فلسطین کے لیے2021 کیسا رہے گا؟

نئے سال کے دوران عمان، انڈونیشیا، موریطانیہ اور مالی سمیت کئی دوسرے ملک اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہوں گے۔

ایک فلطسینی نوجوان اسرائیلی فورسز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں


تاریخ میں گذشتہ سال اس حوالے سے یاد رکھا جائے گا کہ اس میں امریکی حمایت یافتہ ’امن عمل‘ اپنی موت آپ مر گیا۔سال رواں کے آغاز سے ہی ہر روز فریبی چالوں کے ذریعے فلسطینی مصالحت کی میز سجانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

کالم نگار کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس سال بھی قیام امن کی کوششوں کے جلو میں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا سلسلہ جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔ 2021 کو اسرائیل میں انتخابات کا سال قرار دیا گیا ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ نیتن یاہو ان انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، تاہم اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کی قوتوں کا نفوذ جاری رہے گا۔

فلسطین کا داخلی محاذ

اگرچہ اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] فلسطینی علاقوں کے اسرائیل میں انضمام، انہیں یہودی رنگ میں رنگنے اور عرب ومسلم دنیا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلوں پر کڑی تنقید کرتی رہی تاہم تنظیم نے فلسطین کی داخلی صورت حال میں بہتری کے لیے کئی جگہ اپنے اصولی موقف کی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا۔

اسی حکمت عملی کی وجہ سے ہمیں 2021 کے دوران حکمران جماعت ’فتح‘، فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کی قیادت کی امنگوں کے مطابق فلسطینی مجلس قانون ساز کے انتخابات کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب حماس کی سیاسی حریف فلسطینی اتھارٹی اسرائیل سے سکیورٹی تعاون، امن عمل اور امن مذاکرات کے لیے بےچین دکھائی دیتی ہے۔

فلسطینی دستور اور سیاست کے طالب علم جانتے ہیں کہ انتخابات کے بغیر فلسطین کی مجلس قانون ساز تشکیل نہیں پا سکتی۔ فلسطینی صدر محمود عباس کی مدت صدارت کئی برس پہلے ختم ہو چکی ہے۔ اس وقت فلسطین میں صدارت، مجلس قانون ساز اور فلسطین قومی کونسل کے انتخابات بیک وقت کرانے کے لیے ماحول ساز گار نہیں۔

اس لیے نئے انتخابات تک فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین ’پی ایل او‘ ہی کو عرب اور بین الاقوامی دنیا فلسطینیوں کا بلا شرکت غیرے نمائندہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔

سیاسی پنڈتوں کے بقول رواں برس کے اسرائیلی انتخابات کے لیے گرمیوں کا موسم سازگار رہے گا، تاہم ان میں حماس کی کامیابی کا اگر ایک فیصد شائبہ بھی ہوا تو ایسے چناؤ کا قطعی کوئی امکان نہیں۔ موجودہ فلسطینی قیادت حماس کی جدوجہد کو قانونی جواز اور پارلیمانی کور دلوانے کے لیے تیار نہیں۔ ایسا ہی نقطہ نظر اسرائیل، عرب اور بین الاقوامی منظر نامے پر حاوی دیکھا جا سکتا ہے۔  

فلسطین میں انتخابات کا انعقاد اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے اگر اس میں ’فتح‘ اور اس کے اتحادیوں کی کامیابی یقینی دکھائی دے۔ بدقسمتی سے اس وقت فلسطین میں قومی پلان اور اوسلو معاہدات کی ضروریات سے متعلق اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ ان حالات میں ہونے والے انتخابات سکیورٹی بحران پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں جس سے ’فتح‘ اور حماس کے درمیان مصالحتی کوششیں ایک مرتبہ پھر ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

یہاں اس جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مصالحتی کوششوں کے عین جوبن پر فلسطینی اتھارٹی نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل سے سکیورٹی کوارڈی نیشن کا سلسلہ شروع کرکے اپنی ذہنیت آشکار کر دی کہ شراکت داری اس کی نظر میں ایک بے وقعت چیز ہے۔ اگرچہ فلسطینی اتھارٹی خود کو بہت سی اسرائیلی جکڑ بندیوں کا شکار محسوس کرتی ہے، تاہم وہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش کے لیے بھی آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔

امن عمل اور امریکی رویہ

بین الاقوامی سیاسی منظر نامے پر اس سال ہونے والی پہلی حوصلہ افزا پیش رفت جو بائیڈن کی امریکی انتخاب میں کامیابی ہے، جو ’صدی کی بدترین سودے بازی‘ نامی ڈیل کے آگے بند باندھ کر امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی قیام امن فارمولا کی جانب پیش قدمی کا نادر موقع بن سکتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ نئی امریکی انتظامیہ فلسطین میں کئی برسوں سے منجمد امن عمل کو بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس ضمن میں سیاسی رشوت کے طور پر فلسطینی اتھارٹی کو مالی امداد، واشنگٹن میں پی ایل او کے بند دفاتر کھولنا اور اسرائیل کے انضمامی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنے سے انکار ایسے عوامل ہیں جو اعتماد سازی کا کام کر سکتے ہیں۔ کسی حد تک عرب اور مسلمان ملکوں پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق دباؤ میں کمی لا کر بھی اعتماد بحالی کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

اسرائیل، امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی کا اہم سنگ میل ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی میں راتوں رات نمایاں تبدیلی کا خواب دیکھنے والے جان لیں کہ بائیڈن انتظامیہ آباد کاری اور اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو یہودی رنگ میں رنگنے والے منصوبوں کو جاری رکھے گی اور اس ضمن میں ڈونلڈ ٹرمپ جو کچھ اسرائیل کے لیے کر چکے ہیں، اسے نئی امریکی انتظامیہ ختم کرنے سے بھی اجتناب کرے گی۔

یروشیلم

مسئلہ فلسطین کا مرکزی نقطہ یروشیلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے متعلق مذاکرات کو اوسلو معاہدے میں عبوری مدت کے خاتمے تک موخر رکھا گیا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے مغربی کنارے اور یروشیلم کو یہودیانے سے متعلق پروگرام امسال اس انداز سے آگے بڑھایا جائے گا کہ اس سے یروشیلم کی ’یہودی شناخت‘ راسخ ہو جائے تاکہ مسلمانوں کے قبلہ اول کی آگے چل کر زمانی اور مکانی تقسیم کی راہ ہموار ہو اور اس کی آڑ میں مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی دراندازیوں کو جواز مل سکے۔

اس سال بھی فلسطینیوں کی یروشیلم سے جبری منتقلی بشمول مکانات کی مسماری، تعمیراتی اجازت ناموں کی منسوخی، فلسطینیوں کے یروشیلم میں ریزیڈنسی پرمٹوں کا خاتمہ، بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، ثقافتی، معاشرتی اور کھیلوں پر پابندی ایسے اسرائیلی منصوبے جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔

نارملائزیشن اور عرب منظر نامہ

رواں برس فلسطین کے معاملے پر عربوں کے رویے میں کسی قسم کی بینادی تبدیلی کا امکان نہیں۔ تسلیم ورضا اور منقسم عرب دنیا اس سال بھی فلسطینیوں کی زبانی کلامی حمایت کرتی دکھائی دے گی۔ نیز امریکہ اور اسرائیل نارملائزیشن کا عمل جاری رکھیں گے۔ اس مرحلے پر عمان، انڈونیشیا، موریطانیہ اور مالی سمیت کئی دوسرے عرب ملک اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہوں گے۔

تاہم پیچیدہ داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ اس بات کا تعین کرے گا کہ یہ ممالک کس قیمت پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے قیام کا فیصلہ کرتے ہیں؟ شومئی قسمت مزاحمت اور ’سیاسی اسلام‘ اس سال بھی عرب دنیا کی آشیرباد حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔ حماس، اسلامی جہاد ایسی فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو عرب دارالحکومتوں سے سند جواز ملنے کا امکان کم ہے۔

اسرائیلی رویہ

چار لاکھ کووڈ-19 کیسیز کی وجہ سے گذشتہ برس اسرائیل کو ابتر معاشی صورت حال کا سامنا رہا۔ معیشت کی شرح نمو 12 فیصد جبکہ سیاحت کے شعبہ کی کارکردگی ماضی کے مقابلے میں 76 فیصد کم رہی۔ نئے سال کی پہلی ششماہی میں یہ نقصانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قیام اسرائیل کے بعد ملک کو درپیش بدترین معاشی صورت حال کے تناظر میں چند معاشی اشاریے اس امر کی جانب نشاندہی کرتے ہیں۔ امسال ہونے والے انتخابات کے بعد بھی اسرائیلی سیاست عدم استحکام کا شکار رہے گی۔ دو برسوں کے دوران اسرائیل میں ہونے والے یہ چوتھے انتخابات ہوں گے۔ ان میں مذہبی اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند قومی سیاسی جماعتوں کا پلڑا بھاری رہے گا کیونکہ اس وقت سینٹر اور رائٹ ونگ جماعتیں تقسیم کی وجہ سے کمزوری کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔

لیکوڈ پارٹی کے بطن سے جنم لینے والی ’نیو ہوپ پارٹی‘ کا اگلے انتخاب میں 19-20 نشتیں جیتنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے خیال میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سے بڑی تعداد میں نشتیں چھن جانے سے وہ اگلی نئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔

دو ہزار اکیس میں غزہ کی پٹی، لبنان یا ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں، تاہم علاقائی پولیس مین کی حیثیت برقرار رکھنے کی خاطر اسرائیل اہدافی فوجی حملے کر سکتا ہے تاکہ دنیا کو یہ بات باور کرائی جاتی رہے کہ صہیونی ریاست خطے کی سیاست اور سیادت پر حاوی ہے۔

غزہ کی پٹی کا اسرائیلی محاصرہ جاری رہے گا جس میں حالات کے مطابق سختی اور نرمی کی جاتی رہے گی۔ حماس کے زیر نگین رہنے تک غزہ کا محاصرہ کلی طور پر ختم ہونا محال دکھائی دیتا ہے۔

اب تک کی بحث سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیا سال 2021 اگرچہ فلسطین، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی مقاصد میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں بڑی حد تک ناکام دکھائی دیتا ہے تاہم دوسری جانب 2021 فلسطینیوں کو اپنے معاملات کے حوالے سے امریکی تعصب سے ہٹ کر سوچنے کا ایک اور موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔۔۔۔۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مشتمل ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ