فلسطینی تنازعے میں شیخ جراح کی اہمیت کیا ہے؟

یہ علاقہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبے کا تازہ ترین نُقطہ اِشتعال بن گیا ہے۔ صہیونی آباد کاری ایک جاری عمل ہے جو فلسطینیوں کو ہٹا کر ان کی جگہ یہودیوں کو یہاں آباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرقی بیت المقدس (یروشلم) کا عرب اکثریتی علاقہ الشیخ جراح یا شیخ جراح آج کل فلسطینوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں محاذ جنگ بنا ہوا ہے۔

یہ علاقہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبے کا تازہ ترین نُقطہ اِشتعال بن گیا ہے۔ صہیونی آباد کاری ایک جاری عمل ہے، جس کے ذریعے فلسطینیوں کو ہٹا کر ان کی جگہ یہودیوں کو یہاں آباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چند روز پہلے تک ایک پرسکون اور خوشحال ضلع مانا جانے والا شیخ جراح کا یہ علاقہ جبل المشارف نامی پہاڑی پر آباد کیا گیا تھا۔ اس پہاڑی سے بیت المقدس کا نظارہ بخوبی کیا جاسکتا ہے، لہذا عسکری اعتبار سے بھی یہ کافی اہم سمجھا جاتا تھا۔

اس کی موجودہ آبادی کا زیادہ تر حصہ 1948 میں یروشلم کے تلبیہ علاقے سے بےدخل کیے گئے فلسطینی پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔ یہودی آباد کار درحقیقت اسی تلخ تاریخی عمل کو جاری رکھتے ہوئے اسرائیلی پولیس کی مدد سے فلسطینیوں کو طاقت اور دہشت کے ذریعے یہاں سے پھر بے دخل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔  

فلسطینی 1948 کی جبری بے دخلی کو ’جاری نکبہ‘ (عربی میں النكبة) کا نام دیتے ہیں کیونکہ 1947 سے 1949 کے درمیان فلسطین کی 80 فیصد مقامی آبادی کو ہٹانے اور جبری طور پر جلاوطن کرنے کا عمل شروع ہوا تھا۔ نکبہ کا مطلب تباہی ہے۔

یہ وہی حقیقت ہے جو خان الاحمر اور اس سے پہلے اراقیب میں دیکھی گئی تھی۔ اسی طرح 1948 میں تل ابیب سے لے کر مغربی کنارے میں مالی ادومیم اور گیوت ہماتوس کی نئی بستیوں تک ہر بستی کو مضبوط کیا گیا تھا۔

تازہ تنازعہ

بین الاقوامی میڈیا کی شہہ سرخیوں میں چھائے تاریخی شیخ جراح میں اسرائیلی حکومت نے کئی دہائیوں سے قائم فلسطینیوں کے درجنوں مکانات مسمار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان مکانات کی ملکیت السفردیم نامی یہودی تنظیم کو منتقل کی جا سکے۔

اس پر فلسطینی شہری گھروں سے نکل آئے اور احتجاج کرنے لگے، جنہیں منتشر کرنے کے لیے  اسرائیلی پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔

شیخ جراح کے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبا واجداد کی زمین اور املاک صہیونیوں کو نہیں دیں‌ گے۔ اس کالونی کے ساتھ ان کی میراث وابستہ ہے۔

دوسری طرف یہودی آباد کاروں کا دعویٰ ‌ہے کہ انہوں نے شیخ جراح میں فلسطینیوں سے اراضی اور املاک خرید رکھی ہیں اور یہ املاک ایک یہودی تنظیم کی ملکیت ہیں۔ سنہ 1972 میں ایک یہودی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس شیخ جراح کی اراضی کے ملکیتی ثبوت اور دستاویزات ہیں اور ان کی اراضی پر فلسطینیوں ‌نے مکان تعمیر کر رکھے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اشکنازی اور السفاردیم نامی یہودی کمیٹیوں کا دعویٰ ‌ہے کہ ان کے پاس شیخ جراح کی زمین اور املاک کے مالکانہ حقوق کی دستاویزات ہیں جو 19 ویں صدی کے آخری دور کی ہیں۔

ایک اسرائیلی آباد کار کی وہ حالیہ وائرل ویڈیو یہیں کی ہے، جس میں وہ اپنے مکان کے چھینے جانے پر احتجاج کرنے والی ایک فلسطینی خاتون مونا الکرد کو کہتے ہیں کہ ’اگر میں نہیں چھینوں گا تو کوئی اور چھین لے گا۔‘

اس وقت یہ علاقہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان املاک کے متعدد تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسرائیلی قوم پرست 1967 سے اس علاقے میں فلسطینی آبادی کی جگہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پانچ دہائیوں کے دوران شیخ جراح کے اندر اور اس سے متصل متعدد اسرائیلی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں۔

اس ضلع کے اہم مقامات میں عثمانیہ دور کا ایک محل ہے جسے اب ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ہرے باغات اور دکانیں پرانی کتابیں اور نوادرات فروخت کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اس علاقے میں کئی ممالک کے قونصل خانے، سینٹ جارج کیتھڈرل اور آثار قدیمہ بھی پائے جاتے ہیں۔ یہاں جگہ جگہ آپ کو عربی کھانوں کے ریسٹورنٹس بھی ملیں گے۔

 بیت المقدس میں جبری طور پر ہٹانے کی بازگشت پورے مغربی کنارے، غزہ اور عالمی تارکین وطن میں زبردستی جلاوطن فلسطینیوں میں سنائی دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر نئی نسل اب  #SaveSheikhJarrah ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر باقی دنیا کو صیہونی آبادکاروں کے تشدد سے آگاہ کر رہی ہے۔ یہ ہیش ٹیگ پاکستان میں بھی منگل کی صبح ٹرینڈ کر رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ کا رجحان شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے شکایت کی کہ ان کی پوسٹیں ہٹائی جا رہی ہیں اور اکاؤنٹس کو بھی بڑی تعداد میں معطل کردیا گیا ہے۔ کئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ الزام لگا رہے ہیں کہ یہ عالمی پلیٹ فارم سینسرشپ کرکے فلسطینوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔.

شیخ جراح کے ایک رہائشی محمد الکرد نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اس وقت اس علاقے میں میڈیا کو رسائی نہیں دی جا رہی ہے، پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سینکڑوں آباد کار ان کے گھروں پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’شیخ جراح' کون تھے؟

شیخ جراح' کالونی مشرقی بیت المقدس کا ایک اہم مقام ہے۔ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی مجوزہ آزاد وخود مختار ریاست کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نیوز چینل العربیہ کے مطابق شیخ جراح کی وجہ تسمیہ کے بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ شیخ جراح نامی ایک شخص اس کالونی کے قبرستان میں مدفون ہیں، مگر کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ الشیخ جراح کون تھے؟

وکی پیڈیا کے مطابق شیخ جراح نے یہاں ایک چھوٹی سی مسجد یا مکتب قائم کیا تھا جسے زاویہ جراحیہ کہا جاتا ہے۔ شیخ جراح کو اسی مکتب کے میدان میں دفن کیا گیا۔ یہاں 1201 میں ایک مقبرہ تعمیر کیا گیا جو جلد نمازیوں اور زائرین کی منزل بن گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 'الشیخ جراح' کالونی یا اس نام سے یہاں پر موجود شخص 16 ویں صدی عیسوی میں یہاں سے گزرے۔

بیت المقدس کے ایک مؤرخ مجیر الدین الحنبلی نے اپنی کتاب 'الانس الجلیل فی تاریخ القدس والجلیل' میں لکھتے ہیں کہ انہوں‌ نے القدس کے ایک کونے میں 'الجراحیہ زاویہ' کے نام سے جگہ دیکھی۔ یہ القدس کے شمال میں واقع ہے۔ یہ جگہ حسام الدین الحسین بن شرف الدین عیسیٰ الجراحی سے بھی منسوب بتائی جاتی ہے۔

مجیرالدین کا کہنا ہے کہ الجراحی صلاح الدین ایوبی کے ایک گورنر تھے۔ انہوں‌ نے یہ جگہ وقف کی تھی اور وہ خود 598ھ میں وفات پا گئے تھے۔ وہی یہاں مدفون ہیں۔ ان کے جسد خاکی کے علاوہ کچھ اور قبریں بھی موجود ہیں جن کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ جراحی جماعت کے لوگوں کی ہیں۔

الجراح کا نام ایک سیاح الشیخ عبدالغنی النابلسی نے بھی بیان کیا۔ الشیخ نابلسی 1050ھ تا 1143ھ کی درمیانی مدت میں گزرنے والی اہم شخصیت تھے۔ انہوں ‌نے القدس کے سفر سے متعلق ’الخضرہ الانسیہ فی الرحلہ القدسیہ' کےعنوان سے ایک کتاب لکھی۔

النابلسی نے اپنے قارئین کو یہ کہہ کر حیران کیا کہ الجراح کی قبر ایک مزار کی شکل میں بدل گئی تھی اور صاحب مزار 'الشیخ' کہلاتے تھے۔ الحنبلی کے مطابق وہ ایک گورنر تھے۔ نابلسی کا کہنا ہے کہ ہم الشیخ جراح کے مزار پر گئے اور وہاں ہم نے فاتحہ خوانی کی۔ یہ مزار مدرسہ الجراحیہ میں واقع ہے۔ اسی شخصیت کو سلطان صلاح الدین ایوبی کا گورنر قرار دیتے ہیں مگر الشیخ نابلسی نے اپنے سفر نامے میں اس کی وضاحت نہیں کی۔

گورنر سے ’الشیخ‘ اور ’طبیب‘ تک

شیخ جراح کی شناخت اور پہچان سے متعلق شبہات مسلسل بڑھتے رہے کہ ان کی حقیقی پہچان گورنر کی تھی یا وہ الشیخ تھے۔ الحنبلی کی تاریخ میں وہ ایک شہزادہ یا گورنر تھے اس کے بعد وہ ایک بزرگ بن گئے اور ان کے نام سے ایک مزار بھی قائم کیا گیا۔ الشیخ نابلسی کے مطابق وہ ایک طبیب تھے تاہم جراح سے امیر، شیخ اور طبیب تک سفر کے بارے میں ‌کوئی مصدقہ تفصیل نہیں‌ ملتی۔

تاریخی کی کتاب 'المفصل فی تاریخ القدس' میں مؤرخ عارف العارف کے مطابق شیخ جراح ایک طبیب تھے، تاہم وہ اس کی سند بیان نہیں کرسکے۔ انہوں نے یہ تفصیل مدرسہ جراحیہ کے ترجمہ کے سیاق سے حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جراح سلطان صلاح الدین ایوبی کے طبیب خاص تھے۔

تاریخ کی بڑی کتب خاموش

شیخ جراح ایک گم نام شخص تھے، جن کا تاریخ کی بڑی کتابوں میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ بعض تاریخی مصادر سے پتا چلتا ہے کہ حسام الدین کے نام سے مشہور ہونے والے لوگوں میں صلاح الدین ایوبی کے گورنر حسام الدین ابو الھیجا تھے اور وہ 'السمین' کے لقب سے مشہور ہوئے۔ وہ صلاح الدین ایوبی کے ایک بڑے کرد عسکری کمانڈر تھے۔

حسام کے نام سے شہرت پانے والی ایک دوسری شخصیت 'حسام الدین بن لاجین' تھے جو صلاح الدین ایوبی کے خالہ زاد تھے۔ انہوں ‌نے 587 ھ میں وفات پائی۔ جہاں تک الجراحیہ قلعہ کا تعلق ہے تو وہ عراق کی موصل گورنری کا حصہ ہے۔

تاریخی کتب میں 'جراح' کے نام سے شہرت پانے والی شخصیت کی وفات کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ کم سے کم بڑی تاریخی کتب اس نام سے ہی خالی ہیں۔

ابن اثیر کی 'تاریخ کامل' کے مطابق 598ھ میں خلفیہ عباسی کی ایک لونڈی نے وفات پائی مگر اس سال صلاح الدین ایوبی کے کسی گورنر کی وفات کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

ابن کثیر کی 'البدایہ والنھایہ' میں‌ میں بھی 598ھ میں‌ کسی نامور شخصیت کی وفات کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ اس سال بادشاہ بنی ایوب کی وفات کا حوالہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیفہ عباسی کی ایک لونڈی جس کی وفات کا تذکرہ ابن اثیر نے بھی کیا ہے۔ ابن عماد الحنبلی کی 'شذرات الذھب فی اخبار من الذھب' اور اور الذھبی کی 'سیراعلام النبلا' میں بھی 598ھ کی وفات میں کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ