’کاغذوں میں اجرت بڑھانے سے مزدور کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا‘

خیبرپختونخوا حکومت نے مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت 17 ہزار سے بڑھا کر 21 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن کیا واقعی مزدوروں کو کم از کم اجرت مل رہی ہے؟ انڈپینڈنٹ اردو کا جائزہ۔

پاکستان ادارہ برائے شماریات کےسال  2018 کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت   لیبر فورس کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ ہے ( اے ایف پی)

پشاور کے ایک نواحی گاؤں کے محمد سلیمان (فرضی نام) روزانہ تقریباً پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے صبح 11 بجے پشاور کے ایک نجی ریستوراں آتے ہیں اور رات 12 بجے تک لگاتار ویٹر کی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔

روزانہ 13 گھنٹے ڈیوٹی کے بعد انہیں ماہانہ 10 ہزار روپے معاوضہ ملتا ہے جو صوبائی حکومت کی متعین کردہ ماہانہ 17 ہزار روپے (جسے اب 21 ہزار روپے تک بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے) کی کم از کم اجرت سے تقریباً 50 فیصد کم ہے۔

مزدوروں کی ماہانہ اجرت 17 سے بڑھا کر 21 ہزار روپے کرنے کے اعلان پر سلیمان نے کہا: ’کاغذوں میں اجرت بڑھانے سے مزدور کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ہمیں تو یہی 10 ہزار روپے ملتے ہیں اور باقی کچھ لوگ کھانے کے بعد ٹپ وغیرہ دیتے ہیں تو اس سے تھوڑا بہت گزارہ ہوجاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’جس ریستوراں میں میں کام کرتا ہوں، ان کی روزانہ کی آمدنی لاکھوں میں ہے لیکن میری طرح تقریباً 60 کے قریب ویٹروں کو اسی طرح ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے اور آج کل کے مہنگائی کے دور میں اس میں گزارہ بہت مشکل ہے۔‘

’زیادہ تر مزدوروں کو ماہانہ اجرت کے حوالے سے پتہ بھی نہیں ہوتا اور ان کو جتنا بھی معاوضہ دیا جاتا ہے، وہ اسی پر کام کرتے ہیں کیونکہ ہر کسی کو اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے تھوڑے بہت پیسے چاہیے ہوتے ہیں۔

’اگر مزدور کسی کارخانے یا ریستوراں کے مالک سے کم از کم اجرت کی بات بھی کریں تو ان کو کہا جاتا ہے کہ ہم اس سے زیادہ نہیں دے سکتے۔‘

پاکستان ورکرز فیڈریشن ملک کے لاکھوں مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی نمائندہ تنظیم ہے۔ تنظیم کے مرکزی جنرل سیکریٹری شوکت انجم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت کا کم از کم اجرت بڑھانے کا اعلان خوش آئند ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس سے پہلے 17 ہزار کم از کم اجرت پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

’جہاں تک ہماری تنظیم نے مشاہدہ کیا ہے، صوبے کے تین انڈسٹریل زونز یعنی حیات آباد، حطار اور گدون میں 80 فیصد مزدوروں کو کم از کم اجرت سے کم ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے لیکن اس حوالے سے کوئی حکومتی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔‘

شوکت انجم کے مطابق حکومت کی طرف سے باقاعدہ ایک طریقہ کار بنانے کی ضرورت ہے جس میں وہ دورے کرکے یہ معلوم کر سکے کہ صوبے میں جتنے کارخانے ہیں وہاں کتنے مزدور ہیں اور ان کو کتنی تنخواہ دی جاتی ہے۔

صوبائی حکومت نے ماضی میں ایک قانون بنایا تھا کہ مزدور کو کم از کم اجرت دینے کو یقینی بنانے کے لیے کارخانے دار کے لیے مزدور کی تنخواہ ان کے اکاؤنٹ میں بھیجنا لازمی ہوگا، تاہم یہ طریقہ بھی بے سود رہا۔

اس حوالے سے شوکت انجم نے بتایا کچھ کارخانوں کے مالکان نے مزدوروں کے بینک اکاؤنٹس تو بنائے لیکن ان میں کم از کم اجرت کی رقم جمع کرکے مزدور سے بقایا رقم واپس لے لی جاتی ہے۔

’کارخانے کے مالک مزدور کے اکاؤنٹ میں 17 ہزار روپے جمع کرتے ہیں لیکن مزدور کو 10 سے 12 ہزار روپے دے کر ان سے بقایا رقم دوبارہ طلب کی جاتی ہے اور مزدور مجبوراً اس رقم کو واپس کر دیتے ہیں۔‘

پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے 2018 کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت لیبر فورس کی تعداد  ساڑھے چھ کروڑ ہے اور 2015 کے مقابلے میں اس میں تقریباً 50 لاکھ کا اضافہ دیکھا گیا۔ ان چھ کروڑ سے زائد مزدوروں میں خواتین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ ہے۔

صوبائی اعداد و شمار کو اگر دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا میں تقریباً 60 لاکھ، پنجاب میں تین کروڑ 90 لاکھ، سندھ میں ایک کروڑ 15 لاکھ اور بلوچستان میں مزدوروں کی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ کے قریب ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ان مزدوروں میں سے تقریباً 38 فیصد زراعت، جنگلات، ماہی گیری اور شکار سے وابستہ ہیں جبکہ 16 فیصد سے زائد لیبر مینوفیکچرنگ کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔

اسی طرح سات فیصد سے زائد تعمیراتی شعبے، 14 فیصد ہول سیل شعبے، چھ فیصد سے زائد ٹرانسپورٹ، 14 فیصد سے زائد سوشل یا ذاتی لوگوں کی خدمت جبکہ دو فیصد دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعدو شمار کے مطابق اگر کم از کم اجرت کی بات کی جائے تو تمام شعبوں میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کو کم اجرت دی جاتی ہے اور انہیں جتنی اجرت دی جاتی ہے وہ  متعین کردہ کم از کم اجرت سے بھی کم ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق سب سے کم اجرت ماہی گیری، جنگلات اور زراعت سے وابستہ مزدوروں کو دی جاتی ہے جو ماہانہ تقریباً نو ہزار روپے ہے جبکہ سب سے زیادہ اجرت فنانس، انشورنس اور بزنس کے شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو دی جاتی ہے جو ماہانہ 40 ہزار کے قریب ہے تاہم اس میں سکلڈ اور نان سکلڈ دونوں افراد شامل ہیں۔

اگر تمام شعبہ جات میں کام کرنے والے افراد کی ماہانہ اوسط نکالی جائے تو مردوں کو اوسطاً ماہانہ 19 ہزار روپے جبکہ خواتین کو ماہانہ 12 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔

شوکت انجم کے مطابق جتنے بھی مزدور ان شعبوں میں کام کرتے ہیں، ان کے دیگر حقوق کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا جیسا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ (جو ایک قسم کی پینشن ہے) کی سہولت ان کو نہیں دی جاتی۔

حکومت کم از کم اجرت دینے کو کیسے یقنی بنائے گی؟

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ آئندہ مالی سال یعنی جولائی 2021 سے مزدوروں کی کم از کم اجرت 17 ہزار روپے سے بڑھا کر 21 ہزار ہو جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے جب صوبائی وزیر برائے محنت و ثقافت شوکت یوسف زئی سے پوچھا گیا کہ اس پر عمل درآمد کیسے ممکن بنایا جا سکے گا؟ تو انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس کے لیے ایک طریقہ کار بنایا ہے، جس کے تحت تمام کارخانوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ مزدوروں کو کم از کم طے شدہ اجرت دیں۔

’محکمہ محنت کے ساتھ متعلقہ افسران موجود ہیں، جو کارخانوں پر چیک رکھیں گے اور اس بات کو یقنی بنائیں گے کہ مزدوروں کو ان کی کم از کم ماہانہ اجرت ملتی ہو۔‘

تاہم انہوں نے بتایا کہ اس میں ایک مسئلہ مزدوروں کی طرف سے ہے کہ وہ خود نہیں بتاتے کہ ان کو کم اجرت مل رہی ہے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کو نوکری سے نہ نکال دیا جائے لیکن ہم اپنی طرف سے کوشش کریں گے کہ مزدوروں کو ان کا حق مل سکے۔

مزدوروں کی کم از کم اجرت دینے کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت نے 2013 میں ’خیبر پختونخوا منیمم ویجز ایکٹ‘ کے نام سے ایک قانون پاس کیا تھا، جس کے تحت ایک ویج بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔

اس بورڈ کا کام کم از کم اجرت متعین کرنا اور حکومت کو مزدوروں کے بہتر مفاد میں تجاویز پیش کرنا ہوتا ہے۔

اس قانون کے تحت مزدوروں کو کارخانے کے مالک کی جانب سے ’لونگ الاؤنس‘ دینے کا پابند بنایا گیا ہے جبکہ ہر اس کارخانے کو، جو حکومت سے رجسٹرڈ ہے، مزدور کو ان کی کم از کم اجرت لازمی دینا ہوگا ورنہ قانون کے مطابق ان پر چھ مہینے قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان