درہ خیبر کی سیر ’مچنی بریفنگ‘ کے بغیر ادھوری

پشاور سے 34 کلومیٹر دور مچنی چیک پوسٹ پر سیاحوں کو درہ خیبر کی تاریخی اور جغرافیائی معلومات کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرحد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جاتی ہے۔

زعفران آفریدی گذشتہ تین دہائیوں سے سیاحوں کو درہ خیبر کے متعلق بریفنگ دے رہے ہیں (سکرین گریب)

پشاور سے 34 کلومیٹر دور مچنی چیک پوسٹ پر سیاحوں کو درہ خیبر کی تاریخی اور جغرافیائی معلومات کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرحد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جاتی ہے۔

لیڈی ڈیانا اور سچن تندلکر سمیت دنیا کی کئی مشہور و معروف شخصیات نے یہاں آ کر درہ خیبر کی تاریخ اور خوبصورتی کی تعریف کی۔

زعفران آفریدی گذشتہ تین دہائیوں سے یہاں آنے والے سیاحوں کو یہ تفصیلی بریفنگ دے رہے ہیں، جو ’مچنی بریفنگ‘ کے نام سے مشہور ہے۔

وہ فرنٹیئر کانسٹیبلری میں حوالدار کے عہدے سے ابھی ریٹائر ہوئے ہیں لیکن انہیں بریفنگ کے لیے دوبارہ کم تنخواہ پر رکھا گیا ہے کیونکہ مچنی بریفنگ کے لیے ان کے علاوہ کوئی شخص دستیاب نہیں اور ان کی بریفنگ کے بغیر سیاحت ادھوری رہتی ہے۔

زعفران اپنی بریفنگ کا آغاز کچھ یوں کرتے ہیں ’وہ سامنے علاقہ آپ کو جو نظر آتا ہے، یہ مکمل طورخم ہے۔ یہ سامنے جو اورنج رنگ کا شیڈ نظر آتا ہے جس کے ساتھ ہی دختوں کا ایک جھنڈ ہے، یہ پاکستان کا طورخم گیٹ اور پوسٹ ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں پار علاقوں کا نام طورخم ہے۔

’درختوں کے اس طرف افغانی طورخم ہے۔ اس پہاڑ کے اوپر سفید والی باضابطہ پوسٹ ہے۔ جنوب والی پوسٹ 'کافر کوٹ' پوسٹ ہے اور اس کے ساتھ والی سفید پوسٹ 'شمالی کافر کوٹ' پوسٹ ہے۔‘

مچنی چیک پوسٹ کے سامنے ایک پہاڑ پر دیوار موجود ہے جس کے بارے میں زعفران بتاتے ہیں کہ ‘ان دونوں کے درمیان ایک پرانی دیوار ہے جو ایک پوسٹ سے دوسری چیک پوسٹ تک ملتی ہے۔

’یہ دیوار 200 سال پرانی ہے۔ اس کے ساتھ قدیم بدھ مت خانقاہوں کی نشانی ہے اور سولہویں صدی میں مغلوں کے بادشاہ اکبر نے اس دیوار کو ایک قلعے میں تبدیل کیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا، ’اس دیوار کے پیچھے قلعہ بھی موجود ہے لیکن وہ ویران پڑا ہے اور اس کی اب صرف نشانیاں باقی ہیں۔ شمالی کافر کوٹ پوسٹ کے ساتھ موبائل ٹاور ہے۔ اس کے اوپر ایک دوسرا ٹاور بھی ہے اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا گاؤں اول خان کلے ہے۔

’یہ پاکستان کا آخری گاؤں ہے جو بارڈر کے سامنے ہے۔ اگر جنوبی کافر کوٹ سے اوپر دیکھیں تو آپ کو اس علاقے کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ نظر آئے گا جیسے شمشاد سر کہتے ہے۔ جب روس نے حملہ کیا تھا تو انہوں نے یہاں ایک آبزرویشن پوسٹ بنائی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بریفنگ میں زعفران مچنی چیک پوسٹ سے نظر آنے والی ہر تعمیر کا ذکر کرتے ہیں۔

طورخم سے جلال آباد 77 کلومیٹر جبکہ کابل 207 کلومیٹر دور ہے۔ پاکستان نے 2006 میں طورخم سے جلال آباد کا روڈ افغانستان کے لیے بطور تحفہ بنایا تھا، آج بھی اس روڈ کی حالت اچھی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد 2610 کلومیٹر طویل ہے، جس میں سے 1410 کلومیٹر سرحد خیبر پختونخوا جبکہ 1200 کلومیٹر بلوچستان میں واقع ہے۔

ضلع خیبر میں یہ سرحد 110 کلومیٹر طویل ہے۔

زعفران کے مطابق تاریخی باب خیبر کا افتتاح 1963 میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا