شہباز شریف کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کے حوالے سے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

شہباز شریف کو  آٹھ مئی کو لاہور ائیر پورٹ پر  سفر کرنے سے  روک دیا گیا تھا (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کے حوالے سے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ شہباز شریف نے اپنے باہر جانے کے ہائی کورٹ کے حکم نامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی  درخواست 17 مئی کو جمع کروائی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس درخواست پر ہائی کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا تھا کہ یہ پٹیشن فائل نہیں ہو سکتی اور انہیں پہلے دیگر متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہو گا۔

’ہم نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں دونوں حقوق حاصل ہیں کہ ہم اس پٹیشن کو توہین عدالت کی استدعا کے تحت بھی جمع کرواسکتے ہیں اورعدالت کے حکم پر عملدرآمد کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔‘

شہباز شریف کے وکیل کے مطابق انہوں نے عدالت میں استدعا کی کہ ’ہائی کورٹ آفس کی جانب سے لگایا گیا اعتراض غلط ہے اس لیے ہماری درخواست سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔‘

’عدالت نے ہماری استدعا پر دفتر کے اعتراض کو ختم کر دیا اور ہماری درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ابھی عدالت کی جانب سے سماعت کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے اس درخواست میں ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا جبکہ درخواست کا متن یہ ہے کہ سرکار کو حکم دیا جائے کہ عدالت نے میاں شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی ہے اس پر عملدرآمد کروایا جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوران سماعت شہباز شریف کے وکلا اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ جب شہبازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی اس وقت سرکاری وکیل بھی عدالت میں موجود تھے اور ایف آئی اے حکام بھی تھے۔ عدالتی حکم کے باوجود ائیر پورٹ پر ان کو روکنا افسوسناک ہے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف علاج کی غرض سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔

انہیں ملک سے باہر جانے کی مشروط اجازت لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سات مئی کو دی گئی جس کے بعد آٹھ مئی کو لاہور ائیر پورٹ پر انہیں سفر کرنے سے اس وقت روکا دیا گیا جب وہ لاہور سے براستہ قطر لندن جانے کے لیے ایئر پورٹ پہنچے تھے۔

 وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے انہیں یہ اعتراض لگا کر جانے سے روک دیا تھا کہ ان کا نام پی این آئی ایل لسٹ میں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان