افغان حکومت کے الزامات بے بنیاد اور غیرذمہ درانہ: پاکستان

افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی کے متنازع بیانات پر ردعمل میں پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔

حمد اللہ محب کا ویڈیو بیان افغان  قومی سلامتی کے  تصدیق شدہ سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی حمد اللہ محب کے متنازع بیانات پر ردعمل میں پاکستانی دفتر خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں بتایا کہ افغان سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق افغان حکومت کے لگائے گئے الزامات ’بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ‘ ہیں اور احتجاجی مراسلے میں پاکستان نے اپنے تخفظات کا اظہار کیا ہے۔

بیان کے مطابق ’ایسے بے بنیاد الزامات دونوں ممالک کے مابین اعتماد کی فضا کو خراب کر سکتے ہیں اور یہ افغان امن میں پاکستان کی کوششوں کو نظر انداز کرنے مترادف ہے۔‘

یہ ردعمل وزارت خارجہ، قومی سلامتی مشیر اور عسکری حکام کی مشاورت کے بعد جاری کیا گیا۔

سکیورٹی ڈویژن حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی تھی کہ متنازع بیانات سامنے آنے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا رابطہ ہوا تھا اور عسکری حکام سے بھی مشاورت کی گئی تھی۔

چند روز قبل حمد اللہ محب نے تصدیق شدہ سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا تھا کہ 'افغانستان سکیورٹی فورسز جانتی ہیں کہ وہ کس کے لیے لڑ رہے ہیں اور کس سے لڑ رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا تھا کہ ’اُس ہمسائے کے خلاف جس کی کوئی عزت و وقار نہیں۔ وہ شیرشاہ سوری کو اپنا لیڈر کہتے ہیں اُن کے راکٹ کا نام غوری ہے اور اُن کے گھروں کا نام غزنوی ہے۔‘

مشاور امنیت ملی@hmohib “اقوام از پاکستان خوشحال نیستند.پشتون‌ها از یک‌سو قیام کرده‌اند و علی وزیر زندانی است؛ چرا؟ چون حق خود را خواسته است. بلوچ‌ها هم آن‌جا برای حق‌شان می‌جنگند کسانی‌که دارایی و زنده‌گی‌شان در هند را برای آبادی پاکستان رها کردند،امروز به نام مهاجر یاد می‌شوند.” pic.twitter.com/eU6TwJq1hO

چند گھنٹوں بعد اسی اکاؤنٹ سے ایک اور ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قبائل پاکستان سے خوش نہیں ہیں۔ پشتونوں نے بغاوت کر دی ہے اور علی وزیر کو حراست میں رکھا ہوا ہے کیوں؟ کیونکہ اس نے اپنے حق کے لیےآواز اٹھائی۔‘

’بلوچ بھی اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں جبکہ جنہوں نے بھارت میں اپنی جائیدادیں چھوڑیں اور پاکستان میں قیام اختیار کیا انہیں مہاجر بلایا جاتا ہے۔‘

ذرائع کے مطابق ’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کے حالیہ دورے کے بعد ایسا بیان غیر ذمہ دار اور پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے۔‘

افغانستان کے سینیئر تجزیہ کار ذاکر جلالے نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس طرح کے بیانات داخلی سیاست کے لیے دیے جاتے ہیں لیکن یہ بیانات تعلقات کی بہتری میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان کی پاکستان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں جو کہ شاید پاکستان کی جانب سے پوری نہیں کی جاتیں جو دونوں ممالک کے مابین اچھے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔‘

افغان امور کے ماہر صحافی محمود جان بابر نے کہا افغان قومی سلامتی کے مشیر نے جو کہا یہ سارا معاملہ بہت پرانا چلا آرہا ہے۔ اس کا اصل مدعا یہ ہے امریکہ اور افغان طالبان امن ڈیل میں پاکستان کے کردار پر افغان حکومت کو شکوہ ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کو سہولت کاری فراہم کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کی سلامتی یا سکیورٹی کے حوالے سے کسی معاہدے کا حصہ بنے، اس لیے افغانستان حکومت کی طرف سے ایسے بیانات سے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

محمود جان بابر نے کہا کہ ان کے خیال میں اگر پاکستان اگر کسی سکیورٹی معاہدے کا حصہ بنتا  ہے تو یہ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ باوجود اس کے سرحدی باڑ بھی تقریباً لگ چکی ہے اس کے باوجود افغانستان سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کے حملے پھر سے شروع ہو چکے ہیں۔

’یہ بھی پاکستان کو دوبارہ معاملے میں گھسیٹنے اور دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔‘

واضح رہے کہ رواں ماہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر افغانستان کی حدود کی جانب سے پاکستانی چوکی پر راکٹ فائر کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی زخمی ہوا تھا۔

پھر پانچ مئی کو بلوچستان کے ضلع ژوب میں افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے میں فرنٹیئر کور کے چار اہلکار مارے گئے اور چھ زخمی ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان