’میرے پاس واحد حل پاکستان سے براستہ کابل سعودی عرب پہنچنا تھا‘

افغانستان سفارخانے کے ایک عہدیدار کے مطابق صرف گزشتہ مہینے کے دوران ہزاروں پاکستانیوں نے افغانستان کے ٹرانزٹ ویزا کے لیے درخواست دی ہے جب کہ گزشتہ ہفتے کئی افراد کاغذات جمع کروانے کے لیے پوری رات سفارت خانے کے باہر موجود تھے۔

خیبر پختونخوا ضلع دیر کے رہائشی گل زمین گزشتہ 20 برس سے سعودی عرب میں ایک دکان پر ملازم ہیں۔

وہ عموماً سال میں ایک مرتبہ چھٹیوں پر پاکستان آتے ہیں تاکہ اپنوں سے مل سکیں۔

تاہم  رواں سال چھٹیوں پر آنے کے بعد گل زمین کے دل میں یہ خوف ضرور تھا کہ کہیں سعودی عرب کی حکومت  کرونا وائرس پھیلاؤ کے پیش نظر پاکستانی پروازوں پر پابندی نہ لگا دے، اور یہی ہوا، سعودی عرب نے  اپریل کے مہینے میں پاکستان سے پروازوں پر پابندی لگا دی۔

گل زمین نے تقریبا چار مہینے پاکستان میں گزارے اور اب ان کا ویزا ختم ہونے میں وقت کم ہے جب کہ گھر کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے ان کو سعودی  عرب واپس جانا بھی ضروری ہے۔

گل زمین نے بتایا، 'جتنا کمایا تھا وہ خرچ کر چکا ہوں لیکن ابھی دوبارہ جانا بہت ضروری ہے کیونکہ سعودی عرب ہی سے ہمارے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ اخراجات بھی اتنے ہیں کہ پاکستان میں گزارا کرنا مشکل ہے۔'

سعودی عرب کی جانب سے سفری پابندی کی وجہ سے گل زمین کو کسی نے براستہ کابل سعودی عرب  جانے کا مشورہ دیا  اور یوں وہ پشاور میں قائم افغان  قونصل خانے پہنچ گئے تاکہ کابل کا ویزا لگا کر براستہ کابل سعودی عرب پہنچا جائے۔

گل زمین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغان قونصل خانے میں اتنا رش تھا کہ  ویزا لگانے کے خواہش مند افراد رات کے دو تین بجے قونصل خانے  کے گیٹ کے سامنے پہنچ کر قطار میں کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ صبح قونصل خانہ کھلتے ہی پاسپورٹ جمع کرا دیں۔

انھوں نے بتایا، 'میں ایک مرتبہ صبح سویرے پہنچ کر قطار میں کھڑا ہو گیا اور شام کے چار بجے تک کھڑا رہا لیکن میری باری نہیں آئی اور یوں مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔ اگلے دن دوبارہ کوشش کی اور پاسپورٹ جمع کرانے میں کامیاب ہوگیا۔'

افغانستان کا ویزا لگانے میں پہلے دو تین دن لگتے تھے لیکن جب سے براستہ کابل سعودی عرب جانے کے لیے مسافر جانا شروع ہوئے ہیں تو ابھی ویزا لگنے میں ایک ہفتے سے دس دن لگتے ہیں۔

پشاور میں قائم افغان قونصل خانے کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پہلے ویزا لگانے میں کوئی مشکل نہیں تھی لیکن اب وقت اس لیے لگتا ہے کہ سعودی عرب اب ہم سے مسافروں کا ڈیٹا مانگتا ہے کیونکہ انہیں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خوف ہے اور ہر ایک مسافر کا ڈیٹا چیک ہوتا ہے نیز وہاں پہنچنے پر ان سے کرونا  منفی ٹیسٹ رپورٹ طلب کی جاتی ہے۔

گل زمین کو 15 دن بعد آخر کار افغانستان کا ویزا مل گیا اور ابھی وہ ویکسین لگوانے کے انتظار میں ہیں تاکہ ٹکٹ خرید کر وہ سعودی عرب جا سکیں۔

انھوں نے بتایا، ’سعودی عرب کی جانب سے تجویز کردہ ویکسین  کی پاکستان میں سپلائی کا مسئلہ ہے اور جب وہ یہاں پر فراہم کی جائے گی تو میں سعودی عرب جاؤں گا کیونکہ افغانستان کا ویزا تو پہلے سے لگوا چکا ہوں۔‘

سعودی ایئر لائن کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق کوئی بھی مسافر سعودی عرب جانے سے پہلے فائزر، ایسٹرازینیکا، موڈرنا یا جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین لگوائے گا کیوں کہ سعودی حکومت کی جانب سے چینی ویکسین  سائنو فارم یا سائنو ویک قابل قبول نہیں ہے۔

اسی طرح سفری ہدایات میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ تمام مسافر گزشتہ 72 گھنٹوں کے درمیان کرونا پی سی آر ٹیسٹ بھی سفری کاغذات کے ساتھ جمع کرائیں گے۔

پشاور کی طرح اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے میں بھی پاکستانی مسافروں کا رش لگا رہتا ہے۔

اسلام آباد میں موجود افغانستان کے سفارت خانے کے باہر  ویزے کے لیے لگی لائن میں کھڑے 31 سالہ صہیب صدیقی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان میں سیکیورٹی حالات پر وہ فکر مند ہیں لیکن سعودی عرب جانے کے لیے وہ اس خطرے کو مول لینے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے بتایا، ’سعودی عرب میں نوکری ملنے کے بعد میں 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کما کے پاکستان بھیج سکتا ہوں۔‘

پاکستان سٹیٹ بینک کے مطابق گذشتہ مالی سال میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ ترسیلات پاکستان آئیں جن کی کل مالیت پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر تھی۔ 

افغانستان سفارخانے کے ایک عہدیدار کے مطابق صرف گزشتہ مہینے کے دوران ہزاروں پاکستانیوں نے افغانستان کے ٹرانزٹ ویزا کے لیے درخواست دی ہے جب کہ گزشتہ ہفتے کئی افراد کاغذات جمع کروانے کے لیے پوری رات سفارت خانے کے باہر موجود تھے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو نے پشاور میں افغان کونسلیٹ سے جاننے کی کوشش کی کہ گذشتہ دو ہفتے کے دوران کتنے پاکستانیوں نے افغانستان کے راستے سعودی عرب جانے کی کوشش کی ہے مگر کونسلیٹ کے ایک عہدے دار نے کہا کہ ان کے پاس اس طرح کا ڈیٹا نہیں ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کابل کے ایک ٹریول ایجنٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست پرواز بھی حالیہ دنوں کے دوران منسوخ کی جا چکی ہے۔ سعودی عرب میں رہائش کی اجازت رکھنے والے مزدوروں کو خصوصی پروازوں سے سعودی عرب جانے کی اجازت ہے جس کی قیمت تقریباً 13سو ڈالر یعنی تقریباً دو لاکھ روپے ہے۔

کابل میں  مسافروں کی بڑی تعداد میں آمد ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا جاری ہے جب کہ تشدد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

کابل میں مقیم آبادی کی بڑی تعداد پاکستان کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے جب کہ حکام بھی پاکستان پر طالبان کی عسکریت پسندی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں۔

کابل کے ڈائیگنوسٹک سنٹر میں سعودی عرب جانے کے متمنی پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو کووڈ ٹیسٹ کی رپورٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ٹیسٹنگ سنٹر کے ڈاکٹرصدیق اللہ کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان ، افغانستان کی لیبارٹریز پر بھروسہ کرتے ہیں اور کئی افراد ابھی تک  افغانستان جانے کے لیے پر امید ہے جہاں سے وہ سعودی عرب جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا