائے اور پھر دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں لے اڑے۔

وسطی سندھ کے شہر سانگھڑ کے قریبی قصبے کھپرو کے نعمان نے دیر سے کرکٹ شروع کی(اے ایف پی)

پاکستان نے پیر کو ہرارے میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں زمبابوے کو ایک اننگز اور 147 رنز سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریزدو۔ صفر سے جیت لی۔

دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی بیٹنگ کے بڑے کارنامے تو عابد علی اور اظہر علی کے تھے کیونکہ ایک نے ڈبل سنچری تو دوسرے نے سنچری بنائی لیکن اگر ٹیم کی پوری بیٹنگ میں دیکھا جائے تو سب سے منفرد نعمان علی کی بیٹنگ تھی۔

 نعمان جس وقت کھیلنے آئے تو اس وقت پاکستان کی 341 رنز پر سات وکٹیں گر چکی تھیں۔ ایسے میں انہوں نے عابد کے ساتھ 150 رنز کی پارٹنرشپ کی اور خود 97 رنز کی اننگز کھیلی۔

بدقسمتی سے وہ اپنی پہلی سنچری سے محروم رہے۔ان کی بیٹنگ میں جارحانہ شاٹ بھی تھے اور ٹھہراؤ بھی۔

انہوں نے آخری 30 رنز صرف 11 گیندوں پر سکور کیے اور اپنی اننگز میں پانچ  فلک شگاف چھکے لگائے۔

اس ٹیسٹ میچ میں وہ رکے نہیں بلکہ بیٹنگ کے ساتھ بولنگ میں بھی چھا گئے اور دوسری اننگز میں پانچ وکٹ لے کر شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ مل کر زمبابوے کی ٹیم کو ٹھکانے لگا دیا۔

 نعمان نے اس ٹیسٹ سے ایک نئے اچھے آل راؤنڈر کا الارم بجا دیا ہے۔ بائیں ہاتھ کے سپنر نعمان کے کیریئر کا آغاز ساؤتھ افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں ہوا۔

ان کے پورے فرسٹ کلاس کیریئر میں بیٹنگ کا ریکارڈ واجبی سا ہے۔ 83 فرسٹ کلاس میچوں میں صرف ایک نصف سنچری اور وہ بھی حیدرآباد کی علاقائی ٹیم کی طرف سے جس کو کم ہی مواقع ملتے ہیں۔

ان کی اصل صلاحیت اور طاقت آرتھوڈوکس بولنگ ہے جس نے ان کے نام کے سامنے 301 وکٹ لکھے ہوئے ہیں۔

 وسطی سندھ کے شہر سانگھڑ کے قریبی قصبے کھپرو کے نعمان نے ایک تو دیر سے کرکٹ شروع کی اور پھر ابتدا میں سنجیدہ بھی نہیں تھے۔

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نعمان کے لیے مشکل فیصلہ تھا کہ وہ کرکٹ کھیلیں یا کام کرکے گھر کی آمدنی کا حصہ بنیں۔

ان کی عمر جب 14 سال تھی تو والد انہیں حیدرآباد لے آئے جہاں ان کے ماموں رضوان احمد کی صحبت نے ان پر کرکٹ کی چھاپ ڈالنا شروع کی۔

 رضوان حیدرآباد کے مشہور لیگ سپنر تھے اور پاکستان کی طرف سے ایک انٹرنیشنل ون ڈے بھی کھیل چکے ہیں۔

اب وہ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ماموں کی نگرانی میں نعمان نے بولنگ کرنا شروع کی، جو ان کے بولنگ سٹائل کو درست کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

نعمان نے گورنمنٹ کالج لطیف آباد اور فضل الرحمن کلب سے کرکٹ کھیلی اور جلد ہی ایک مشہور سپنر بن گئے۔

ان کو حیدرآباد کی طرف سے انڈر 19 ٹیم میں کھیلنے کا موقع 2004 میں ملا۔ وہ دو سال تک ریجنل لیول پر کھیلتے رہے۔

2005 میں انہیں یونائیٹڈ بینک کی ٹیم میں شامل کرلیا گیا جہاں اظہر محمود کی کپتانی میں انہوں نے  دو سال گزارے۔

اس دوران انہیں انگلینڈ کی سنڈے لیگ میں شرکت کا موقع مل گیا۔ وہ بریڈفورڈ لیگ میں پانچ سال مسلسل کھیلتے رہے جس سے ان کی بولنگ میں نکھار آیا۔

2009 میں کے آر ایل کی ٹیم ایک اچھے سپنر کی تلاش میں تھی کیونکہ سعید اجمل زرعی ترقیاتی بینک کی ٹیم میں چلے گئے تھے۔

نعمان کے آرایل کی ٹیم سے 2018 تک وابستہ رہے کیونکہ دو سال قبل ڈپارٹمنٹل ٹیمیں ختم کردی گئیں۔

ان کے لیے کے آر ایل ٹیم میں جگہ بنانا مشکل تھا کیونکہ کے آر ایل میں ملک کے بہترین فاسٹ بولرز تھے اور کلب زیادہ ان پراعتماد کرتا تھا، اس لیے ان کی وکٹوں کی تعداد کم میچ کھیلنے کے باعث کم رہی لیکن جب وہ سندھ اور دوسری ٹیموں کی طرف سے کھیلے تو بہت جلد 300 تک پہنچ گئے۔

نعمان پہلے فاسٹ بولنگ کرتے تھے جس کے باعث جب وہ سپنر بنے تو تیز سپن کرتے رہے۔

تیز اور سیدھی گیندیں بلے بازوں کو زیادہ تنگ نہیں کرتی تھیں لیکن جب وہ کراچی میں کرکٹ کھیل رہے تھے تو سابق ٹیسٹ سپنر ندیم خان نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ پچ کی بجائے ہوا میں سپین کی کوشش کریں جس سے خشک وکٹوں پر وہ زیادہ کارگر ثابت ہوں گے۔

کراچی میں چونکہ خشک وکٹ ہوتی ہیں اس لیے وہ زیادہ کامیاب رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے کیریئر کی نصف سے زیادہ وکٹیں گذشتہ دو سال میں لیں۔

نعمان اگرچہ پاکستان کرکٹ میں ایک نمایاں نام تھے اور کئی برسوں سے ڈومیسٹک سیزن کے ٹاپ پرفارمر تھے لیکن قومی ٹیم تک پہنچنے میں ان کی عمر 35 ویں سال تک پہنچ گئی اور شاید اب بھی موقع نہ ملتا اگر ساؤتھ افریقہ کی ٹیم پاکستان نہ آتی اور ندیم خان بورڈ سے منسلک نہ ہوتے جو نعمان کی کیریئر میں ہمیشہ مدد کرتے رہے۔

 اپنے اولین ٹیسٹ میں پانچ وکٹ لے کر وہ دنیا کے چوتھے عمر رسیدہ بولر بن گئے جس نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

نعمان علی اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے پہلے ٹیسٹ کرکٹر ہیں۔ سندھ میں کرکٹ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور بہت سے اچھے کھلاڑی موقع نہ ملنے کے باعث گمنامی میں چلے گئے۔

تاہم نعمان خوش قسمت رہے جنہیں ابتدا سے اچھے مددگار حاصل رہے۔ ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں اور ٹیسٹ کرکٹ کم ہی ہوتی ہے اس لیے شاید وہ زیادہ نہ کھیل سکیں لیکن ان کی دن بدن اچھی کارکردگی نے ان کے لیے اگلے دو سال تو قومی ٹیم میں یقینی بنا دیے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر وہ بیٹنگ بھی ہرارے ٹیسٹ کی طرح کرتے رہے تو ان کی ٹیم میں حیثیت مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔

زمبابوے سیریز دوسرے ٹیسٹ کے ساتھ سیریز بھی اختتام کو پہنچ گئی۔ ایک کمزور اور ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف پاکستان نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

عابد نے ڈبل سنچری اور اظہر اور فواد عالم نے سنچریاں سکور کیں۔ حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور نعمان نے بولنگ میں زبردست کارکردگی دکھائی۔

پاکستان نے یہ مسلسل چھٹی سیریز جیتی ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان ٹیم اپنی پوری قوت کے ساتھ نظر آئی لیکن کچھ مقامات پرپاکستان پریشان نظر آیا۔

دونوں ٹیسٹ میچوں میں بابر اعظم یکسر ناکام رہے جبکہ محمد رضوان بھی زیادہ رنز نہ کرسکے۔

پہلے ٹیسٹ میں فواد اور دوسرے ٹیسٹ میں عابد، اظہر اور نعمان نے لاج رکھ لی ورنہ مشکلات بڑھ سکتی تھیں۔ زمبابوے کی ٹیم پوری سیریز میں شکست خوردہ اور غیر سنجیدہ نظر آئی۔

اس کی بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کسی کلب ٹیم سے بھی کمتر تھی جس سے مقابلہ یک طرفہ رہا اور سیریز میں رنز کے انبار نے بھی شائقین کو متوجہ نہیں کیا۔

مجموعی طور پر ایک غیر دلچسپ سیریز نے صرف ریکارڈز کو درست کیا اور کچھ کھلاڑیوں کا متزلزل کیریئر سنبھال لیا ورنہ اس سیریز کا کوئی اور رخ نہیں تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ